logo logo
AI Search
Watan Se Muhabbat
اصلاح و تربیت 13-08-2026

وطن سے محبت اور اس کی ترقی کی تجاویز

Copy Share

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں بعض محبتیں ودیعت فرمائی ہیں، جن کے ذریعے اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی استوار ہوتی ہے۔انسان کا پہلا فطری گہرا تعلق اپنے ماں باپ، بیوی بچوں اور رشتہ داروں سے ہوتا ہے، جن سے وہ خونی رشتے کی بنا پر فطری محبت رکھتا ہے۔ انسان کا دوسرا فطری تعلق اپنے دوستوں اور تعلق داروں سے ہوتا ہے، جن کے ساتھ وہ اپنائیت، انسیت اور قلبی وابستگی محسوس کرتا ہے ۔ انسان کا تیسرا اہم فطری محبت والا تعلق اپنے وطن سے ہوتا ہے، جہاں وہ عموما پیدا ہوتا اور زندگی گزارتا ہے۔ وطن انسان کی محبتوں کا ایک عظیم مرکز ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، پسماندہ ہو یا ترقی یافتہ۔

وطن سے محبت انبیائے کرام اور صحابۂ کرام کی سیرت کی روشنی میں:

وطن سے محبت و اپنائیت کے فطری جذبے کا احساس انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، سلف صالحین اور دنیا کی عظیم شخصیات کی سیرت و سوانح میں بھی نظر آتا ہے: مثلاً ہجرت ایک عظیم قربانی ہے، کیونکہ اس میں انسان دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑ دیتا ہے۔ خدا کی بارگاہ میں اس قربانی کی اتنی پذیرائی سے واضح ہو جاتا ہے کہ جس طرح مال، اولاد، رشتہ داروں اور گھر بار کو چھوڑنا انسان کے لیے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، کیونکہ ان چیزوں کی محبت دل میں رچی بسی ہوتی ہے، اسی طرح وطن چھوڑنا بھی ایک بڑی قربانی ہے ، کیونکہ وطن کی محبت بھی دل کی گہرائیوں میں مرکوز ہوتی ہے۔ انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ کے تذکروں میں ہجرت کا ذکر ملتا ہے، چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نے ہجرت کی، حضرت لوط عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نے ہجرت کی اور حضرت موسیٰ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نے اپنی قوم کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے یہ واقعات جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر محبوب چیز کو چھوڑ دینے کو عظیم عبادت ظاہر کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ وطن سے محبت کا تعلق اور قلبی وابستگی بہرحال ایک فطری جذبہ ہے جو مقدس ہستیوں کی زندگی میں بھی موجود تھا۔

انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ کے بعد صحابۂ کرام کی سیرت دیکھیں، تو صحابۂ کرام کے دو گروہ مشہور ہیں، ایک انصار اور دوسرا مہاجرین۔ مہاجرین کے فضائل اور ان کی عظمتیں قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔ ان صحابۂ کرام کو ’’مہاجرین‘‘ والا اتنا عظیم ٹائٹل اس اعتبار سے ملا کہ انہوں نے وطن کی محبت پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دی اور خدا کے دین کے لئے وطن سے جانے پر تیار ہوگئے۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ وطن سے فطری محبت، نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے عظیم صحابہ کرام علیھم الرضوان کے دلوں میں بھی موجود تھی، البتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت ہمیشہ سب محبتوں پر غالب رہی۔

خود نبی پاک صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی، تو اپنے وطن مکہ مکرمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! بے شک تُو اللہ کی زمین میں سب سے بہترین زمین ہے، اور اللہ کے نزدیک اللہ کی زمینوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں تجھ سے کبھی نہ نکلتا۔“ [1]  اس کے بعد جب نبی پاک عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ کو اپنا وطن بنا لیا، تو یہ دعا فرمائی: ’’اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد“ ترجمہ: اے اللہ! مدینہ بھی ہمیں ایسا ہی محبوب کر دے، جیسے مکہ ہمیں محبوب تھا، بلکہ اس سے بڑھ کر۔ [2]  اس دعا میں پہلے اس سرزمین کی محبت کی دعا ہے، جسے نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنا وطن بنایا یعنی مدینہ منورہ، پھر ساتھ میں یہ الفاظ بھی فرمائے ’’كحبنا مكة‘‘ یعنی ’’جیسے ہمیں مکہ محبوب تھا۔“

