میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں - حدیث
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ کیا یہ حدیث ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نبی پاک، صاحب لولاک صلی اللہ علیہ و سلم کا علماء کرام کی شان میں کوئی ایسا فرمان موجود ہے کہ میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں؟ اگر یہ حدیث پاک ہے تو اس کا مطلب بیان کردیں؟
سائل: محمد عرفان (جوہر ٹاون، لاہور)
جواب
جی ہاں! شانِ علمائے اسلام میں یہ حدیث مبارک ثابت ہے کہ تاجدار رسالت، حضور جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی: میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ اور علماء کرام کی ایک تعداد نے اس حدیث کے مرفوع ہونے پر جزم کیا ہے۔ چنانچہ حضرت علامہ فخر الدین، ابو عبد الله محمد بن عمر رازی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 606هـ) اپنی مشہور زمانہ تفسیر، تفسیر کبیر میں متعدد مقامات پر تحریر فرماتے ہیں: قال عليه السلام: علماء أمتي كأنبياء بني إسرائيل۔ یعنی: میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیاکی طرح ہیں۔ (تفسیر کبیر، جلد 19، صفحہ 75، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
جن علماء کرام نے اس حدیث کو مرفوع ذکر کیا ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں، چنانچہ حضرت علامہ بدر الدين ابو محمد محمود بن احمد حنفى عینی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 855ھ) نے البناية شرح الهداية (ج 1، ص 116) میں، حضرت علامہ ابو المعالی برهان الدين محمود بن احمد بخاری حنفى رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 616ھ) نے المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں، حضرت علامہ نظام الدين حسن بن محمد نيشا پوری (سال وفات: 850ھ) نے اپنی تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان (ج 1، ص 330) میں، حضرت علامہ ابو الفداء اسماعيل بن مصطفی حقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1127ھ) نے اپنی تفسیر روح البیان میں، حضرت علامہ ابو العباس احمد بن محمد ابن عجیبہ حسنی الفاسی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1224ھ) نے البحر المديد في تفسير القرآن المجيد میں، حضرت علامہ محقق علی الاطلاق حضرت علامہ شیخ عبد الحق دهْلوي رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 1052) نے لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح (ج 9، ص 533) میں، حضرت علامہ حاجی خلیفہ، مصطفی بن محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کشف الظنون (ج، 1 ص 1) میں مرفوعا اس حدیث کو نقل کیا، نیز امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو فتاوی رضویہ (ج 28، ص 410) اور المعتمد المستند حاشیہ المعتقد المنتقد (ص 217) پر امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے فضائل کے ضمن میں بیان فرمایا ہے۔
مفہوم: اس حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں پے در پے انبیاء کرام علیہم السلام کی تشریف آوری ہوئی اور انہوں نے شریعت موسوی کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیا، اس کی تبلیغ و اشاعت کی، راہ خدا سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو برائی سے بچنے اور نیکی کرنے کا درس دیا، حق کی سچی طلب اور توجہ الی اللہ کے سبب دونوں جہانوں سے اعراض کیا، قیامت میں اپنی امتوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے اور ان کی دعائیں ان کے امتیوں کے حق میں مقبول ہوتی تھیں، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم چوں کہ خاتم النبیین ہیں حضورعلیہ السلام کے بعد کوئی اور نبی پیدا نہ ہوگا تو حضور علیہ السلام کی امت کے علماء شریعت محمدیہ کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیں گے، اس کی تبلیغ و اشاعت کریں گے، خلق خدا کو خدا تعالی تک پہنچانے کے لیے ان کو برائیوں کی دلدل سے نکال کر نیکیوں کے باغات میں پہنچائیں گے، خود متوجہ الی اللہ اور حق کے سچے طالب ہوکر دونوں جہانوں سے بیگانے ہوں گے اور ان کی دعائیں اللہ پاک مسلمانوں کے حق میں قبول فرمائے گا اور ان کو قیامت میں حضور علیہ السلام کے صدقے میں شفاعت کامنصب دیا جائے گا۔
