اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ،
أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
از: مفتی محمد قاسم عطاری
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ- اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ﴾ترجمہ کنز العرفان: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو، بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے، جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ (پارہ 14، سورۃ النحل: 125)
خدمتِ دین کا جذبہ اُخروی سعادت اور اس فریضے کو سر انجام دینا عظیم عبادت ہے، لیکن جیسے ہر عبادت کےلئے اس کے ضروری احکام و آداب ہوتے ہیں، ایسے ہی دین کی دعوت دینے اور اس کی حفاظت کرنے والوں کے لیے بھی احکام و آداب ہیں، جن میں سے کچھ اوپر مذکورہ آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ آئیے! آیت کی روشنی میں ان امور کی کچھ تفصیل ملاحظہ کرتے ہیں ،البتہ یہاں یہ یاد رہے کہ نیچے کی تمام گفتگو عمومی دعوت و تبلیغ اور بحث و مباحثہ کے متعلق ہے اور نیچے بیان کردہ تفصیلات میں اس باب کے تمام احکام کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ دین کے دیگر بہت سے تقاضے اپنے اپنے موقع پر سامنے آتے ہیں، جن کے اسالیب و الفاظ کی صورتیں اور حکمتیں مختلف ہوجاتی ہیں اور وہ دیگر اسالیب و آداب بھی قرآن و حدیث اور سلف صالحین سے ثابت ہیں۔ نیچے بیان کردہ کلام عمومی احوال کے اعتبار سے ہے، نیز اس تمام کلام کی روشنی میں دوسروں کو نہیں، بلکہ اپنے آپ کو دیکھنا ہے کہ میں ان احکام پر عمل اور آداب کو بجا لاتا ہوں یا نہیں۔
قرآن و حدیث کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کی کوشش کرنا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ اس فریضے کی انجام دہی کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتےہیں، جن میں وعظ و نصیحت، نیکی کی دعوت، انفرادی کوشش، اجتماعی تقریر و بیان اور احسن انداز میں بحث و مباحثہ سب شامل ہیں۔ ان تمام طریقوں کے عمدہ استعمال کے بے شمار فوائد ہیں، مثلاً: دعوتِ دین کی کوششوں سے لوگوں کو برے عقائد سے نجات ملتی، صحیح عقائد کی پہچان ہوتی اور ان کے عقائد و اعمال، نیز اخلاق و کردار کی اصلاح ہوتی ہے۔ ایمان کو تازگی میسر آتی ہے، قلوب معرفت الہی سے شناسا، محبتِ الٰہی سے معمور اور خوفِ خدا سے لبریز ہوتے ہیں، قربِ نبوی کی سعادت اور عشقِ رسول کی دولت ملتی ہے، رضائے الٰہی کی طلب، حصولِ ثواب کی رغبت، جنت کا شوق اور جہنم کا خوف پیدا ہوتا ہے، یونہی انفرادی و اجتماعی اور خاندانی و معاشرتی اصلاح کا بہت زیادہ مدار نیکی کی دعوت ہی پر ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ بالا فوائد کا حصول اسی وقت ممکن ہے، جب وعظ و نصیحت اس کے مطلوبہ انداز پر کی جائے اور موقع ومحل کی مناسبت، زمانے کے تقاضے، لوگوں کی نفسیات اور شریعت کی رہنمائی کے مطابق دین کی تبلیغ کی جائے، جیسا کہ شروع میں مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نےفرمایا: ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو۔‘‘ (پارہ 14، سورۃ النحل: 125)
مفسرینِ کرام نے اس آیتِ مبارکہ کے اہم الفاظ کی بہت جامع تشریح بیان فرمائی ہے، جس سے آیت کا اصل مفہوم سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ پہلے فردا فردا ان الفاظ کے معانی و مفاہیم کوسمجھتے ہیں، پھر مجموعی حکم پر غور کرتے ہیں۔
