logo logo
AI Search

کیا تمام خلفائے راشدین قریشی تھے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سارے خلفائے راشدین قریشی تھے

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مفتی صاحب عرض یہ تھی کہ خلیفہ راشد سب قریشی تھے؟

جواب

جی ہاں سارے خلفاے راشدین قریشی تھے، کیونکہ شرعی طور پر خلافت کے لیے قریشی ہونا شرط ہے۔ حدیث پاک میں ہے ”لا يزال الدين قائما حتى تقوم الساعة، أو يكون عليكم اثنا عشر خليفة، كلهم من قريش“ ترجمہ: دین ہمیشہ قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا تم پر بارہ خلفاہوں، جو تمام کے تمام قریش سے ہوں۔ (صحیح مسلم، باب الناس تبع لقریش، ص 730، رقم الحدیث 1822، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ اس طرح کی حدیث پاک کے متعلق فرماتے ہیں: صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہی شمار لینا لازم کہ اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے "یکون بعدی اثنا عشر خلیفۃ ابوبکر الصدیق لایلبث الا قلیلہ" میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے ابوبکر تھوڑے ہی دن رہیں گے۔ اس ميں مراد وہ خُلفاء ہیں کہ والیانِ اُمّت ہوں اور عدل و شریعت کےمطابق حکم کریں، ان کا متصل مسلسل ہونا ضرور نہیں۔ نہ حدیث میں کوئی لفظ اس پر دال ہے، اُن میں سے خلفائے اربعہ و امام حسن مجتبی و امیر معاویہ و حضرت عبد اللہ بن زبیر و حضرت عمر بن عبد العزیز معلوم ہیں اور آخر زمانہ میں حضرت سیدنا امام مہدی ہوں گے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ یہ نو ہوئے باقی تین کی تعیین پر کوئی یقین نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج27، ص 51، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: خلافت شرعیہ کے لئے ضرور قرشیت شرط ہے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے متواتر حدیثیں ہیں، اسی پر صحابہ کا اجماع، تابعین کا اجماع، اہلسنت کا اجماع ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 174، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5121
تاریخ اجراء: 01 محرم الحرام 1448ھ / 17 جون 2026ء