اس حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ امام جلیل نجم الدین محمدبن محمد غزی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 1061ھ) فرماتے ہیں: علماء أمتي كأنبياء بني إسرائيل؛ أي: في تقرير الشرائع و فهم الأحكام، لا في النبوة“ یعنی: میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں، یعنی علماء کرام شریعت مطہرہ کو بیان کرنے اور احکام سمجھنے کے اعتبار سے انبیاء کرام کی مانند ہیں، نہ کہ نبوت کے معاملے ( میں انبیاء کی طرح ہیں۔) ( حسن التنبیہ لماورد فی التشبیہ، جلد 5، صفحہ 270، دار النوادر، سوريا)
اس حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ ابو الفداء اسماعيل بن مصطفی حقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1127ھ) تحریر فرماتے ہیں: اى فى صدق طلب الحق بالاعراض عن الكونين و التوجه الى اللہ تعالى“ ترجمہ: (یعنی علماء اسلام) دونوں جہانوں سے منہ موڑ کر حق کی سچی طلب اور اللہ عزوجل کی طرف متوجہ ہونے میں انبیاء کرام علیہم السلام کی مانند ہیں۔ (روح البيان، جلد 5، صفحہ 466،: دار الفكر – بيروت)
شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ہاں یہ حدیث صحیح ہے: علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں یہ طریقہ تھا کہ ایک نبی کے تشریف لے جانے کے بعد دوسرا نبی اس کی جگہ تشریف لاتا اور قوم کی ہدایت کرتا، ان کے دین و ایمان کی حفاظت کرتا، اور ہر ہر قوم کے جدا جدا نبی ہوتے۔ ایک ایک وقت میں کثیر انبیائے کرام موجود ہوتے تھے اور یہ سب شریعت موسوی کے پابند اور اس کے محافظ تھے، سوائے حضرت عیسی ٰعلیہ السلام کے۔ اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم چوں کہ خاتم النبیین ہیں، حضور کے بعد اور کوئی نبی پیدا نہ ہوگا، تو جیسے کہ بنی اسرائیل میں انبیا شریعت موسوی کی حفاظت کا کام انجام دیتے تھے، اسی طرح میری امت کے علما میری شریعت کی حفاظت کریں گے، اور مخلوق کوہدایت کریں گے۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 495، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)
اشکال: اس حدیث کے متعلق کئی بڑے بڑے ائمہ کرام جیسے امام زرکشی، امام عسقلانی، علامہ دمیری اور علامہ سیوطی رحمھم اللہ المبین نے فرمایا: لااصل لہ، لہذا جب اس کی اصل ہی نہیں ہے تو یہ حدیث موضوع ہونی چاہیے؟
جواب: یہ حدیث موضوع نہیں کہ محدثین کرام کا کسی حدیث کے متعلق لااصل لہ کہنا اس کی موضوعیت کو مستلزم نہیں ہے، بلکہ محدثین کرام لااصل لہ کا جملہ استعمال کرتے ہیں اس کا ایک محمل یہ ہوتا ہے کہ اس حدیث کی سند نہیں ہے۔ علامہ جلا ل الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تدریب الراوی میں لا اصل لہ کا یہی معنی نقل کیا، چنانچہ تدریب الراوی میں ہے: قولهم هذا الحديث ليس له أصل، أو لا أصل له ۔۔۔۔ معناه: ليس له إسناد“ یعنی: محدثین کرام کا قول: اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے ۔ ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس حدیث کی اسناد نہیں ہیں۔ (تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي، جلد 1، صفحہ 350، دار طيبة)