فرمایا: ﴿اُدْعُ اِلٰى سَبِيلِ رَبِّكَ﴾ یعنی لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔
رب کا راستہ اسلام، دین اور شریعت ہے۔ اچھے اخلاق، حسنِ معاشرت، ظاہری و باطنی مطلوب فضائل ،بلکہ زندگی کے جملہ امور کے متعلق شرعی احکام سب اللہ تعالیٰ کے راستے کا حصہ ہیں کہ ان کی طرف بلانا، ’’اللہ کے راستے‘‘ کی طرف بلانا کہلاتا ہے۔
اور فرمایا: ﴿بِالْحِكْمَةِ﴾ یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ بلاؤ۔
حکمت سے مراد کتاب و سنت ہے۔ (تفسير ابن كثير، جلد 04، صفحہ 613، مطبوعہ دارطیبہ، رياض) حکمت سے مراد پختہ اور یقینی دلائل ہیں کہ جن کے ذریعے مخاطب کے شبہات دور ہوجائیں۔ یونہی حکمت سے مراد ایسا درست اور برمحل کلام ہے، جو دلوں پر بہترین اثر ڈالے۔ (روح المعانی، جلد 7، صفحہ 487، مطبوعہ دار الكتب العلميۃ، بيروت) یوں ہی حکمت میں یہ بھی داخل ہے کہ کس عمل کے بارے میں کس موقع پر کیسی مناسب گفتگو کرنی چاہیے۔
اور فرمایا: ﴿وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾ یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔
’’وعظ و نصیحت‘‘ کا معنیٰ ہے: کسی کو ثواب و عذاب یاد دلا کر ایسی نصیحت کرنا جس سے اس کا دل نرم ہو اور وہ نصیحت قبول کرے۔ (روح البیان، جلد 05، صفحہ 97، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بيروت) اچھی نصیحت کرنے کی مزید وضاحت یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر آنے والے عذاب، سابقہ امتوں کے واقعات اور عبرت آموز باتیں یاد دلائی جائیں، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈریں اور نصیحت قبول کریں۔ (تفسير ابن كثير، جلد 04، صفحہ 613، مطبوعہ دار طیبہ، رياض)
اچھی نصیحت میں یہ بھی داخل ہے کہ لوگوں کو قرآن و سنت اوردین و شریعت کی طرف نرمی، شفقت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دعوت دیں، نہ کہ سختی، درشتی اور سخت لہجے سے۔ (تفسیر قرطبی، جلد12، صفحہ 461، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت) دیگر الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ موعظۂ حسنہ یہ ہے کہ نصیحت میں ترغیب کے ساتھ ترہیب، اور بشارت کے ساتھ اِنذار کو جمع کیا جائے؛ یعنی نیکی پر خوشخبری بھی دی جائے اور گناہ پر سزا سے بھی خبردار کیا جائے۔ (تفسیر نسفی، جلد 02، صفحہ 242، مطبوعہ دار الكلم الطيب، بیروت)
مزید فرمایا:﴿وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-﴾ یعنی مخالفین سے اس طریقہ سے بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
جِدَال یعنی بحث و مباحثہ حقیقت میں دعوت کا طریقہ نہیں، بلکہ اس کابنیادی مقصد مخالف پر حجت قائم کرنا، اُسے لاجواب کرنا اور اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کا اِزالہ کرنا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جِدال کو دعوت سے الگ ذکر فرمایا، تاکہ واضح ہوجائے کہ جِدال کا اصل مقصد مخالف پر ایسی دلیل قائم کرنا ہے کہ وہ جواب دینے سے عاجز ہو جائے یا اس کی بات کا بطلان واضح ہو جائے۔ (تفسير كبير، جلد 07، الجزء 20، صفحہ 287، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)