مکہ مقدس نسبتوں والا مقام ہونے کے ساتھ چونکہ اپنا شہر اور اپنا وطن تھا، لہٰذا اس کی محبت کو بھی بیان کیا۔

نبی پاک صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی اپنے پیارے شہر مدینہ منورہ سے محبت:

نبی پاک صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے دل میں اپنے نئے وطن مدینہ منورہ کی محبت کس قدر تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی پاک صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ جب سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ منورہ قریب آتا تو مدینہ منورہ کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کی رفتار کو تیز فرما لیتے۔[3]  علامہ شہاب الدین احمد قسطلانی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَىٰ عَلَيْهِ فرماتے ہیں: ’’آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کا اپنی سواری کو تیز کرنا، مدینہ منورہ سے محبت کی وجہ سے تھا۔“ [4] 

وطن کے ساتھ ایک عہد:

وطن کے ساتھ محبت کے بعد ایک اور اہم موضوع پر توجہ نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ وطن کے ساتھ انسان کا تعلق صرف محبت تک محدود نہیں، بلکہ اس پر وطن کے متعلق کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ عقل و نقل، دونوں اعتبار سے اس بارے میں ہمارے سامنے واضح رہنمائی موجود ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔“ [5] 

اس آیتِ مبارکہ میں تمام معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں سب سے مقدم اور اہم معاہدہ تو خداوند قدوس کے احکام پر عمل کا معاہدہ ہے، اس کے مقابلے میں کسی دوسرے معاہدے کو ترجیح یا برابری نہیں دی جا سکتی۔ اس خدائی عہد کی حدود میں رہتے ہوئے پھر دوسرے معاہدوں پر عمل کیا جائے گا، جس میں وطن کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ جب کوئی شخص کسی وطن کا باشندہ بنتا اور وہاں رہائش رکھتا ہے، تو وہ اس وطن کے ساتھ ایک عہد کرتا ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کے خیر و بھلائی کے قوانین کی پابندی کرے، ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کوشش کرے، اسے نقصان پہنچانے سے بچے، نقصان پہنچانے والوں کا ساتھ نہ دے، اور ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کوئی جائز طریقہ اختیار کرے۔ یہ تمام چیزیں وطن کے ساتھ عہد میں شامل ہیں۔ وطن سےکیا جانے والا یہ عہد کوئی پوشیدہ یا نامعلوم عہد نہیں، بلکہ بہت واضح اور معروف ہے۔ ہر عقل مند شخص کے نزدیک یہ ایک ذمہ داری ہے، جس کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے وطن کے حقوق ادا کرے اور اس کے امن، استحکام اور بھلائی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

وطن کی اصلاح:

قرآنِ پاک میں ایک سے زائد مقامات پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا﴾ ترجمہ ٔکنز العرفان: ”اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔“ [6] 

اصلاح کا معنیٰ ’’احوال کا اچھا ہونا‘‘ ہے، اور فساد سے مراد ’’احوال کا بگڑ جانا ‘‘ ہے۔ اپنی اصل تفسیر کے اعتبار سے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار نہ کرو اور توحید کے بعد شرک اختیار نہ کرو۔ لیکن جیسے قرآنِ پاک کے عمومِ الفاظ کے اعتبار سے اور دیگر متعدد آیتوں کی روشنی میں بہرحال یہ حکم موجود ہے کہ زمین میں فتنہ و فساد نہ پھیلاؤ۔ اس کی تفصیل میں یہ درس بھی موجود ہے کہ ’’جس زمین میں تم رہتے ہو، اس سرزمین کی اصلاح کی کوشش کرو، فساد کی نہیں؛ اس میں اصلاح کے کام کرو، فساد کے نہیں؛ اس کی بہتری کی کوشش کرو، بربادی کی نہیں۔“

