سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
رسول اکرم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت طیبہ کی اہمیت و عظمت کا بیان اگر جامعیت و اختصار کے ساتھ کسی ایک جملے میں بیان کیا جائے، تو وہ یقیناً ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهَا کا یہ فرمان ہوگا کہ نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے اخلاقِ کریمہ کے متعلق سوال پر آپ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهَا نے فرمایا: ’’ان خلق نبی اللہ صلی اللہ تعالی علیہ آلہ وسلم کان القرآن“ ترجمہ: بے شک اللہ کے نبی صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے اخلاقِ مبارکہ تو قرآن تھے (یعنی قرآن پر مبنی تھے) ۔ (صحیح المسلم، کتاب صلاة المسافرین وقصرها، باب جامع صلاة الليل، صفحہ 374، رقم الحدیث: 746، دار ابن حزم، بیروت)
اور مسند احمد کے الفاظ ہیں: ’’كان خلقه القرآن“ ترجمہ: نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کا اخلاق قرآن تھا۔(مسند امام احمد بن حنبل، مسند الصدیقہ عائشۃ، جلد 41، صفحہ 148، رقم الحدیث: 24601، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
قرآن مجید میں اسی عملی عظمت کو ان الفاظ سے بیان فرمایا: ﴿وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو۔“(پارہ 29، سورۃ القلم: 4)
اس مختصر جملے میں یہ حقیقت بیان کردی گئی کہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی پوری زندگی قرآن کی عملی شکل تھی۔ قرآن میں جو احکام، اخلاق، تعلیمات اور اصول بیان ہوئے، وہ سب نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت میں عملی صورت میں نظر آتے ہیں۔ اس لیے سیرت کا مطالعہ دراصل قرآن کے مفہوم کو پورے طریقے سے سمجھنے کا ذریعہ ہے۔
اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ قرآن مجید میں بہت سی اخلاقی تعلیمات اصولی انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً: صبر، عفو، تواضع، سخاوت، عدل، حسنِ معاشرت، رحم، شفقت، حلم و بردباری وغیرہا، لیکن یہ سب عملی صورت میں کیسے اختیار کیے جائیں؟ اس کی مکمل تصویر رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ اسی لیے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهَا نے اپنے الفاظ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا جس کا توضیحی معنیٰ یہ ہے کہ اگر تم رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے اخلاق کو جاننا چاہتے ہو تو قرآن پڑھو، کیونکہ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ قرآن کے بیان کردہ اخلاق کا مجسم نمونہ ہیں۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ کریں:
قرآن مجید میں صبر کی بہت تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔“(پارہ 14، سورۃ النحل: 127) اور ایک مقام پر فرمایا ﴿فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا﴾ ترجمہ کنزالعرفان: ”تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ “(پارہ 29، سورۃ المعارج: 5)ان آیات میں صبر کا حکم تو دیا گیا، لیکن صبرِ جمیل کی عملی صورت ہمیں رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت میں نظر آتی ہے۔ مثلاً: طائف کے موقع پر جب آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کو شدید اذیت دی گئی، پتھر مارے گئے، جسم لہولہان ہوگیا، تو آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایذاء دینے والوں کی ہلاکت کی دعا نہیں کی، بلکہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے پہاڑوں کے فرشتے نے بھی جب عرض کی کہ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ جو چاہیں حکم دیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں مکہ کے دونوں بڑے پہاڑوں کو ان لوگوں پر ملا دوں (اور انہیں ہلاک کردوں) تو اس وقت بھی نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کی ہلاکت کا حکم نہیں دیا، بلکہ ان لوگوں کی نسلوں سے ہدایت کی امید ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، جلد 2، صفحہ 386، 387، رقم الحدیث: 3231، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
