logo logo
AI Search

کیا اسلام سائنس کا مخالف ہے؟

PDF Copy Share

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کئی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام سائنس کو ردّ کرتا ہے؟ اور کیا اسلامی تعلیمات جدید سائنسی حقائق سے متصادم ہیں؟ اس سوال کا سادہ اور دوٹوک جواب یہ ہے کہ نہیں، اسلام سائنس کا منکر نہیں۔ اسلام میں ایسی کوئی تحریر یا قول نہیں جو سائنس کو ردّ کرتا ہو بلکہ اسلام تو سائنس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انسان کو مشاہدات، تحقیق، غور و فکر، اور علم حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

در اصل آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم ورواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس کے متعلق یا تو اسلام خاموش ہے یا انہیں ردّ کرتا ہے۔ اس بات کا مکمل کریڈٹ یورپ کو جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ظلم و ناانصافی اور حقائق سے آنکھیں بند کرنا ہے۔ تعصب کی عینک اُتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے توآپ کو اس میں دین ودنیا کے ہر شعبہ کے متعلق مکمل رہنمائی ملے گی۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات اور دستورِ زندگی ہے کہ جو آغازِ زندگی سے لے کر اختتام تک ہر موڑ پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ سائنس اور اسلام کے متعلق جو بات عمومی طور پر ذہنوں میں ڈالی جاتی ہے وہ محض ایک بے بنیاد الزام ہے۔

سائنس کیا ہے؟

"Science is the process of learning about the natural world through observation and experimentation"

یعنی: سائنس قدرتی دنیا کے بارے میں مشاہدے اور تجربے کے ذریعے علم حاصل کرنے کا عمل ہے۔

اب اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور غور کریں کہ کیا قرآن و اسلام ہمیں قدرتی مظاہر کے مشاہدہ و تجربہ کرنے کی دعوت نہیں دیتا؟

قرآن پاک میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو کائنات کے عجائبات و مظاہر میں غور و فکر کی دعوت دی ہے، چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے:﴿سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”ابھی ہم انہیں آسمان و زمین کی وسعتوں میں اور خود ان کی ذاتوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان کیلئے بالکل واضح ہو جائے گاکہ بیشک وہ ہی حق ہے۔“(سورۃ حم السجدہ:آیت 53)

یہ آیت بالکل صراحت سے بتا رہی ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا انسان کو اللہ کی وحدانیت اور سچائی تک لے جاتا ہے، اور یہی سائنس کا مقصد ہے یعنی حقائق کی تلاش۔

مزید ایک اور مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے: ﴿اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی تبدیلی میں اور کشتی میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندگی بخشی اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم کے پابند ہیں ان سب میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔“ (سورۃالبقرہ، آیت: 164)

اس کے تحت شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد قاسم قادری دامت برکاتہم العالیۃ لکھتے ہیں: "آسمان و زمین کی تخلیق، آسمان کی بلندی، اس میں چمکتے ہوئے ستارے، اس کا بغیر ستونوں کے قائم ہونا، سورج چاند، ستاروں کے ذریعے اس کی زینت سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ یونہی زمین اور اس کی وسعت، اس میں موجود پہاڑ، معدنیات، جواہرات، اس میں رواں سمندر، دریا، چشمے، اس سے اگنے والے درخت، سبزہ، پھل، پھول، نباتات، شب و روز کا آنا جانا، دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا، سمندر میں بھاری بوجھ کے باوجود کشتیوں کا تیرنا، لوگوں کا اس میں سوار ہونا، سمندری عجائبات، ہواؤں کا چلنا، سمندر کے ذریعے مشرق و مغرب میں تجارت کرنا، سمندر سے بخارات کا اٹھنا، بارش کی صورت میں برسنا، بارش سے خشک اورمردہ زمین کا سر سبز و شاداب ہوجانا، اس پانی اور اس کے ثمرات سے زندگی میں باغ و بہار آنا، زمین میں کروڑوں قسم کے حیوانات کا ہونا، ہواؤں کی گردش، ان کے خواص و عجائبات، یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت اور اس کی قدرت و وحدانیت پر عظیم دلیلیں ہیں۔ یہ سارا تو ایک قسم کا اجمالی بیان ہے۔ مذکورہ بالا چیزوں میں ہر ایک پر جداگانہ غور و فکر کریں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے حیرت انگیز کرشمے نظر آتے ہیں کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ کائنات میں انتہائی کثرت سے پائی جانے والی ہوا پر ہی غور کرلیں تو اس میں نجانے کتنی گیسیں، کتنی تاثیرات اور ضروریات انسانی کی کتنی بنیادی چیزیں ہیں۔ صرف یہی دیکھ لیں کہ اگر ہوا نہ ہو تو تمام انسان دس منٹ کے اندر اندر مرجائیں، زمین کے اوپر اور ہوا میں پائے جانے والے جانوروں کی حیات ختم ہوجائے۔ یہ تو قدرت الٰہی کی ایک قسم کی صرف ایک تاثیر ہے جبکہ قدرت الٰہی کی کھربوں سے زائد قسموں میں ایک ایک چیز میں کروڑوں عجائبات ہیں۔ کسی زمانے میں آنکھ کو صرف دیکھنے کا ایک آلہ سمجھا جاتا تھا اور علمی ترقی کے ساتھ ساتھ آنکھ کے ایسے ایسے ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی عجائبات سامنے آرہے ہیں کہ اب صرف آنکھ سے متعلقہ علوم کی اقسام نہ جانے کتنی ہیں اور لاکھوں لوگ اس علم کے ماہر ہونے کے باوجوداس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہم نے آنکھ سے متعلق ہر چیز کا علم حاصل کرلیا ہے۔ اس آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سائنسی علوم بھی معرفت الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جتنا سائنسی علم زیادہ ہوگا اتنی ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کی پہچان زیادہ ہوگی، لہٰذا اگر کوئی دینِ اسلام کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کی نیت سے سائنسی علوم سیکھتا ہے تو یہ بھی عظیم عبادت ہوگی نیز اللہ تعالیٰ نے جو کائنات میں غور و فکر کا حکم دیا ہے یہ اس حکم کی تعمیل بھی قرار پائے گی۔" (تفسیر صراط الجنان، سورۃ البقرۃ، تحت الآیۃ 164، مکتبۃ المدینہ)