بحث و مباحثہ کا اصل مقصود دعوت نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں دعوت شامل ہی نہیں ،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحث و مباحثہ میں اصل اور ابتدائی مقصد اپنے دعوے کو ثابت کرنا اور مخالف کی غلطی کو واضح کرنا ہے، لیکن آخرکار مقصود یہی ہے کہ سامنے والا اپنی غلطی کو سمجھ کر حق قبول کرنے کی طرف آجائے او ریہ بات دعوت ہی کی صورت ہے۔
البتہ بحث ومناظرہ میں بھی عمدہ اسلوب ہی اپنایا جائے، جیسے اگر مدمقابل ذاتیات پرحملہ کرے اور ایذا پہنچائے، تو اسے درگز کر دیں اور اصل مدعا و مقصود پر توجہ رکھ کر اسے بہترین انداز میں ثابت کریں۔ حضرت مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی بیان کیا ہے کہ ﴿وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-﴾ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذا کو نظر انداز کر دو۔ (تفسیر طبری، جلد 14، صفحہ 401، مطبوعہ دار هجر، قاھرہ)
اچھے انداز سے بحث میں یہ بھی داخل ہے کہ سچے عقیدے کا نمائندہ اپنی طرف سے نرمی، حِلم، خوش اخلاقی، آسان اسلوب اور معروف مقدمات کو اختیار کرے۔ (روح المعانی، جلد 7، صفحہ 487، مطبوعہ دار الكتب العلميۃ، بيروت)
آیت کا مکمل تشریحی مفہوم :
اوپر بیان کردہ الفاظ کے الگ الگ معانی کو جمع کرکے ان کی روشنی میں آیت کا مکمل تشریحی مفہوم بیان کیاجائے، تو وہ یہ بنے گا کہ لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو، انہیں اسلام، دین، شریعت، اچھے اخلاق، حسنِ معاشرت، زندگی کے جملہ امور کے متعلق شرعی احکام کی طرف بلاؤاور یہ دعوت حکمت کے ساتھ ہو یعنی آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوی کے ذریعے دعوت دو۔ لوگوں کے سامنے ایسے پختہ اور یقینی دلائل بیان کرو کہ ان کے ذریعے وساوس و شبہات دور ہوجائیں ۔ کلام ایسا درست اور موقع محل کے مطابق کرو کہ دلوں پر بہترین اثر ڈالے۔
تمہارا خدا کے راستے کی طرف لوگوں کو بلانا اچھی نصیحت اور عمدہ وعظ کی صورت میں ہو، جیسے لوگوں کو صحیح عقیدے اور نیک اعمال پر ثواب کی بشارتیں، جبکہ کفر اور گناہوں پر عذاب کی وعیدیں اس طرح سناؤ کہ لوگوں کے دل نرم ہوجائیں اور وہ نصیحت قبول کریں۔ وعظ و نصیحت میں لوگوں کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر کس طرح پہلی قوموں پر عذاب آئے۔ نیز وعظ و نصیحت اور خطاب و بیان میں نرمی، شفقت اور حسنِ اخلاق اختیار کرو اور سختی، درشتی اور سخت لہجہ استعمال کرنے سے بچو۔
وعظ و نصیحت کے علاوہ جب کبھی مخاطب سے بحث و مباحثہ کی ضرورت پیش آجائے، تو مخالف کے سامنے ایسی دلیل قائم کرو کہ اس پر اس کی بات کا بطلان واضح ہو جائے اور آخرکار سامنے والا اپنی غلطی کو سمجھ کر حق قبول کرنے کی طرف آجائے ۔ بحث و مناظرہ میں اگر مد مقابل ذاتیات پر حملہ کرے اور ایذا پہنچائے تواس سےدرگزر کرو اور اصل مدعا و مقصود پر توجہ رکھ کر اسے بہترین انداز میں ثابت کرو۔ مخاطب سے اچھے انداز میں بحث کرو یعنی حتی الامکان نرمی، برداشت، خوش اخلاقی، آسان اسلوب اور معروف مقدمات اختیار کرو۔
بیان کردہ تفاسیر اور تفصیلی مفہوم سمجھنے کے بعد آسانی سے سمجھ آجاتا ہے کہ اس آیت قرآنیہ میں دین کی طرف دعوت اور اس کے دِفاع کے تین بنیادی اُصول بیان فرمائے گئے ہیں: (1) حکمت، (2) موعظۂ حسنہ، (3) مجادلہ بَطریقۂ اَحسن۔
دعوت دین کا پہلا اسلوب، حکمت ہے۔
