logo logo
AI Search

کیا حسنین کریمین اور امیر معاویہ علیہم الرضوان کی دشمنی تھی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے ساتھ اظہار عقیدت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا حضراتِ حسنین کریمین اور حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان دشمنی تھی؟

جواب

حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضراتِ حسنین کریمین (سیدنا اما م حسن اور سیدنا امام حسین) رضی اللہ عنہما کے درمیان دشمنی نہیں، بلکہ باہمی محبت، الفت اور احترام کا تعلق تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضراتِ حسنین کریمین سے بڑی بہت محبت فرماتے، اُن کے ساتھ نہایت تعظیم و احترام سے پیش آتے اور اُن کے فضائل و مناقب بیان فرماتے تھے۔ مزید یہ کہ حضراتِ حسنین کریمین کی بارگاہ میں بڑی عاجزی کے ساتھ نذرانے پیش فرماتے تھے اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما بھی اُن کی طرف سے نذرانوں کو قبول فرماتے تھے۔ یہ سارے طرز عمل اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اُن کے درمیان دشمنی نہیں تھی، کیونکہ دشمن نہ اس درجہ احترام کرتا ہے، نہ محبت و اِکرام کا اظہار کرتا ہے اور نہ ہی اس کے ہدیے قبول کیے جاتے ہیں۔ اِن حضرات کے درمیان باہمی محبت و الفت نیچے درج ذیل دلائل سے اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کا بڑے شاندار طریقے سے استقبال فرماتے تھے، چنانچہ طبقات الکبری لابن سعد میں ہے: ’’أن معاوية بن أبی سفيان كان يلقى الحسين فيقول: مرحبا و أهلا بابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم. و يأمر له بثلاث مائة ألف‘‘ ترجمہ: حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرتے تو فرماتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرزند، مرحبا، اہلا و سہلًا! پھر آپ کے لیے تین لاکھ درہم عطیہ کرنے کا حکم فرماتے تھے۔ (الطبقات الکبری لابن سعد، جلد 1، صفحہ 397، مكتبة الصديق، الطائف)

حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کےحضرتِ حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کرنے سے متعلق مسند احمد کی حدیث پاک ہے: ’’عن معاوية، قال: رأيت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم " يمص لسانه - أو قال: شفته، يعنی الحسن بن علی، و إنه لن يعذب لسان أو شفتان مصهما رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم‘‘ ترجمہ: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا کہ آپ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی زبان مبارک چوس رہے تھے، یا فرمایا کہ آپ کے ہونٹ مبارک چوم رہے تھے۔ اور جس زبان یا جن ہونٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لبوں سے لگایا ہو، انہیں ہرگز عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (مسند احمد،مسند الشامیین، حدیث معاویہ بن ابی سفیان، جلد 28، صفحہ 61، رقم الحدیث: 16848، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہ کو چار لاکھ درہم کا نذرانہ پیش فرمایا، چنانچہ تاريخ دمشق لابن عساکر میں ہے: ’’عن عبد اللہ بن بريدة قال قدم الحسن بن علي بن أبي طالب على معاوية فقال لأجيزنك بجائزة ما اجزت بها أحدا قبلك و لا اجيز بها أحدا بعدك فأعطاه اربع مائة ألف درهم‘‘ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں آج آپ کو ایسا نذرانہ پیش کروں گا کہ نہ آپ سے پہلے کسی کو ایسا نذرانہ دیا ہے اور نہ آپ کے بعد کسی کو ایسا نذرانہ دوں گا"۔ چنانچہ آپ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چار لاکھ درہم پیش فرمائے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 13، صفحہ 166، دار الفکر، بیروت)

بعض روایات میں چالیس کروڑ درہم کا نذرانہ پیش فرمانا مذکور ہے، چنانچہ البدایہ و النہایہ، سیر اعلام النبلاء اور مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’و اللفظ للمرقاۃ:’’أن الحسن دخل على معاوية فقال لأجيزنك بجائزة لم أجز بها أحدا قبلك و لا أجيز بها أحدا بعدك، فأجازه بأربع مائة ألف ألف فقبلها‘‘ ترجمہ: حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا": میں آج آپ کو ایسا نذرانہ دوں گا کہ نہ آپ سے پہلے کسی کو ایسا نذرانہ دیا ہے اور نہ آپ کے بعد کسی کو ایسا نذرانہ دوں گا۔" چنانچہ آپ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چالیس کروڑ درہم پیش فرمائے، اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے وہ نذرانہ قبول فرما لیا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 3970، دار الفکر، بیروت)

