logo logo
AI Search

کیا اولیاء کرام کی کرامات وفات کے بعد بھی جاری رہتی ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اولیائے کرام کی کرامات وفات کے بعد بھی جاری رہتی ہیں یا ختم ہوجاتی ہیں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتےہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اولیاء کی وفات کے بعد بھی ان کی کرامات جاری رہتی ہیں یا ختم ہو جاتی ہیں؟ براہِ کرم اس بارے میں دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں؟

جواب

اولاً کرامت کی تعریف ذہن نشین کر لیجئے:

کرامت اس خلافِ عادت کام کو کہتے ہیں،جو ولی سے ظاہر ہو اور یہی چیز نبی سے ظاہر ہو تو معجزہ کہلاتی ہے۔ پھر اہل سنت وجماعت کا مذہب یہ ہے کہ کرامت کا ظہور جس طرح ولی کی زندگی میں ہوتا ہے،یونہی وفات کے بعد بھی ہوتا رہتا ہے۔

دلیل اس کی یہ ہے کہ ولی کی زندگی میں اس سے کرامت کو ظاہر کرنے والی ذات اللہ پاک کی ہے، پس جو رب عزوجل ولی کی زندگی میں کرامت کو ظاہر کرنے پر قادر ہے، وہ ولی کی وفات کے بعد بھی اس کے ظہور پر قادر ہے،بلکہ علماء نے فرمایا کہ بعدِ وفات کرامت کا ظہور بدرجہ اولیٰ ممکن ہے، کیونکہ دنیوی زندگی کے بعد انسان عالمِ برزخ میں چلا جاتا ہے اور وہاں نفس دنیاوی کُدورتوں سے پاک ہوچکا ہوتا ہے۔ بعدِ وفات کثیر صحابہ و اولیاء کی کرامات ظاہر بھی ہوئیں،علماء نے خاص اس موضوع پر کتابیں لکھی اور ان میں بطورِ ثبوت ان کرامات کو ذکر فرمایا۔

اس بارے میں تفصیل و جزئیات درج ذیل ہیں:

کرامت کی تعریف اور بعدِ وفات اس کے ثبوت پر علماء کا کلام:

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی علیہ الرحمۃ (وصال: 793ھ) ولی اور کرامت کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’الولی ھو العارف باللہ تعالی، الصارف ھمتہ عما سواہ، و الکرامۃ ظھور امر خارق للعادۃ من قبلہ بلا دعوی النبوۃ‘‘ ترجمہ: ولی وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہو اور ماسوی اللہ سے اپنی ہمت اور توجہ کوپھیر دے اور کرامت ولی کی طرف سے بغیر دعویٰ نبوت کئےخلاف عادت کام ظاہر ہونے کو کہتے ہیں۔ (شرح مقاصد، ج 5، ص 72، مطبوعہ، عالم الکتب)

امام عبد الباقی المقدسی الحنفی علیہ الرحمۃ (وصال: 1078ھ)بعدِ وفات ثبوتِ کرامت کے بارے میں علامہ ابنِ شحنہ علیہ الرحمہ کے حوالہ سے فرماتے ہیں: ’’ومن قولہ " لان المنح الالٰھیۃ لم تنقطع عن الاولیاء بموتھم"وقوع کرامات الاولیاءبعد موتھم و جوازھا، لان المنح ھی العطایا والاکرام التی خصّھا اللہ تعالی لھم و من جملتھا الکرامات و لقد اعتضد ھذا بما وقع لکثیر من الاولیاء بعد موتھم الکرامات، کماھو منقول من القوم کالرسالۃ للقشیری وغیرھا ولا ینکر ذلک،الا جاحد للکرامات ۔ ۔ و قال المغربی: ۔ ۔ و الظاھر استمرار الکرامات لھم بعد موتھم فی البرزخ،بل ھو اولی من حال حیاتھم،لصفاء نفوسھم عن الاکدار و قد شوھدت کثرۃ الکرامات من کثیر منھم بعد الممات‘‘