دعوتِ دین میں حکمت استعمال کرنا نہایت اہم ہے اور حکمت بذاتِ خود عظیم خوبی، کمال اور نعمتِ الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اللہ جسے چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جسے حکمت دی جائے، تو بیشک اسے بہت زیادہ بھلائی مل گئی۔ (پارہ 03، سورۃ البقرۃ: 269)
جس کی دعوت قرآن و سنت کے دلائل سے مزین، پختہ دلائل پر مبنی اور لوگوں کے عقل و فہم، موقع محل، حالات و ضرورت کے مطابق ہو، الفاظ کا چناؤ تہذیب کے مطابق اور مشکل کی بجائے آسان الفاظ پر مشتمل ہو، تو لوگ اس کی دعوت کو قبول کریں گے، جبکہ جہاں دعوت دین میں قرآن و حدیث کا نام و نشان نہ ہو، کمزور دلائل اور سطحی باتیں ہوں، وقت کے تقاضوں اور لوگوں کے احوال سے بے خبری یا غفلت ہو، لب و لہجہ اور اسلوب کلام تہذیب و وقار سے عاری ہو، نرمی کی جگہ سختی، بیانِ حق کی بجائے تذلیل و تحقیر کی روِش ہو، وہاں دعوت کے اچھے اثرات کی توقع کرنا، کریلے کے پودے سے آم کھانے کی امید رکھنے کے برابر ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ جب حکمت سے مراد قطعی دلائل ہیں، تو اس طریقے کے ساتھ ان لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے، جو عقل اورفہم و شعور پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے ہوں، کیونکہ ایسے لوگ دعوت میں سب سے زیادہ اس کے درست اور یقینی ہونے پر غور کرتے ہیں اور محض وعظ و نصیحت کی طرف کم آتے ہیں۔ لہذا ایسے لوگوں کو دینِ حق کی دعوت حکمت، یعنی قطعی اور یقینی دلائل کے ذریعے دی جائے۔ فی زمانہ دعوتِ دین میں عقلی دلائل، سائنسی حقائق، نفسیاتی اثرات کا درست بیان کرنا بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔یہاں ایک جامع اصول پیش نظر رکھنا ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے: ”كلموا الناس على قدر عقولهم“ ترجمہ: لوگو ں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کرو۔
دعوتِ دین کا دوسرا اسلوب، اچھی نصیحت ہے۔
اچھی نصیحت کے ذریعےعام لوگوں کو راہِ خدا کی طرف بلایا جاتا ہے، کیونکہ یہ غور و فکر کرنے کی بجائے، دل میں اترجانے والی باتوں کو جلد قبول کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے نیکیوں پر بشارتیں اور گناہوں پر جہنم کی وعیدیں جلد اثر انداز ہوتی ہیں اور اکثر لوگ اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اچھی نصیحت خیر خواہی، نرمی، شفقت اور دلوں کی نرمی پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن اگر لوگوں کو ہمیشہ ڈرانے یا ہمیشہ امیدیں دلانے کی عادت ہو، تو محض ڈراتے رہنے سے وہ رحمتِ خداوندی سے مایوس ہوجائیں گے اور محض رحمت کی باتیں سن کر وہ عمل سے غافل ہوجائیں گے، جیسا کہ اس کا عام مشاہدہ ہے۔ موعظۂ حسنہ میں ضعیف روایات بھی قبول کی جاسکتی ہیں، لیکن من گھڑت چیزیں ہرگز قبول نہیں، خواہ وہ خود ساختہ حدیثیں ہوں یا قصے کہانیاں۔ یونہی لب و لہجے کی شفتگی، آواز کا دلنشین اتار چڑھاؤ بھی تقریر و بیان کو بہت مؤثر بنادیتا ہے، جبکہ چیخنا، دھاڑنا، لتاڑنا اکثر و بیشتر قبول کی بجائے دعوت کے مسترد ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔
خدمتِ دین کا تیسرا اسلوب جِدال یعنی بحث و مباحثہ ہے۔