احساسِ ملکیت اور وطن کی تعمیر و ترقی:

ملک و ملت کی ترقی و فلاح کےلئے سوچ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔کم از کم اتنی سوچ بنالیں کہ ’’ہمارا وطن، ہمارا گھر ہے۔‘‘ جب بندہ کسی جگہ کو اپنا گھر سمجھ کر کوئی کام کرتا ہے، تو اس کا طرزِ عمل بدل جاتا ہے۔ وطن کے گھر ہونے سے متعلق قرآنِ کریم نے بھی نہایت لطیف انداز میں اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں جہاں صحابۂ کرام رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ کو ان کے وطن سے نکالے جانے کا بیان ہوا، وہاں اس بات کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا، فرمایا: ﴿اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”اپنے گھروں سے نکالے گئے۔“  [7]  صحابۂ کرام رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ کو ان کے وطن سے نکال دیا گیا تھا، لیکن قرآنِ کریم نے وطن یا ملک کے بجائے ﴿دِيَارِهِمْ﴾ (ان کے گھروں) کے الفاظ اختیار فرمائے۔ دار کا لفظ دار الاسلام، دار الحرب، دار الکفر کے طور پر بھی ہے، یعنی مشترکات میں سے ہے، لیکن اس مقام پر دیار سے گھر کا معنیٰ بھی ایک تعبیر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے وطن محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ وہ اس کا ایک گھر ہے، اس کی پہچان ہے، اس کا سکون اور اس کی وابستگی کا مرکز ہے۔ انسان اپنے گھر کو خوبصورت، مضبوط، آرام دہ اور پُرسکون بنانے کے لیے اپنے گھر کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھنے، ہر چیز اس کی جگہ پر نظر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے گھر کے دروازے، چھت اور اس کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خیال رکھتا ہے، کیونکہ وہ اپنے گھر کی اونرشپ (Ownership) یعنی ملکیت و اپنائیت تسلیم کرتا ہے۔ وطن کی اصلاح اور بہتری کے لیے اس حقیقت کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ وطن ہمارا اپنا گھر ہے، کیونکہ جب ہم اپنے وطن کو بھی اپنا گھر سمجھ لیں گے، تو ہمارے طرزِ فکر اور طرزِ عمل میں بھی وہی ملکیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوجائے گا، جو اپنے ذاتی گھر کے لیے ہوتا ہے۔ جب ہر شخص اپنے وطن کو اپنا گھر سمجھ لے گا، تو اپنے وطن کے بارے میں فکر مند ہوگا۔اس میں اپنے وطن کی گلی، محلے اور ارد گرد کے ماحول کی اصلاح کا احساس بھی پیدا ہوگا۔

وطن کی بہتری، صفائی اور نیک نامی کا خیال رکھنا اور اُسے خرابی و بربادی سے بچانا ہر شخص پر ضروری ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص اپنے وطن کی اصلاح کرنے کی بجائے اس کی خرابی کا کوئی عمل کرے، مثلاً اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ گلی میں پھینکنا شروع کردے، بنی بنائی سڑکوں اور گلیوں کو برباد کرے، عوامی املاک کو نقصان پہنچائے، تو ایسا شخص درحقیقت صرف ایک سڑک یا عمارت کو نقصان نہیں پہنچا رہا ہوتا، بلکہ مجموعی طور پر اپنے ملک ہی کو کمزور اور بدنام کررہا ہوتا ہے۔

وطن کی اصلاح میں ذاتی کردار:

ہمارے ہاں ملک کی بہتری کے لیے باتیں کرنے، دل جلانے اور دوسروں پر تنقید کے تیر برسانے کا رواج تو بہت ہے، لیکن عملی طور پر کچھ کرنے کی ہمت و سعی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر واقعتا ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں، تو طریقہ یہ ہے کہ ہر شخص ملک کے ان پہلوؤں کے متعلق سوچے جہاں وہ کوئی بہتری لانے کی صلاحیت و استطاعت رکھتا ہے۔ایک فرد کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہر شعبے کی اصلاح کی ذمہ داری اٹھا لے، البتہ ہر انسان چند ایسے امور کا انتخاب ضرور کر سکتا ہے، جن سے اس کا روزمرہ تعلق ہو، مثلاً: صفائی، ٹریفک قوانین کی پابندی، امانت و دیانت، تعلیم کا حصول یا اشاعت، ماحول کی حفاظت، عوامی املاک کا خیال، پڑوسیوں کے حقوق اور معاشرتی نظم و ضبط کہ یہ سب وہ امور ہیں جن میں ہر شخص اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ لہذا ضروری نہیں کہ ہم پورے ملک کے تمام مسائل حل کرنے کا بوجھ اپنے اوپر لیں، لیکن اتنا تو ہو کہ ہم اپنی استطاعت، اپنے میدانِ عمل اور اپنی ذمہ داری کے مطابق ملک کی اصلاح اور بہتری میں حصہ ڈالیں۔ جب ہر شخص اپنے حصے کا کام دیانت داری سے انجام دے گا، تو مجموعی طور پر پورا وطن ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ مزید بہتری کے لیے اپنی سوچ دوسروں تک بھی نرمی سے پہنچائیں کہ جس طرح گھر میں ایک فرد ترقی کی سوچ رکھنے اور عمل کرنے کے ساتھ اپنے بچوں کی تربیت بھی کرتا ہے کہ یہ ہمارا گھر ہے، ہمیں اسے اچھے سے اچھا بنانا ہے، ایسے ہی وطن کے متعلق بھی اپنی سوچ دوسروں میں منتقل کرے کہ اپنے وطن کی گلی محلے کی چیزیں خراب کر نا، اپنے گھر کی چیزیں خراب کرنا ہے۔ اپنے وطن کی بجلی چوری کرنا، اپنے گھر میں چوری کرنا ہے۔ اس کی ترقی ہماری ترقی ہے اور اس کی تنزلی ہماری تنزلی ہے۔ اگر ہر شخص صرف اتنا پیغام بہترین انداز میں آگے بڑھا دے، تو ہمارے وطن میں بہت ساری چیزیں درست ہو سکتی ہیں۔

انسانی صلاحیت کا کمال:

کسی شخص کا ایک جملہ ہے ’’جتنا سونا انسانی دماغ سے نکلا ہے، آج تک دنیا بھر کی سونے کی کانوں سے بھی نہیں نکلا۔“ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ایک باشعور انسان جس قدر قیمتی انسان ہے جس کا دماغ سونے جیسے خیالات، آئیڈیاز، منصوبے اور پروگرام اُگلتا ہو، اتنی زیادہ قیمتی نہ کوئی دھات ہے، نہ کوئی چیز۔ ایک ایسی جگہ جہاں مچھیروں کی بستی ہو، دلدلی علاقہ ہو، غریب سے لوگ ہوں، دھوپ نے ان کی کھال جھلسا دی ہو اور گرمی نے ان کے رنگ بدل دیے ہوں، لیکن اس سب کے باوجود بھی اگر وہاں کے انسانوں کو بہترین طریقے سے استعمال کیا جائے، تو وہ سنگاپور بنتا ہے۔ سنگاپور ایک چھوٹا سا ملک ہے اور دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ہے۔ وہاں سے نہ تیل نکلتا ہے اور نہ سونا چاندی، لیکن وہاں انسانی دماغوں سے سونا نکلا اور اس سے وہ ملک دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہو گیا اور اسے پوری دنیا میں ایک مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز:

