کیا حضرت علی کی ساری اولاد سید ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد کتنی تھی اور سید کون ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ
(۱) کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساری اولاد کو سید کہیں گے، یا پھر جو اولادیں خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوئیں، وہ سید کہلائیں گی؟
(۲) خاتونِ جنت حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کتنی اولادیں ہوئی تھیں؟
جواب
(1) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تمام اولاد پاک یعنی بیٹے بیٹیاں سادات ہیں اور ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطنِ مبارک سے پیدا ہونے والی تمام اولاد سید ہے، پھر آگے مولاعلی رضی اللہ عنہ کے دو صاحبزادے، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہماکی اولاد سید کہلاتی ہے۔
(2) حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ٹوٹل پانچ اولادیں ہوئیں:
تین بیٹے ہوئے، جن کے نام یہ ہیں: (۱) حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ، (۲) حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، (۳) حضرت امام محسن رضی اللہ عنہ (یہ بچپن میں ہی وفات پاچکے تھے)۔
دو بیٹیاں ہوئیں، جن کے نام یہ ہیں: (۱) حضرت زینب کبرٰی رضی اللہ عنہا، (۲) حضرت ام کلثوم کبرٰی رضی اللہ عنہا۔
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: و نقل اللفاني في شرح جوهرته أنه يطلق على مؤمني بني هاشم أشراف، و الواحد: شريف كما هو مصطلح السلف، و إنما حدث تخصيص الشريف بولد الحسن و الحسين فی مصر خاصة في عهد الفاطميين‘‘ ترجمہ: لفّانی نے اپنی شرح جوہرہ میں نقل کیا ہے کہ بنو ہاشم میں سے جو لوگ ایمان والے ہوں، انہیں اشراف (سادات) کہا جاتا ہے، اور ایک فرد کو شریف (سید) کہا جاتا ہے جیسا کہ سلف صالحین کی اصطلاح ہے۔ اور شریف (سید) کا لفظ مصر میں فاطمی خلفاء کی خلافت کے زمانے میں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد کے ساتھ خاص ہوگیا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 12، دار الکتب العلمیہ، بیروت(
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: سبطین کریمین(حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما) کی اولاد سیّد ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 361، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اولاد پاک کی تفصیل سے متعلق البدایۃ و النہایۃ میں ہے: فأول زوجة تزوجها علي، رضي اللہ عنه، فاطمة بنت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، بنى بها بعد وقعة بدر، فولدت له الحسن و حسينا، و يقال: و محسنا. و مات و هو صغير، و ولدت له زينب الكبرى، و أم كلثوم‘‘ ترجمہ: پہلی زوجہ جن سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا تھیں۔ غزوہ بدر کے بعد آپ کی رخصتی ہوئی۔ ان سے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہما پیدا ہوئے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت محسن بھی پیدا ہوئے تھے، مگر وہ بچپن ہی میں وفات پا گئے۔ اور (دو بیٹیاں)حضرت زینب کبریٰ اور حضرت ام کلثوم (کبری) پیدا ہوئیں۔ (البدایۃ و النھایۃ، جلد 7، صفحہ 332، دار المعارف، بیروت)
امام احمد بن عبد الله طبری رحمۃ اللہ علیہ الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ میں لکھتے ہیں: و كان له من الولد أربعة عشر ذكرًا، وثمان عشرة أنثى.ذكر الذكور: الحسن و الحسين و قد استوعبنا ذكرهما في مناقب ذوي القربى، ولهما عقب، و محسن مات صغيرًا، أمهم فاطمة بنت رسول اللہ -صلى اللہ عليه وسلم-… ذكر الإناث: أم كلثوم الكبرى و زينب الكبرى شقيقتا الحسن و الحسين ملتقطاً۔ ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں چودہ بیٹے اور اٹھارہ بیٹیاں تھیں۔ بیٹوں کا ذکر: حسن اور حسین۔ ان دونوں حضرات کا ذکر ہم مناقبِ ذوی القربیٰ میں کر چکے ہیں، اور انہی دونوں کی نسل آگے چلی۔ اور (ایک بیٹے) محسن (بھی) تھے۔ بچپن ہی میں وفات پا گئے۔ ان تینوں کی والدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھیں۔ بیٹیوں کا ذکر: ام کلثوم کبریٰ اور زینب کبریٰ تھیں، جو حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی حقیقی بہنیں تھیں۔ (الریاض النضرۃ، جلد 3، صفحہ 240، 239،دارالکتب العلمیہ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1256
تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام 1448ھ / 07 جولائی 2026ء