خدمت دین میں جِدال یعنی مباحثہ و مناظرہ بھی داخل ہے۔ خدمت دین، حمایتِ اسلام اور عقائدِ صحیحہ کی تائید و نصرت میں مباحثہ و مناظرہ کی ضرورت بھی پیش آتی رہتی ہے۔ یہ طریقہ ان لوگوں کے ساتھ برتا جاتا ہے، جن کی طبیعت میں جھگڑا، نزاع اور مخالفت کا مزاج زیادہ ہے۔ ایسے جھگڑالو اور مخالفانہ سوچ رکھنے والے لوگوں سے بھی بحث کرنے میں قرآن نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ گفتگو بہترین اور شائستہ انداز سے کی جائے، تاکہ حق واضح ہو جائے اور اس کے ساتھ حسنِ اخلاق بھی برقرار رہے، تاکہ مخالف کی ضد ختم ہو اور وہ حق قبول کرنے کے قریب آئیں۔
قرآن مجید نے مباحثہ و مناظرہ کا طریقہ نہایت جامع الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا کہ احسن طریقے سے جِدال کرو۔ جس میں بنیادی طور پر دو باتیں ہیں: ایک تو دلائل اور دوسرا اُن دلائل کو پیش کرنے کا انداز۔
جدال یعنی مباحثہ و مناظرہ میں پہلا قابلِ غور پہلو دلائل کا ہے۔ دلیل ایسی باتوں پر مشتمل ہو جنہیں سب تسلیم کرتے ہوں یا مدمقابل کے نزدیک قابلِ تسلیم ہو، جیسے کسی مسلمان سے مباحثہ ہے، تو قرآن و حدیث کے دلائل عمومی طور پر سب کے نزدیک قابلِ قبول ہوتے ہیں، جبکہ کسی دوسرےمذہب کے آدمی سے مکالمہ ہو، تو عقلی دلائل اور دوسرے مذہب کی تسلیم شدہ کتاب کے دلائل دینا مفید ثابت ہوتا ہے۔ مسلمان کہلانے والے فرقوں سے بحث ہو، تو دوسرے فرقے کی تسلیم شدہ شخصیت یا کتاب کا حوالہ دینا معتبر ہوتا ہے۔ بہرحال مباحثے کا مدار دلائل ہی پر ہونا چاہیے، اس کی بجائے شور و غوغا، مغالطے، فریب اور غلط طریقوں سے کسی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرنا یا دوسرے کو صرف نیچا دکھانا ہی مقصود ہو تو یہ طریقہ ناحق ہے اور اہلِ فضل کی شان کے خلاف ہے۔
جدال یعنی مباحثہ و مناظرہ میں دوسرا پہلو دلائل پیش کرنے کے انداز کا ہے۔ اس کے متعلق گزارش یہ ہے کہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے مختلف رسولوں کے اپنی قوم سے کلام کا ذکر کیا ہے اور وہاں رُسلِ کرام عَلَيْهِمُ الصَّلوٰةُ وَ السَّلَامُ کا یہ کلام بیان فرمایا ہے کہ وہ بار بار کہتے تھے: ہم تمہارے خیر خواہ ہیں، چنانچہ ﴿اَنْصَحُ لَكُمْ﴾ (پارہ 08، سورۃ الاعراف: 62) (تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں) اور ﴿وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ﴾ (پارہ 08، سورۃ الاعراف: 68) (اور میں تمہارے لئے قابلِ اعتماد خیرخواہ ہوں)کے الفاظِ مبارکہ متعدد مقامات پر موجود ہیں۔ یہ الفاظ بتاتےہیں کہ مجادلہ و مباحثہ کے وقت بھی مدمقابل کی خیر خواہی کا جذبہ موجود ہونا چاہیے اور یہ بات واضح و بدیہی ہے کہ سامنے والے کی تحقیر و تذلیل کرکے خیرخواہی نہیں ہوسکتی ، بلکہ یہ اسی طریقے سے ہوگی جوطریقہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ و ہارون عَلَيْهِمَا الصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُکو فرعون کے دربار میں بھیجتے وقت دونوں ہستیوں کو سکھایا تھا ۔حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَيْهِمَاالصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ کو فرعون جیسے متکبر اور سرکش شخص کے پاس بھیجتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشَى﴾ ترجمہ کنز العرفان: تو تم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔ (پارہ 16، سورۃ طٰہٰ: 44) جب فرعون جیسے کافرکے ساتھ نرم گفتگو کا حکم ہے تو فرعون سے نیچے کے کافر اور گمراہ لوگوں سے کس انداز میں بات ہونی چاہیے، اسے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے ۔