دنیا کاجائزہ لیا جائے تو چند ہی ممالک ایسے ہیں، جو رقبے اور قدرتی نعمتوں کے اعتبار سے بڑے بھرپور اور بڑے رقبے والے ممالک ہیں، آبادی بھی ہے اور ان کی زمینوں میں وسائل بھی بے تحاشا ہیں۔ ان چند ممالک کی ترقی میں تو یہ سارے وسائل موجود ہیں، لیکن بہت سے ممالک ایسے ہیں، جن میں اس طرح کے وسائل نہیں، مثلاً: نہ دریا ہے، نہ بلند و بالا پہاڑ، نہ جنگلات، نہ زمین کی معدنیات، اور نہ جانے کتنی ضروری چیزیں وہاں نہیں ہیں۔ اس کے باوجود درجنوں کی تعداد میں دنیا کے ایسے ممالک نہایت امیر، نہایت خوشحال، نہایت ترقی یافتہ اور نہایت باعزت مقام رکھتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر ان ممالک کی ترقی کا راز کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ’’وہاں کی زمین میں سونے کی کانیں نہیں، لیکن وہاں کے لوگوں کے دماغ سونا اُگلتے ہیں‘‘ اس طرح کہ وہ اپنی قوم کو تعلیم و تربیت دیتے، انہیں محنت اور دیانت داری سے کام کرنا سکھاتے ہیں اور اس کے ساتھ انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانے کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہایت قلیل مدت میں وہ اعلیٰ درجے کی ترقی حاصل کرتے ہیں۔

ملک کی ترقی بیسیوں امور پر مدار رکھتی ہے، ان میں سے چند اہم باتوں کی یہاں نشاندہی کرتا ہوں۔

پہلی چیز: نوجوانوں کی تعلیم و تربیت :

نوجوانوں کو تعلیم و تربیت دی جائے، صرف تعلیم نہیں اور صرف تربیت بھی نہیں، بلکہ تعلیم اور تربیت دونوں ہوں، اور دونوں اس انداز پر ہوں جو ہمارے ملک کے کلچر، روایات، اقدار، ضروریات، فوائد اور اس ملک کے مستقبل کے منصوبے وغیرہ کے لیے کارآمد ہوسکے۔ اگر ہمارے اسلامی ملک میں مغربی تعلیم و تربیت دے کر نوجوانوں کو دین سے بیزار کرکے اس معاشرے میں انجیکٹ کیا جائے گا، تو یہ لباس میں پیوند کی طرح ہوگا جو اس لباس کے ساتھ بے جوڑ ہوگا اور آدھا تیتر آدھا بٹیر کا منظر پیش کرے گا۔ اس کے برعکس اگر ہمارے نوجوانوں کو کلمہ طیبہ پر بنیاد رکھنے والے ہمارے ملک کے اسلامی پس منظر میں دین اور اسلامی اقدار کے مطابق تعلیم و تربیت دی جائے، تو وہ پھول کی طرح اس معاشرے کی خوبصورتی بن جائیں گے۔

دوسری چیز: وطن کی محبت:

جب تک انسان کے دل میں اپنے وطن سے محبت اور اپنے ملک کے لیے خیر خواہی کا جذبہ موجود نہ ہو، اس وقت تک محض تعلیم، ہنر اور وسائل بھی کسی قوم کو حقیقی ترقی نہیں دے سکتے۔ ملک کی ترقی میں وطن سے محبت بڑی چیز ہے، مگر جب سے گلوبلائزیشن کا دور شروع ہوا ہے، یعنی دنیا ایک دوسرے کے لیے ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے، اس کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اپنے وطن کے بارے میں وہ جذبات نہیں رہے جو پہلے ہوا کرتے تھے۔ اب ہر شخص کے لیے وہ جگہ زیادہ پرکشش ہے، جہاں اس کی سہولیات اور ضروریات زیادہ بہتر انداز میں پوری ہوتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک شخص کے لیے بہتر روزگار، زیادہ آمدنی اور بہتر معیارِ زندگی کی خاطر اپنا وطن چھوڑ دینا پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہوگیا ہے، لہٰذا حُبّ الوطنی کے کمزور ہونے میں مادیت پرستی کا بھی بہت بڑا عمل دخل ہے۔ جب انسان کی ترجیحات میں صرف مال، سہولت، آسائش اور ذاتی مفاد سب سے اوپر آ جائیں تو وطن، معاشرہ اور قوم کے مفادات پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور پھر انسان یہ نہیں سوچتا کہ میں اپنے ملک کے لیے کیا کرسکتا ہوں، بلکہ اس کی سوچ کا مرکز یہ بن جاتا ہے کہ مجھے اپنے لیے کہاں زیادہ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ ایسے حالات میں وطن سے محبت کے جذبات پیدا کرنے کے لیے مفاد پرستانہ، وقتی اور مصنوعی کوششیں نہیں، بلکہ پرخلوص، مستقل اور حقیقی کوششوں کی ضرورت ہے۔