بلکہ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد خود اسلام نے رکھی ہے اور یورپ میں سائنسی علوم کی منتقلی میں بھی اہم کردار مسلمان سائنسدانوں کا ہے۔ آپ مشہور سائنسدانوں کی فہرست اٹھالیں۔ معلوم ہوگا کہ دنیا کے مشہور سائنسدان مثلاً: Father of Chemistry جابر بن حیان، علم ریاضیات اور جغرافیہ کے ماہر۔ الخوازمی، منطق و فلسفہ کے معلم ثانی۔ الفارابی، The Father of Optics ابن الہیثم، طب و فلسفہ کے ماہر ابن سینا، حجۃ الاسلام امام غزالی اور جابر بن سنان وغیرہ یہ سب مسلمان تھے۔ لہذا یہ ایک غلط بیانیہ و الزام ہے کہ اسلام، سائنس کے متعلق خاموش ہے یا اسے ردّ کرتا ہے۔

ہاں اسلام اُن سائنسی تحقیقات اور تجربات کو ضرور ردّ فرماتا ہے کہ جو قطعیات (Certainties) یا عقل و خِرد کے بالکل خلاف ہیں، اور ان پر کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہ ہو، کیونکہ جو باتیں مسلّمہ و مضبوط دلائل سے ثابت ہوں، انہیں محض کسی سائنسی تجربہ یا مشاہدہ کی بناء پر ردّ نہیں کیا جاسکتا کہ سائنسی تجربات میں تبدیل و تبدّل ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

جو افرا د اسلام و سائنس کے باہم متصادم ہونے کا الزام لگاتے ہیں وہ دراصل اس وجہ سے کہ جب اسلام کسی سائنسی بات کا ردّ کرتا ہے تو اسلام دشمنوں کی جانب سے اسلام کے خلاف باتیں کَسی جاتی ہیں اور اسلام کو سائنس کا مطلقاً منکر قرار دے دیا جاتا ہے، جو کہ کسی طرح درست نہیں۔ کتنی ہی ایسی سائنسی تحقیقات موجود ہیں جو پہلے غلط تھیں، بعد میں مزید تجربات کے ذریعے حقیقت واضح ہوئی اور اُس حقیقت کا بیان اسلام میں صدیوں پہلے سے موجود تھا۔ جنین سے متعلق سالوں سے اسی سائنسی تحقیق کو قابلِ اعتماد مانا جاتا تھا کہ جنین کا اصل مادّہ عورت کا حیض والا خون ہوتا ہے، مرد کا نطفہ فقط صورت فراہم کرتا ہے لیکن جب دوبارہ اس پر تحقیق کی گئی تو واضح ہوا کہ انسانی پیدائش میں مرد و عورت دونوں کا نطفہ یکساں کردار ادا کرتا ہے۔ عورت کا حیض انسانی پیدائش کا اصل مادّہ نہیں۔ اور یہی بیان قرآن مجید فرقان حمید میں واضح طور پر صدیوں پہلے سے موجود تھا۔ اب کیا یہ کہا جائے گا کہ اسلام پہلے سائنس کا منکر تھا اور اب سائنس کو مانتا ہے؟ یا یہ کہا جائے کہ جنین سے متعلق پہلے سائنسی تحقیق اسلامی تعلیمات اور حقائق کے موافق نہ تھی اور اب اسلامی تعلیمات کے موافق و درست ہے، لہٰذا اگر اسلام کسی سائنسی تحقیق کا ردّ کرتا ہے تو اس سے یہ نیتجہ نکالنا ہرگز درست نہیں کہ اسلام مطلقا سائنس کو ردّ کرتا ہے۔

اللہ کریم دینِ اسلام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

02 ستمبر 2026ء

متعلقہ مضامین

قومی و نسلی تفاخر (قسط 3)

اسلام نے جاہلیت کی تاریک رسموں کو مٹایا، مگر قومی و نسلی تفاخر جیسی عادات آج بھی بعض مسلمانوں میں نظر آتی ہیں۔