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: مجادلہ سے مراد ایسا مناظرہ ہے، جو حق پر مبنی ہو اور جس میں نرمی، حلم، درگزر، حسنِ اخلاق، لوگوں کی عقل کے مطابق گفتگو، انجام پر نظر، صبر اور بردباری اختیار کی جائے۔ اس مجادلے کا مقصد صرف حق کو واضح کرنا اور سچائی کو ظاہر کرنا ہو، نہ کہ ذاتی غرض، شہرت یا غلبہ حاصل کرنا۔ نیز مخالفین، خواہ وہ ضدی اور گمراہ ہی کیوں نہ ہوں، ان کے ساتھ بھی خیرخواہی، رحم دلی اور ہمدردی کا رویہ رکھا جائے۔ یہی "احسن مجادلہ" کا حقیقی مفہوم ہے۔ (روح البیان، جلد 05، صفحہ 98، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بيروت)
خلاصہ کلام:
آج مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد دینی احکام سے ناواقف اور عمل کے جذبے سے محروم ہونے کی وجہ سے اپنے انفرادی، خاندانی، سماجی، معاشی اور معاشرتی معاملات میں شریعت پر عمل سے دور ہے اور یہ دوری مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ دین سے بیزار طبقہ بہت بڑی تعداد میں موجود ہے، جو دین کو نفسانی خواہشات کی تکمیل میں رکاوٹ سمجھنے کی وجہ سے دین سے خود بیزار اور دوسروں کو بیزار کرنے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے، بلکہ اب تولبرل ازم کے نام پر کھلم کھلا دین کا انکار کرنا بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ ایسے لوگ کہیں تو کھلے الفاظ میں دین پر اعتراض کرتے ہیں، لیکن اکثر اوقات دینی امور پر واضح اعتراض کی جرأت کرنے کی بجائے دین سے متنفر کرنے کےلیے علماء و مذہبی لوگوں کے لب و لہجے اور الفاظ و انداز کو منفی انداز میں پیش کر کے مسلمانوں کو دین سے متنفر کرتے ہیں۔ ایسی نازک صورت حال میں دینی طبقے کی حکمت و نصیحت کے قرآنی اسلوب سے ہٹ کر سختی اور درشتی پر مبنی انداز لوگوں کی اصلاح کی بجائے ایسے دین بیزاروں کی تائید کا سبب بن جاتا ہے، لہٰذا دعوت و اصلاح کا میدان قرآنی اسلوب ہی کا تقاضا کرتا ہے کہ لوگوں کی اصلاح خیر خواہی، نرمی، شفقت، دلجوئی اور درد مندی کے ساتھ کی جائے، اسی طرح زیادہ مؤثر انداز میں دین کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ اس کے برخلاف دعوتِ دین میں سخت الفاظ، تحقیر آمیز انداز اور بے جا تنقید اکثر و بیشتر مخاطب کے دل میں نفرت، ضد اور دوری پیدا کر دیتی ہے، بلکہ دیکھنے سننے والو ں کو بھی دین سے دور کرنے کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ نرم گفتگو دلوں کو جیت لیتی ہے۔ اسی لیے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّمَ نے نرمی کو خیر کا سبب قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا : من اعطی حظه من الرفق فقد اعطی حظه من الخير، و من حرم حظه من الرفق فقد حرم حظه من الخير“ ترجمہ: جس شخص کو نرمی کا حصہ دیا گیا، یقیناً اسے خیر و بھلائی کا حصہ عطا کر دیا گیا اور جسے نرمی کے حصے سے محروم کردیا گیا ،اسے خیر و بھلائی کے حصے سے محروم کر دیا گیا۔ (سنن ترمذی، كتاب البر و الصلة، باب ما جاء في الرفق، جلد 03، صفحہ 407 ، 408، رقم الحدیث 2020، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
دعوتِ دین کے خادمین کے لیے قابلِ غور سوالات:
شروع میں مذکور آیتِ مبارکہ اور مفسرین کرام کی بیان کردہ تشریحات پڑھنے کے بعد اب ہرخادمِ دین کو غور و فکر کی دعوت ہے کہ وہ اپنے طور پر اپنے وعظ و تقریر اور خطابت و مباحثہ کے اسلوب و انداز پر غور کرلے کہ قرآن کے فرمان کے مطابق ہے یا اس میں بہتری کی حاجت ہے؟ چند سوالات پیش خدمت ہیں جو ہر مقرر و مبلغ خود سے پوچھ سکتا ہے۔