یونہی غزوۂ احد میں جب کفار نے رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے دندانِ مبارک کا کچھ حصہ شہید اور چہرۂ اقدس زخمی کر دیا، تو صحابۂ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ان کے خلاف دعا کریں۔ اس پر آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، بلکہ حق کی دعوت دینے والا اور رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پھر آپ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی: ”اللهم اهد قومی فإنهم لا يعلمون“ ترجمہ: اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔ (سبل الھدی والرشاد، الباب الثالث فی حلمہ و عفوہ، جلد 7، صفحہ 21، دار الكتب العلميہ، بيروت)
یہ صبرِ جمیل کی عملی تفسیر ہے۔
اسی طرح قرآن میں عفو و درگزر کا حکم دیا گیا: ﴿فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”تو انہیں معاف کردو اور ان سے درگزر کرو۔“ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ: 13) اور فرمایا: ﴿وَالْـكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔“ (پارہ 4، سورۃ آل عمران: 134)
اس حکم پر عمل در آمد کا عظیم شاہکار فتح مکہ کے موقع پر ظاہر ہوا جب وہ لوگ جنہوں نے آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کو وطن سے نکالا، جنگیں کیں، تکلیفیں دیں، سب آپ کے سامنے کھڑے تھے، تو آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ”اذهبوا فأنتم الطلقاء“ ترجمہ: جاؤ تم سب آزاد ہو۔ (سیرت ابن ھشام، طواف الرسول بالبیت، جلد 02، صفحہ 349، دار المعرف، بیروت)
یہ قرآن کے حکمِ عفو کی عملی تصویر ہے۔
قرآن مجید میں تواضع کا حکم دیا گیا: ﴿وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور مسلمانوں کے لیے اپنے بازو بچھا دو۔“(پارہ 14، سورۃ الحجر: 88) اور فرمایا: ﴿وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔“ (پارہ 19، سورۃ الفرقان: 63)
اس تواضع کی عملی مثال رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی میں ملتی ہے۔ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے، غلاموں کے ساتھ بیٹھ جاتے، بچوں کو سلام کرتے، بیماروں کی عیادت کرتے، اور خود فرماتے: ”آكل كما يأكل العبد وأجلس كما يجلس العبد فانما أنا عبد“ ترجمہ:میں اسی طرح کھاتا ہوں، جیسے ایک بندہ کھاتا ہے، اور اسی طرح بیٹھتا ہوں، جیسے ایک بندہ بیٹھتا ہے، اس لیے کہ میں تو اللہ کا ایک بندہ ہوں۔(شعب الایمان ،جلد 05، صفحہ 107، رقم الحدیث: 5975، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
قرآن میں عدل کا حکم دیا گیا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”بیشک اللہ عدل اور احسان اور رشتے داروں کو دینے کا حکم فرماتا ہے۔“ (پارہ 14، سورۃ النحل: 90) اور فرمایا: ﴿اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى﴾ ترجمہ کنزالعرفان: ”انصاف کرو، یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے۔“ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ: 8)
اس عدل کی عملی تصویر ہمیں اس واقعہ میں ملتی ہے، جب قریش کی ایک عورت نے چوری کی، لوگ چاہتے تھے کہ اسے سزا نہ دی جائے، تو رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے محبوب ترین رشتے کے متعلق فرمایا کہ اگر اس سے بھی ایسا جرم سرزد ہوتا، تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ (صحیح المسلم، کتاب الحدود، باب قطع السارق الشريف وغيره، صفحہ 927، رقم الحدیث: 1688، دار ابن حزم، بیروت)
یہ قرآن کے بیان کردہ حکم عدل پر عمل کے جذبے کا کامل اظہار ہے۔
قرآن مجید میں رحم و شفقت کی تعلیم دی گئی: ﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنتَ لَهُمْ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”تو اے حبیب! اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں۔“ (پارہ 4، سورۃ آل عمران: 159) یعنی اللہ کی رحمت سے آپ نرم دل ہوئے۔
رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت میں یہ رحمت قدم قدم پر نظر آتی ہے، خواہ امت کے اجتماعی معاملات ہوں یا لوگوں کے انفرادی واقعات، رحمتِ خداوندی کا یہ چشمہ زندگی کے ہرگوشے میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ بہتا نظر آتا ہے اور اسی شفقت و محبت کے دلی جذبے کی وجہ سے آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ بچوں کو گود میں لیتے، ان سے محبت کرتے، حتی کہ نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیتے۔ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ”إني لأقوم في الصلاة أريد أن أطول فيها فأسمع بكاء الصبي فأتجوز في صلاتي كراهية أن أشق على أمه“ ترجمہ: بے شک میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسے لمبا کروں، پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں، اس اندیشے سے کہ کہیں اس بچے کی ماں پر مشقت نہ ہو۔ (صحیح البخاری، کتاب الصلوۃ، جلد 01، صفحہ 253، رقم الحدیث: 707، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