ترجمہ: علامہ ابنِ شحنہ علیہ الرحمہ کے اس قول "اولیاء کی وفات کے بعد ان سے اللہ پاک کی عطائیں ختم نہیں ہوتی"سے اولیاء کی وفات کے بعد ان سے کرامات کا واقع اور جائز ہونا ثابت ہوتا ہے، کیونکہ "المنح" کا معنی عطائیں اور وہ اکرام ہے،جو اللہ پاک نے اولیاء کے لئے خاص فرمایا ہے اور انہی میں سے کرامات بھی ہیں۔ تحقیق اس دعویٰ کی تائید ان کرامات سے بھی ہوتی ہے،جو بہت سے اولیاء سے ان کی وفات کے بعد صادر ہوئی ہیں،جیسا کہ ایسی کرامات ایک جماعت سے منقول ہیں، رسالہ قشیریہ وغیرہ میں بھی موجود ہیں۔ اور مغربی نے کہا: اور ظاہر یہی ہے کہ اولیاء کی وفات کے بعد عالمِ برزخ میں بھی ان کی کرامات جاری رہتی ہیں،بلکہ اس وقت کرامات کا ظہور ان کی زندگی کی حالت سے بھی اَولیٰ ہے، کیونکہ ان کی ارواح دنیاوی کدورتوں سے پاک ہو جاتی ہیں اور تحقیق وفات کے بعد بہت سے اولیاء سے کثرت کے ساتھ کرامات کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ (السیوف الصقال، ص 428 تا 431، ملتقطاً، مطبوعہ،دار الآثار الاسلامیہ، بربلی، سریلانکا)

علامہ شہاب الدین احمد بن احمد السجاعی الشافعی علیہ الرحمۃ (وصال: 1197ھ) فرماتے ہیں: ’’لا فرق فی اظھارھا علی ید احد منھم بین کونہ حیا و میتاو انکار اھل الجھل والبھتان وقوعھا علی ید الاموات لاعتقادھم الفاسد‘‘ ترجمہ:اولیاء کے ہاتھ پر کرامات کے اظہار کے معاملہ میں زندہ و مردہ ہونے کا کوئی فرق نہیں اور جاہل اور جھوٹے لوگوں کا وفات کے بعد اولیاء سے کرامات واقع ہونے کا انکار کرنا، ان کے فاسد اعتقاد کی وجہ سے ہے۔ (السھم القوی، ص 395 تا 398،ملتقطا، مطبوعہ،دار الآثار الاسلامیہ، بربلی، سریلانکا)

امام برہان الدین ابراہیم باجوری الشافعی علیہ الرحمۃ (وصال: 1276ھ) فرماتے ہیں: ’’اعتقد ثبوت الکرامۃ للاولیاء بمعنی جوازھا و وقوعھا لھم فی الحیاۃ وبعد الموت،کما ذھب الیہ جمھور اھل السنۃ و لیس فی مذھب من المذاھب الاربعۃ قول بنفیھا بعد الموت، بل ظھورھا حینئذ اولی،لان النفس حینئذ صافیۃ من الاکدار‘‘ ترجمہ: اولیاء کے لئے کرامات کے ثبوت کا اعتقاد اس معنی میں ہے کہ اولیاء کے لئے کرامات کا جواز اور ان کا واقع ہوناان کی زندگی و موت دونوں میں ہوتا ہے، جیسا کہ اس کی طرف جمہور اہلسنت گئے ہیں اور چاروں مذاہب میں سے کسی بھی مذہب میں موت کے بعد کرامات کی نفی کا کوئی قول نہیں،بلکہ موت کے بعد کرامات کا ظہور بدرجہ اولیٰ درست ہے، کیونکہ اس وقت نفس کدورتوں سے صاف ہوچکا ہوتا ہے۔ (حاشیہ بیجوری علی جوھرۃ التوحید، ص 252، مطبوعہ، دار السلام للطباعۃ و النشر و التوزیع)

اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”اولیاء کی کرامتیں، اولیاء کے تصرف بعدِ وصال بھی بدستور ہیں۔ ۔ علامہ نابلسی قدس سرہ نے حدیقہ ندیہ میں فر مایا: ’’کرامات الاولیاء باقیۃ بعد موتھم ایضا ومن زعم خلاف ذلک فھو جاھل متعصب و لنا رسالۃ فی خصوص اثبات الکرامۃ بعد موت الولی، ملخصاً‘‘ ترجمہ: اولیاء کی موت کے بعد بھی ان کی کرامتیں باقی رہتی ہیں، جو اس کے خلاف اعتقاد رکھے،وہ جاہل، ہٹ دھرم ہے۔ہمارا خاص طور پر ولی کی وفات کے بعد اس کی کرامت کے ثبوت پر رسالہ بھی ہے۔