بعض علمائے کرام جواس کی اصل کو نہیں مانتے، وہ اس کے معنی کو درست و صحیح مانتے ہیں، چنانچہ حضرت علامہ احمد بن محمد بن اسماعيل طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1231ھ) اس حدیث مبارکہ کے متعلق فرماتے ہیں: قال بعضهم: هذا الحديث لا أصل له، و لكن معناه صحيح لما تقرر أن العلماء ورثة الأنبياء. قاله ابن حجر في شرح الهمزية“ یعنی: بعض علما ئے کرام نے فرمایا ہے کہ اس حدیث مبارکہ کی کوئی اصل نہیں ہے۔ مگر اس کا معنی صحیح ہے، کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ علما ئے کرام انبیا ئے کرام علیہم السلام کے وراث ہیں۔ یہ بات حافظ ابن حجرہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الھمزیۃ میں تحریر فرمائی ہے۔ (حاشية الطحطاوي، جلد 1، صفحہ 08، دار الكتب العلمية بيروت، لبنان)
نیز جب بہت سے علما ئے کرام نے اس کو مرفوعاً اپنی کتب معتبرہ میں نقل کیا (جیسا کہ اوپر متعدد حوالہ جات مذکور ہیں) تو پھر ان علما کی اس نقل کو اسی پر محمول کیا جائے گا کہ ان کو یہ حدیث سند کے ساتھ ملی ہوگی اور ہم اس پر مطلع نہ ہوسکے چنانچہ حضرت علامہ امام جلیل نجم الدین محمد بن محمد غزی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 1061ھ) اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: و أما من حيث النقل فإن العلماء الذين نقلوه حديثا ثقات، فالأولى حمل أمرهم على أنهم ظفروا به مسندا، و لم نظفر نحن به۔ یعنی: بہرحال نقل کے اعتبارسے تو بےشک وہ علما جنہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے وہ ثقہ ہیں تواولی یہ ہے کہ ان کا معاملہ اس پرمحمول کیا جائے کہ انہوں نے اس حدیث کو سنداً پایا اور ہم اس کو نہ پاسکے۔ ( حسن التنبیہ لماورد فی التشبیہ، جلد 5، صفحہ- 271 - 270، دار النوادر، سوريا)
نیز اس میں موضوعیت والی شرائط میں سے کوئی شرط موجود نہیں تو اس حدیث کو موضوع نہیں کہہ سکتے۔ (موضوعیتِ حدیث کیونکر ثابت ہوتی ہے اس پر تفصیلی کلام مطالعہ کرنا ہو تو فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 460 تا 462 ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔)
اشکال: اس حدیث کی سند کہیں مذکور نہیں اور جس حدیث کی سند نہ ہو وہ موضوع و باطل حدیث ہوتی ہے، لہذا یہ بھی موضوع حدیث ہونی چاہیے۔
جواب: کسی حدیث کی سند مذکور نہ ہونا اس کے موضوع یا باطل ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ علمائے کرام نے یہ اصول بیان فرمایا کہ اگر حدیث بلا سند ہو، لیکن فضائل سے تعلق رکھتی ہو اور کسی معتبر کتاب میں اس کو نقل کیا گیا ہو اور ائمہ نے اس پر اعتماد کیا ہو، نیز موضوع حدیث کے قواعد میں سے کسی قاعدے کے مطابق وہ موضوع قرار نہ دی گئی ہو تو وہ حدیث معتبر ہوا کرتی ہے۔ اور مذکورہ حدیث فضائل سے تعلق رکھتی ہے اور کئی معتبر کتب میں اسے نقل کیا گیا ہے، نیز کسی خارجی دلیل سے اس کا موضوع ہونا ثابت نہیں ہے، لہذا اس حدیث کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔
اسناد کے بغیر حدیث کو باطل ماننے کے متعلق، چنانچہ امام اہل سنت، اعلی حضرت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: اقول و باللہ التوفیق: اذہان اکثر قاصرین زمان میں سند کی فضیلتیں اور کلامِ اثریین میں اتصال کی ضرورتیں دیکھ دیکھ کر مرتکز ہو رہا ہے کہ احادیث بے سند اگرچہ کلماتِ ائمہ معتمدین میں بصیغہ جزم مذکور ہوں مطلقاً باطل و مردود و عاطل کہ احکام، مغازی، سَیر، فضائل کسی باب میں اصلاً نہ سُننے کے لائق، نہ ماننے کے قابل، حالانکہ یہ محض اختراع بین الاندفاع مشاہیر محدثین و جماہیر فقہا دونوں فریق کے مخالف اجماع ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05، صفحہ 621، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
حدیث کا علماء کرام کی معتبر کتب میں بلاسند مذکور ہونا ہی صحیح ہونے کے لیے کافی ہوتا ہے، چنانچہ امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں: بالفرض اگر کتب میں اصلاً پتا نہ ہوتا تاہم ایسی حدیث کا بعض کلمات علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی بس ہے) اقول: بھلایاں تو طرق مسندہ باسانید متعددہ کتب حدیث میں موجود علمائے کرام تو ایسی جگہ صرف کلمات بعض علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی سند کافی سمجھتے ہیں اگرچہ طبقہ رابعہ وغیرہا۔ کسی طبقہ حدیث میں اُس کا نام نہ نشان نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05، صفحہ 555، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