قرآن مجید میں سخاوت اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”تم ہرگز بھلائی کو نہیں پا سکو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔“ (پارہ 4، سورۃ آل عمران: 92)
رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے راہِ خدا میں خرچ کرنے کے بے شمار واقعات ہیں، حتی کہ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ قرض لے کر بھی لوگوں کی حاجتیں پوری فرماتے، آپ کی سخاوت کا دریا ہمیشہ رواں رہتا ہے، یہاں تک کہ حضرت ابن عباس رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهُ نے فرمایا: ”كان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ آلہ وسلم أجود الناس، وكان أجود ما يكون في رمضان۔۔۔ أجود بالخير من الريح المرسلة“ ترجمہ: رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں تو آپ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتی تھی۔ یہ قرآن کے راہِ خدامیں خرچ کی عملی شکل ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، باب ذکر الملائکۃ، جلد 02، صفحہ 384، رقم الحدیث: 3220، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
ایک روز نماز عصر کا سلام پھیرتے ہی آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ دولت خانہ میں تشریف لے گئے، پھر جلدی سے باہر آئے، صحابہ کرام رِضْوانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو تعجب ہوا! آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ مجھے نماز میں خیال آ گیا کہ صدقے کا کچھ سونا گھر میں پڑا ہے، مجھے پسند نہ آیا کہ رات ہو جائے اور وہ گھر میں پڑا رہے، اس لئے جا کر اسے تقسیم کر نے کا کہہ آیا ہوں۔ (صحیح البخاری، كتاب العمل في الصلاة، جلد 01، صفحہ 411، رقم الحدیث: 1221، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: ایک روز میں رسولِ کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ تھا۔ آپ نے اُحد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا: اگر یہ پہاڑ میرے لئے سو نا بن جائے، تو میں پسند نہیں کروں گا کہ اس میں سے ایک دِینار بھی میرے پاس تین (3) دن سے زِیادہ رہ جائے، سِوائے اُس دِینار کے جسے میں اَدائے قرض کے لئے رکھ چھوڑوں۔ (صحیح البخاری،كتاب في الاستقراض ۔۔۔۔ الخ، باب أداء الدين، جلد 02، صفحہ 106 ،105، رقم الحدیث: 2388، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
قرآن مجید میں حسنِ معاشرت کا حکم دیا گیا: ﴿وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔“ (پارہ 4، سورۃ النساء: 19)رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت میں یہ فرمان اپنی پوری شان کے ساتھ نظر آتا ہے، کیونکہ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی ازواج کے ساتھ بہت نرمی، سچی محبت اور نہایت عمدہ حسنِ سلوک فرماتے تھے۔ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:”خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلی“ ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء، جلد 02، صفحہ 478، دار المعرفۃ، بیروت)
قرآن میں حلم و بردباری کی تعلیم دی گئی اور رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی میں اس کی مثالیں بے شمار ہیں۔ ایک بدوی نے آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی چادر زور سے کھینچی، یہاں تک کہ گردن پر نشان پڑ گیا، اور سخت لہجے میں مال مانگا، آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ مسکرا دیے اور اسے عطا فرمایا۔ (صحیح المسلم، کتاب الزكاة، باب إعطاء من سأل بفحش وغلظة، صفحہ 525، رقم الحدیث: 1057، دار ابن حزم، بیروت)
یہ حلم و تحمل کی عملی تصویر ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ ضروری ہے، کیونکہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی قرآن کی وہ نورانی، عملی تفسیر ہے جس میں عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت، سیاست، قیادت، صبر، حلم، عفو، عدل، رحم، سخاوت، تواضع، سب کا روح پرور، عملی نمونہ نظر آتا ہے۔ اس لیے جو شخص قرآن کے اخلاق کو اپنانا چاہتا ہے، اسے سیرت نبوی کا مطالعہ کرنا ہوگا، کیونکہ سیرت کے بغیر قرآن کی حقیقی مکمل روشنی نصیب نہیں ہو سکتی اور سیرت طیبہ (جسے ”كان خلقه القرآن“ سے تعبیر کیا گیا ہے) سے ہی قرآن کے انوار پوری طرح سامنے آتے ہیں۔