شیخ مشائخنا، رئیس المدرسین بالبلد الامین، مولٰنا جمال بن عبد اللہ بن عمر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:’’ قال العلامۃ الغنیمی و ھو خاتمۃ محققی الحنفیۃ:اذاکان مرجع الکرامات الی قدرۃ اللہ تعالی کما تقرر فلا فرق بین حیاتھم و مماتھم (الی ان قال) قد اتفقت کلمات علماء الاسلام قاطبۃً علی ان معجزات نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لا تحصر، لان منھا ما اجراہ اللہ تعالی ویجریہ لاولیائہ من الکرامات احیاءً و امواتاً الی یوم القیمۃ‘‘ ترجمہ: علامہ غنیمی علیہ الرحمۃ (جو حنفی محققین کے خاتم ہیں) نے فرمایا: جب کرامات کا مرجع قدرتِ الٰہی ہے، جیسا کہ ثابت ہوچکا، تو اس معاملہ میں اولیاء کی حیات و وفات میں کوئی فرق نہیں، (یہاں تک کہا کہ) تمام علمائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات محدود نہیں ہیں، کیونکہ جن کرامات کو اللہ پاک نے اولیاء کی زندگی و وفات کی حالت میں جاری فرمایا ہے اور قیامت تک جاری فرمائے گا،وہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہی ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 9، ص 766 تا 767، ملتقطاً، مطبوعہ، رضا  فاؤنڈیشن، لاہور)

صحابہ و اولیاء کی وفات کے بعد ظاہر ہونے والی چند کرامات کا تذکرہ:

(1) صحابیِ رسول، حضرتِ سیدنا عاصم رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد شہد کی مکھیوں کاآپ کے جسم کی حفاظت کرنا:

حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرتِ عاصم رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’بعث ناس من كفار قريش الى عاصم حين حدثوا انه قتل، ليؤتوا بشیء منه يعرف و كان قد قتل رجلا من عظمائهم يوم بدر، فبعث على عاصم مثل الظلة من الدبر،فحمته من رسولهم،فلم يقدروا على ان يقطع من لحمه شيئا‘‘ ترجمہ: جب کفارِ قریش کو بتایا گیا کہ حضرت عاصم رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے،تو ان میں سے کچھ لوگ حضرت عاصم رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف بھیجے گئے، کہ وہ آپ کے جسم کے کسی حصہ کو کاٹ کر لائیں، تا کہ پتہ چل سکے (کہ واقعی ان کو قتل کر دیا گیا ہے) کیونکہ حضرت عاصم رضی اللہ تعالی عنہ نے بدر کے دن قریش کے سرداروں میں سے ایک شخص کو قتل کیا تھا۔ پس اللہ پاک نے حضرت عاصم رضی اللہ تعالی عنہ کے جسم پر سائبان کی طرح شہد کی مکھیوں کا ایک جھنڈ بھیج دیا، جس نے آپ کے جسم کو کفار سے بچا کر رکھا،جس کی وجہ سے وہ آپ کے جسم میں سے کچھ بھی کاٹنے پر قادر نہ ہو سکے۔ (صحیح بخاری، ج 5، ص 78، مطبوعہ، دار طوق النجاۃ)

(2) صحابی رسول، حضرت سیدنا حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بعدِ  وفات فرشتوں کا غسل دینا:

جب حضرتِ حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہوئے،تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ان صاحبكم تغسله الملائكة، فسألوا صاحبته فقالت: انه خرج لما سمع الهائعة و هو جنب،فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم:لذلك غسلته الملائكة‘‘ ترجمہ: بے شک تمہارے ساتھی کو فرشتے غسل دے رہے ہیں،پس صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ان کی زوجہ سے سوال کیا،تو انہوں نے کہا: حضرتِ حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہ جنابت کی حالت میں تھے، انہوں نے جیسے ہی جہاد میں جانے کا سنا، تو اسی حالت میں جہاد کے لئے نکل گئے۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے حضرتِ حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرشتوں نے غسل دیا ہے۔ (مستدرک علی الصحیحین،ج3،ص225،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت)