سند نہ ہونے پر کسی حدیث کوموضوع کہہ دینا جہالت ہے اس کے متعلق ایک مقام پر فتاوی رضویہ میں ہے: جب انتہا درجہ کی شدید جرحوں سے موضوعیت ثابت نہیں ہوتی، تو صرف جہالت راوی یا انقطاع سند کے سبب موضوع کہہ دینا، کیسی جہالت اور عدل و عقل سے انقطاع کی حالت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 05، صفحہ 459، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
التحقیق المعتمد میں تفصیلی دلائل سے یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ: اگر حدیث کی سند مذکور نہ ہو، وہ حدیث فضائل سے تعلق رکھتی ہو، اور کسی معتمد امام جو حدیث کے بیان کرنے میں متساہل نہ ہوں ان کی کتاب میں مذکور ہو، نیز کسی خارجی دلیل سے اس کا موضوع ہونا ثابت نہ ہوا ہو تو ایسی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا۔ (التحقیق المعتمد فی روایۃ الکذاب و درجات السند، صفحہ 17، دار تراث الاسلاف و التحقیق، کراچی)
اشکال: یہاں علماء کو انبیاء کی طرح کہا گیا ہے اس سے علمائے اسلام کا انبیائے کرام کے مساوی ہونا لازم آتا ہے، حالانکہ یہ شرعا درست نہیں ہے، کیونکہ کوئی غیر نبی کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا؟
جواب: یہ عقیدہ بالکل حق ہے کوئی غیرنبی کسی نبی کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر ہے، لیکن مذکورہ صورت میں کسی جگہ غیر نبی کو نبی کے برابر نہیں کہا گیا، بلکہ علمائے اسلام کو انبیائے کرام کی طرح کہنے میں صرف مشابہت ہے، مساوات و برابری نہیں، اور مشابہت، مساوات کو لازم نہیں، اس لیے اس حدیث کے ترجمہ میں انبیائے کرام کی طرح یا کی مانند کا لفظ بولا جاتا ہے، کی مثل نہیں کہا جاتا، کیونکہ مانند اور مثل میں بہت فرق ہے۔ مثل میں معاذ اللہ مساوات و برابری کا وہم ہوتا ہے، جبکہ مانند صرف ایک گونہ مشابہت چاہتا ہے۔
نیز اہلِ زبان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مشبہ (جس کو تشبیہ دی گئی ہو)، مشبہ بہ (جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو) سے تشبیہ والے وصف میں افضل نہیں ہوتا، مثلاً جب آپ کہتے ہیں: زید کالاسد (زید شیر کی طرح ہے)، تو اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ زید میں وصفِ بہادری شیر کے مقابلہ میں زیادہ پایا جاتا ہے، بلکہ اس کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ شیر ہی بہادری میں زیادہ ہے، لہذا یہاں علمائے کرام کو جو انبیائے کرام سے تشبیہ دی گئی ہے، وہ شریعت کے نفاذ اور احکام کی تبلیغ کے اعتبار سے مشابہت ہے، نہ کہ نبوت کے اعتبار سے، کیونکہ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ شریعت کے نفاذ اور احکام کی تبلیغ کرنے کے اعتبار سے بھی انبیائے کرام اس امت کے علما سے بدرجہا افضل و اعلی ہیں، چنانچہ حضرت علامہ امام جلیل، نجم الدین محمد بن محمد غزی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 1061ھ) اس حدیث کی متعلق فرماتے ہیں:
و لا يلزم من كون علماء هذه الأمة كأنبياء بني إسرائيل أن يكونوا مثلهم في كل وصف هو لهم. و كذلك لا يلزم منه أن يكونوا أفضل من الأنبياء كما فهمه الشيخ برهان الدين الناجي رحمه اللہ فألجأه ذلك إلى تأليف جزء رد فيه على من قال: إنه حديث، و أشار إلى تخطئة من ذكرناهم آنفا محتجا بأنه لم يوجد في كتب الحديث المعتبرة، و بأنه يلزم منه تسوية علماء الأمة بالأنبياء، و قد وقع الإجماع من أهل السنة على أن الأولياء لا يبلغون درجة الأنبياء. و قد علمت أنه لا يلزم من اللفظ التسوية المذكورة، و قد أطبق البلغاء و العقلاء على أن المشبه لا يفضل المشبه به في وجه التشبيه المشترك بينهما، فإذا قلت: زيد كالأسد، لا يلزم منه تفضيل زيد في الشجاعة على الأسد، بل مفهومه أن الأسد أبلغ منه في الشجاعة.فقوله - صلى اللہ عليه و سلم - - إن صح عنه - : علماء أمتي كأنبياء بني إسرائيل؛ أي: في تقرير الشرائع و فهم الأحكام، لا في النبوة؛ لأن ذلك غير لازم.ثم إن الأنبياء فيما ذكر أتم حالا و أبلغ أمرا من علماء هذه الأمة، كما يفهم من صيغة التشبيه، فهذا اللفظ معناه صحيح