تیسری چیز: انصاف کا قیام:

ملک کی ترقی میں بنیاد وطن کی محبت ہے اور وطن سے محبت پیدا کرنے کے لیے ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ ظلم و ناانصافی وہ بنیادی عنصر ہے، جس کی وجہ سے لوگ وطن کی محبت کی بجائے دوسری راہ اختیار کر لیتے ہیں، مثلاً ایک شخص نے پوری محنت سے پڑھا، ہر امتحان میں اچھے نمبر حاصل کیے، لیکن اس کے باوجود جب اس کی نوکری لینے کی باری آئی، یا معاشرے میں آگے بڑھنے اور اپنا مقام بنانے کا موقع آیا، تو اس کے لیے سارے دروازے بند کر دیے گئے اور اس کے مقابلے میں رشوت، رشتہ داری اور تعلقات کو ترجیح دےدی گئی، تو ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ مظلوم کے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت اور وابستگی کے جذبات پیدا نہیں ہوں گے، لہٰذا وطن سے محبت کے جذبات پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ہر شخص اپنی محنت کے مطابق آگے بڑھنے کا حق حاصل کرسکے۔

خلاصہ کلام:

ملکی ترقی میں صرف تعلیم و تربیت اور وطن کی محبت ہی کافی نہیں، بلکہ اس کی باقاعدہ پلاننگ، پھر اس پلاننگ کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ یہ ایک پورا پیکج ہے، جس کا مرکزی سرمایہ نوجوان ہیں، کیونکہ اگر وہ نہیں ہوں گے، تو پھر تعلیم و تربیت کس کی ہوگی ؟ اور اگر وہ موجود ہوں، تو اس کا مطلب یہ کہ ہیرے جواہرات تو موجود ہیں، اب بس اُنہیں پالش کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین میں ہیرے، جواہرات بے تحاشا رکھتا ہے، لیکن اگر انہیں کوئی نکال کر پالش نہ کرے، تو وہ پتھر کے ٹکڑے ہی رہتے ہیں، لہٰذا پتھر کے ٹکڑوں کو ہیرا بنانا اور اُسے تراش کر مناسب جگہ لگا دینا جوہری کا کام ہے۔ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت، ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا، انہیں اچھی فکر دینا، ان کا جائز مقام انہیں دلانا اور اس مقصد کے لیے مستقل کوشش کرتے رہنا، یہی وہ سب چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم اس عظیم سرمایہ کو صحیح معنوں میں استعمال کر سکتے ہیں اور اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرسکتے ہیں۔

 


[1] سنن ترمذی ،کتاب المناقب،باب فی فضل مکۃ ،جلد 05 ،صفحہ 486،رقم الحدیث:3951، دار الفکر ،بیروت

[2] صحیح بخاری،کتاب فضائل مدینۃ،باب کراھیۃ النبی ان تعری المدینۃ،جلد 01،صفحہ 621،رقم الحدیث:1889، دار الکتب العلمیۃ ،بیروت

[3] صحیح بخاری،کتاب العمرۃ،باب من اسرع ناقتہ اذا بلغ المدینۃ،جلد 01،صفحہ 594،رقم الحدیث:1802، دار الکتب العلمیۃ ،بیروت

[4] ارشاد الساری شرح صحیح بخاری ،جلد 04،صفحہ 371، دار الفکر، بیروت

[5] پارہ 06،سورۃ المائدۃ:01

[6] پارہ 08، سورۃ الاعراف :56

[7] پارہ 28، سورۃ الحشر:08