ا س حدیثِ پاک کے تحت حضرتِ علامہ مولاناعبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ’’فرشتوں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت کے بعد غسل دیا، یہ آپ کی بہت بڑی کرامت اورنہایت ہی عظیم الشان فضیلت ہے۔‘‘(کراماتِ صحابہ، ص 202، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

(3) بعدِ موت قبر میں تلاوت کرنا:

حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی،وہ فرماتے ہیں:’’ضرب بعض اصحاب النبی صلى اللہ عليه و سلم خباءه على قبر و هو لا يحسب انه قبر،فاذا فيه انسان يقرأ سورة تبارك الذی بيده الملك حتى ختمها، فاتى النبی صلى اللہ عليه و سلم، فقال:يا رسول اللہ! انی ضربت خبائی على قبر وانا لا احسب انه قبر، فاذا فيه انسان يقرأ سورة تبارك الملك حتى ختمها، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم:هی المانعة، هی المنجية، تنجيه من عذاب القبر‘‘

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے ایک قبر پر خیمہ نصب کر لیا، ان کویہ معلوم نہیں تھا کہ یہ قبر ہے، اس قبر میں کوئی شخص سورہ ملک پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے اسے مکمل کر لیا۔ پس وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ایک قبر پر خیمہ نصب کر لیا،مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ قبر ہے،اس میں ایک شخص سورہ ملک پڑھ رہا تھا، یہاں تک اس نے اسے ختم کر دیا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عذابِ قبر کو روکنے والی اور اس سے بچانے والی ہے۔ (جامع ترمذی، ج5، ص 164، مطبوعہ مصر)

اس حدیثِ پاک کے تحت امام شہاب الدین احمد بن محمد الحموی الحنفی علیہ الرحمۃ(وصال: 1098ھ) ارشاد فرماتے ہیں: ’’و ھذا دلیل علی وقوع الکرامۃ بعد الموت بتقریرہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حیث اقر قراءۃ المیت سورۃ الملک وقال:ھی المانعۃ ھی المنجیۃ من عذاب القبر وتقریرہ دلیل شرعی تثبت بہ الاحکام کما تقرر فی محلہ من الاصول‘‘ ترجمہ: یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تقریر (یعنی یہ واقعہ سن کر اسے برقرار رکھنے) کے سبب موت کے بعد کرامت واقع ہونے کی دلیل ہے،کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میت کے قرآن پڑھنے کو ثابت رکھا (اِس کا انکار نہیں کیا) اور مزید فرمایا: یہ سورت عذابِ قبر کو روکنے اور اس سے بچانے والی ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی چیز کو برقرار رکھنا ایسی شرعی دلیل ہے کہ جس سے احکام ثابت ہوتے ہیں، جیسا کہ اصول کی کتابوں میں یہ بات اپنی جگہ موجود ہے۔(نفحات القرب و الاتصال، ص 314، مطبوعہ، دار الآثار الاسلامیہ، بربلی، سریلانکا)

(4) نجاشی بادشاہ کی قبر پر نور دکھائی دینا:

حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ارشاد فرماتی ہیں: ’’لما مات النجاشی، كنا نتحدث انه لا يزال يرى على قبره نور‘‘ ترجمہ: جب نجاشی بادشاہ کا انتقال ہوا، تو ہم یہ چرچا کرتے تھے کہ ہمیشہ اس کی قبر پر نور دیکھا جاتا ہے۔ (سننِ ابی داؤد، ج 3، ص 16، مطبوعہ المکتبۃ العصریہ، بیروت)

اس حدیثِ پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’یعنی اصحمہ شاہِ حبشہ، جن کا لقب نجاشی تھا، جب وہ وفات پا گئے،تو عرصہ تک عام لوگوں نے آپ کی قبر پر ظاہر ظہور نور دیکھا،امیر علی نے حاشیہ اشعۃ اللمعات میں لکھا کہ یہ نور حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حبشہ کے قیام کے زمانہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور عام لوگوں نے بھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کرامت بعدِ وفات بھی ظاہر ہوسکتی ہے، بلکہ ہوتی ہے، کچھ عرصہ بعد یہ کرامت بند ہوگئی،صاحبِ دلائلِ خیرات شریف محمد سلیمان جزولی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر سے عرصہ تک مشک کی خوشبو آتی رہی، پھر ہلکی پڑ گی، پھر بند ہوگئی۔‘‘ (مراٰۃ المناجیح، ج 8، ص 273 تا 274، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