امام حسن رضی اللہ عنہ کے تشریف لانے پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اُنہیں اپنی جگہ بٹھاتے اور خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے تھے، چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں لکھتے ہیں: ’’(حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ،حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو طے شدہ) سالانہ وظیفہ دیتے رہے، اس کے علاوہ (بھی) اکثر عطیہ نذرانے پیش کرتے رہتے تھے۔ ایک بار فرمایا کہ آج میں آپ کو وہ نذرانہ دیتا ہوں جو کبھی کسی نے کسی کو نہ دیا ہو۔ چنانچہ آپ نے ’’اربعۃ مائۃ الف الف‘‘ نذرانہ کیے یعنی چالیس کروڑ روپیہ۔جب امام حسن امیر معاویہ کے پاس آتے تو امیر معاویہ انہیں اپنی جگہ بٹھاتے خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے،کسی نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ امام حسن ہم شکل مصطفی ہیں صلی الله علیہ وسلم اس مشابہت کا احترام کرتا ہوں۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد 8، صفحہ 461، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’امیر معاویہ پر ایک نظر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’سرتاج اولیاء، سندِ اصفیاء، حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش لاہوری قدس سرہ العزیز اپنی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ باب ذکر اہل البیت میں صفحہ ۵۸ پرحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں (فارسی عبارت کا ترجمہ): ’’ایک دن ایک آدمی امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا کہ اے رسول کے فرزند میں فقیر بال بچے دار ہوں۔ آج رات کی روٹی چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا: ٹھہرو! ہمارا رزق راستہ میں ہے وہ پہنچ جانے دو، زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے آپ کی خدمت میں پانچ تھیلیاں پہنچیں، ہر ایک میں ہزار ہزار اشرفیاں تھیں اور لانے والوں نے پیغام دیا کہ معاویہ معذرت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معمولی نذرانہ اپنی معمولی ضرورتوں میں خرچ فرمادیں۔ اس کے بعد اس سے بہت زیادہ حاضر کیا جائےگا۔ حسین رضی اللہ عنہ نے اس فقیر کی طرف اشارہ فرمایا اور پانچوں تھیلیاں اسے بخش دیں۔

(اس واقعہ کے بعد مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ) دا تا صاحب قدس سرہ نے اس واقعہ میں چند باتیں بتا ئیں۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کا غیب کا حال جاننا کہ آئندہ (کے معاملے) کی خبر دے دی۔ (دوسری یہ کہ) امیر معاویہ کی اہل بیت اطہار سے نیاز مندی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھاری نذرانہ پیش فرمایا کرتے تھے، اپنے خزانہ کے منہ اہل بیت اطہار کے لئے کھول دیئے تھے۔ خیال رہے کہ یہ ہد یہ خالص نذرانہ تھا۔ سالانہ وظیفہ امام حسن رضی اللہ عنہ کا مقرر ہوا تھا،نہ کہ امام حسین کا۔ (امیر معاویہ پر ایک نظر، صفحہ 95، 94، جمعیت اشاعت اہلسنت کراچی، پاکستان)

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحائف قبول فرمایا کرتے تھے، چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے: ’’عن جعفر بن يحيى، عن أبيه، أن الحسن، و الحسين: «كانا يقبلان جوائز معاوية»‘‘ ترجمہ:جعفر بن یحییٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحائف قبول فرمایا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 4، صفحہ 296، رقم الحدیث: 20330،دار التاج، بیروت)

اوپر کی تمام روایات سے بخوبی سمجھاجاسکتا ہے کہ حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضراتِ حسنین کریمین (سیدنا اما م حسن اور سیدنا امام حسین) رضی اللہ عنہما کے درمیان دشمنی نہیں، بلکہ باہمی محبت، الفت اور احترام کا تعلق تھا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1287
تاریخ اجراء: 21 صفر المظفر 1448ھ / 05 اگست 2026ء