ترجمہ: حدیث میں اس امت کے علما کو بنی اسرائیل کے انبیا کے ساتھ تشبیہ دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ علما تمام صفات میں انبیا کے مثل ہیں اور یہ بھی لازم نہیں آتا کہ امتِ محمدیہ کے علما انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام سے افضل ہیں جیسا کہ شیخ برہان الدین ناجی رحمۃ اللہ علیہ نے سمجھا اور پھر اس معنی کے سبب ایک رسالہ لکھ کر اس روایت کے حدیث ہونے کا انکار کردیا اور اس حدیث کے اثبات میں جن علما کا ہم نے ذکر کیا امام ناجی رحمہ اللہ نے ان سب کو خطا پر قرار دیا یہ دلیل دیتے ہوئے کہ معتبر کتبِ احادیث میں یہ روایت موجود نہیں اور یہ کہ اس کوصحیح ماننے سے اس امت کے علما کا انبیا کے برابر ہونا لازم آتا ہے حالانکہ اس بات پر اجماع ہے کہ اولیا، انبیا کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے، لیکن آپ جانتے ہیں ان الفاظ سے برابری لازم نہیں آتی کیونکہ تمام اہلِ زبان کا اتفاق ہے کہ مشبہ، مشبہ بہ سے تشبیہ والے وصف میں افضل نہیں ہوتا مثلاً جب آپ کہتے ہیں: زید شیر کی طرح ہے، تو اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ زید میں وصفِ بہادری شیر کے مقابلہ میں زیادہ پایا جاتا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ شیر ہی بہادری میں زیادہ ہے۔ تو نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان (میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیا کی مانند ہیں) اگر صحیح ثابت ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت کے نفاذ اور احکام کی تبلیغ کے اعتبار سے مشابہت ہے، نہ کہ نبوت کے اعتبار سے کیونکہ اس حدیث میں خاص نبوت کے اعتبار سے مشابہت ہونا لازم نہیں پھر مزید یہ کہ شریعت کے نفاذ اور احکام کی تبلیغ کرنے کے اعتبار سے بھی انبیائے کرام اس امت کے علما سے بدرجہا افضل و اعلی ہیں جیسا کہ صیغہ تشبیہ سے واضح ہے، لہذا ثابت ہوا کہ حدیث کے یہ لفظ معنوی اعتبار سے درست ہیں۔ (حسن التنبیہ لما ورد فی التشبیہ، جلد 5، صفحہ 269 - 270، دار النوادر، سوريا)
امام اہل سنت، اعلی حضرت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے لیے کسی نے یہ الفاظ استعمال کیے: آپ ہم لوگوں میں مثل رسول و نبی کے ہیں۔
اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا۔ تنبیہ: مولانا! یہ لفظ بہت سخت ہے، لا الٰہ الا اللہ یہ فقیر حقیر ذلیل سیاہ کار نابکار کیا چیز ہے؟ ہاں اکابر کےلئے یہ لفظ حدیث میں آیا ہے کہ: الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ (شیخ اپنی قوم میں مانند نبی کے ہیں اپنی امت میں) (کنز العمال، حدیث ۴۲۶۳۲، بیروت) مگر مثل اور مانند میں بہت فرق ہے، مثل معاذ اللہ مساوات کا ایہام کرتا ہے اور مانند صرف ایک مشابہت چاہتا ہے، اس لئے سیدنا امام اعظم رضی اللہ عنہ نے ایمانی کایمان جبریل (میرا ایمان جبرائیل کے ایمان کی مانند ہے۔ ت) فرمایا نہ کہ مثل ایمان جبریل (مثل ایمان جبریل۔ ت) فقط۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 649، رضا فاونڈیشن، لاہور)
فقیہ اعظم ہند، مفتی شریف الحق امجدی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: حدیث مذکور کا ترجمہ مفتی صاحب نے صحیح کیا، طرح کے معنی مانند کے ہوتے ہیں، جو صرف ایک مشابہت چاہتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، ہاں مثل کہنا منع ہے کیونکہ اس میں ایہام مساوات ہے۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 588، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0418
تاریخ اجراء: 18 ذو الحجۃ الحرام 1443ھ / 18 جولائی 2022ء