(1) کیا میں وعظ و نصیحت میں قرآن و حدیث اور معتبر واقعات و دلائل بیان کرتا ہوں، یا من گھڑت روایات، غیر تحقیقی احادیث اور غیر مستند قصے کہانیوں سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہوں؟
(2) کیا میں سامعین کی عقل، فہم، علمی سطح اور ذہنی استعداد کے مطابق گفتگو کرتا ہوں، یا ہرجگہ ایک ہی انداز اور طریقے سے گفتگو کرتا ہوں؟
(3) کیا میں موقع محل، زمانے کے تقاضوں اور لوگوں کے حالات کو سمجھ کر دعوت دیتا ہوں، یا حالات اور مخاطبین کی نفسیات پر غور کیے بغیر اپنے موڈ، مزاج اور طبیعت کے مطابق اپنی بات کہہ دیتا ہوں؟
(4)کیا میں دعوتِ دین میں مشکل اور پیچیدہ الفاظ کی بجائے آسان، واضح اور قابلِ فہم زبان استعمال کرتا ہوں، یا ایسی گفتگو کرتا ہوں جسے مخاطب کے لئے سمجھنا ہی مشکل ہو؟
(5) کیا میں لوگوں کو نیکیوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت، ثواب اور جنت کی بشارتیں بھی دیتا ہوں اور گناہوں کے انجام، عذاب اور آخرت کا خوف بھی دلاتا ہوں، یا ہمیشہ صرف ڈراتا یا صرف امیدیں دلاتا رہتا ہوں؟
(6) کیا میری نصیحت میں خیر خواہی، شفقت، نرمی اور دل سوزی ہوتی ہے، یا میں سختی، درشتی، غصے اور تلخ لہجے کو دعوتِ دین کا نام دے دیتا ہوں؟
(7) کیا میں لوگوں کی اصلاح کے لیے ان کی خوبیوں کو نمایاں کرکے اور خامیوں کی طرف نرم الفاظ سے متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں، یا صرف خامیوں کو بیان کرتا ہوں اور خامیاں بھی تحقیر، تذلیل، طعن و تشنیع اور متشددانہ تنقید کی صورت میں بیان کرکے انہیں دین سے مزید دور کردیتا ہوں؟
(8) کیا میری گفتگو میں آواز کا اتار چڑھاؤ، الفاظ کا حسن اور اندازِ بیان دلوں کو متوجہ کرنے والا ہوتا ہے، یا میں چیخنے، دھاڑنے اور سخت لہجے کو مؤثر دعوت سمجھتا ہوں؟
(9) کیا میں بحث و مباحثہ میں دلیل، انصاف اور علمی اصولوں کو بنیاد بناتا ہوں، یا شور و غوغا، مغالطہ، فریب اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے طریقے پر عمل پیرا ہوں ؟
(10) کیا میں مخالف کے ساتھ مباحثے میں مسلمانوں کی سچی دلی خیرخواہی کا جذبہ رکھتا ہوں، یا مباحثے کا انداز ان چیزوں کی نفی کرتا ہے؟
(11) کیا میں مخالف کے ذاتی حملوں، سخت کلامی اور ایذا رسانی کو نظر انداز کر کے اصل موضوع پر توجہ رکھتا ہوں، یا ذاتی حملے کا جواب ذاتی حملے سے دے کر اصل مقصد ہی بھول جاتا ہوں؟
(12) کیا میں اختلاف رکھنے والوں سے نرمی، حلم، صبر، برداشت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ گفتگو کرتا ہوں، یا اپنوں سےاختلاف پر بھی غصہ، بد زبانی، تمسخر اور نفرت کا اظہار شروع کردیتا ہوں؟
ایک فائنل سوال:
دین کی دعوت دینے والا غور کرے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف بلاتے ہوئے اپنے اندازِ دعوت کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے سے دور کر رہا ہوں؟
اللہ تعالیٰ ہمیں نیکی کی دعوت اور دین کی خدمت میں اس طریقے کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ،جو اسے پسند ہے اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے اختیار فرمایا۔ آمِين بِجَاهِ النَّبِيِّ الْأَمِيْنِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّمَ
11 اگست2026ء