(5) حضرتِ ثابت بنانی علیہ الرحمۃ کا بعدِ دفن قبر میں نماز پڑھنا:

امام اسمٰعیل بن محمد الاصبہانی علیہ الرحمۃ (وصال: 505ھ) سیر السلف الصٰلحین (ص 717، مطبوعہ، ریاض) میں، امام سراج الدین ابو حفص عمر بن علی الشافعی علیہ الرحمۃ (وصال: 804ھ) طبقات الاولیاء (ص 125، مطبوعہ، قاہرہ) میں اور امام ابو نعیم الاصبہانی علیہ الرحمۃ (وصال: 430ھ) حضرتِ شیبان کے والد علیہما الرحمۃ کا بیان نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ’’انا و اللہ الذی لا اله الا هو !ادخلت ثابتا البنانی لحده ومعی حميد الطويل ۔ ۔  قال: فلما سوينا عليه اللبن سقطت لبنة،فاذا انا به يصلی فی قبره، فقلت للذی معه: الا ترى؟ قال: اسكت،فلما سوينا عليه و فرغنا اتينا ابنته، فقلنا لها:ما كان عمل ابيك ثابت؟ فقالت: و ما رايتم؟فاخبرناها فقالت: كان يقوم الليل خمسين سنة،فاذا كان السحر قال فی دعائه: اللّٰهم! ان كنت اعطيت احدا من خلقك الصلاة فی قبره فاعطنيها، فما كان اللہ ليرد ذلك الدعاء ‘‘

ترجمہ: اللہ کی قسم، جس کے سوا کوئی معبود نہیں!میں نے حضرتِ ثابت بنانی علیہ الرحمہ کو قبر میں اتارا، میرے ساتھ حمید طویل بھی تھے، جب ہم نے ان کی قبر پر اینٹیں لگا دیں، تو ایک اینٹ گِر گئی،میں نے انہیں قبر میں نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے ساتھ والے سے کہا: کیا تم نے بھی کچھ دیکھا ہے، تو اس نے کہا: خاموش ہو جاؤ۔ جب ہم اینٹیں لگا کر فارغ ہوئے، تو ان کی بیٹی کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے والد کون سا عمل کرتے تھے؟ اس نے کہا: تم نے ان کے حوالہ سے کیا دیکھا ہے؟ ہم نے انہیں بتا دیا۔ اس نے کہا:وہ پچاس سال تک رات میں قیام کرتے رہے، جب سحری کا ٹائم ہوتا،تو یوں دعا کرتے تھے: اے اللہ! اگر تو مخلوق میں سے کسی کو قبر میں نماز کی توفیق عطا فرمائے، تو مجھے بھی عطا فرمانا۔ پس اللہ پاک نے آپ کی دعا کو رد نہیں فرمایا۔ (حلیۃ الاولیاء، ج 2، ص 319، مطبوعہ، بیروت)

نوٹ: اس بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے ’’جمع المقال فی اثباب کرامات الالیاء فی الحیاۃ و بعد الانتقال‘‘ کا مطالعہ فرمائیں،اس میں اس موضوع پر دس رسائل موجود ہیں۔

مزید امام ابو القاسم ہبۃ اللہ طبری علیہ الرحمۃ (وصال: 418ھ)کی کتاب ’’کرامات الاولیاء‘‘

امام یوسف بن اسمٰعیل نبہانی علیہ الرحمۃ(وصال: 1350ھ) کی کتاب ’’جامع کرامات  اولیاء‘‘

اور علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمۃ(وصال: 1406ھ) کی اردو کتاب ’’کراماتِ صحابہ‘‘ کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد فرحان افضل عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Pin-7320
تاریخ اجراء: 14 ربیع الثانی 1445ھ / 30 اکتوبر 2023ء