بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کا زمانہ کہ جب یہ دنیا جہالت کی سیاہ چادر اوڑھے ہوئی تھی، ہر طرف کفر و عصیاں کی ظلمتیں چھائی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد نور بہار سے یہ زمانہ یکسر بدل گیا اور جہالت کی تمام گھٹائیں چھٹ گئیں اور زمانہ روشن و نور سے منور ہوگیا۔ زمانہ جاہلیت تو ختم ہوگیا لیکن رفتہ رفتہ اُس زمانہ جاہلیت کی بعض عادات و اطوار دوبارہ لوگوں میں اُبھریں اور آج بھی ہمارے زمانے میں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ خود کو مسلمان کہلانے والے بعض لوگ، نفس و شیطان کے ہاتھوں گرفتار ہو کر اُن عادات کو اپناتے ہیں کہ جنہیں اسلام رد فرما چکا ہے۔؎
واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شُعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے
یاد رہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو اسلام کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو عزت، احترام اور حقِ مساوات دیتا ہے۔ قرآن کریم واضح طور پر بتاتا ہے کہ انسانیت کی بنیاد حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام و حضرت حوا رضی اللہ عنہا ہیں، اور کسی قوم، قبیلے یا نسب کی برتری اللہ کے نزدیک صرف تقویٰ سے ہے۔ اس کے باوجود انسانی تاریخ میں قوم پرستی، نسلی تفاخر، خاندان پر گھمنڈ اور نسب پر تکبر ایسے امراض ہیں جنہوں نے معاشروں کو توڑا، دلوں میں نفرت بھری اور انسانوں کو انسانوں کا دشمن بنا دیا۔آج بھی یہی نسلی تفاخر و تکبر بعض قوموں میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اپنی قوم و خاندان کو دیگر سے برتر و اعلی تصور کرتے ہوئے دوسری قوم، خاندان کو کمتر خیال کیا جاتا ہے جس کی بناء پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا دوسرے لوگ ان کی ملکیت و غلامی میں ہیں اور انہیں پاس بٹھانا یا میل جول رکھنا گویا ان کیلئے قصرِ شان کا باعث ہوتا ہے، اس تکبر کا نتیجہ زبان پر یوں ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر لوگوں کو گھٹیا الفاظ سے پکارا جاتا ہے ۔
تم کون ہو؟
میں فلاں قوم سے ہوں،
میں فلاں کا بیٹا ہوں،
تمہارا باپ کون ہے؟
یہی وجہ ہے جس کی بناء پر نفرتیں و دشمنیاں جنم لے رہی ہیں، جبکہ اسلام ان تمام باطل تفکرات کی جڑ کاٹ کر انسان کو حقیقت کی طرف لوٹاتا ہے کہ عزت و شرف، طاقت، نسل یا مال سے نہیں بلکہ خالص تقوی سے ملتا ہے۔
قرآن مجید فرقان حمید نظریہ مساوات بیان فرماتا ہے کہ تمام انسان ایک ماں اور ایک باپ سے پیدا کیے گئے ہیں، لہذا ان میں سے کسی کو دوسرے پر خاندانی یا قومی فضیلت حاصل نہیں: ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔“
آیت کریمہ کے اگلے حصہ میں اللہ پاک نے انسانوں میں مختلف قبائل و قومیں بنانے کا مقصد ارشاد فرمایا، جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قبیلہ، قوم یا خاندان پر کسی طرح کا فخر یا تکبر اس کے مقصد کے بالکل برخلاف ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ہے:﴿وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْا﴾ ترجمہ ٔکنز العرفان: ”اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو۔“
اور اس آیت کریمہ کے آخری حصہ میں اللہ پاک نے فضیلت و برتری کا معیار بیان فرمایا کہ معیارِ افضلیت صرف تقوی ہے، اس اعلان سے ہر طرح کے لسانی، نسلی، خاندانی اور قومی فخر کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے: ﴿اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔“ (سورۃ الحجرات، آیت 13)
اس آیت کریمہ کے تحت شیخ الحدیث و التفسیر مفتی قاسم قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: "ارشاد فرمایا: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ایک عورت حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے پیدا کیا اور جب نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو، تو نسب میں ایک دوسرے پر فخر اور بڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں، سب برابر ہو اور ایک جدِّ اعلیٰ کی اولاد ہو (اس لئے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو) اور ہم نے تمہیں مختلف قومیں،قبیلے اور خاندان بنایاتاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کی پہچان رکھو اور ایک شخص دوسرے کا نسب جانے اوراس طرح کوئی اپنے باپ دادا کے سوا دوسرے کی طرف اپنے آپ کومنسوب نہ کرے، نہ یہ کہ اپنے نسب پر فخر کرنے لگ جائے اور دوسروں کی تحقیر کرنا شروع کر دے۔ یاد رہے! کہ دنیا میں وہ اُمور اگرچہ کثیر ہیں کہ جن کی وجہ سے فخر و تکبر کیا جاتا ہے لیکن نسب ان میں سب سے بڑا اَمر ہے کیونکہ مال، حسن اور بزرگی کی وجہ سے کیا جانے والا تکبر ہمیشہ نہیں رہتا بلکہ ان چیزوں کے ختم ہونے پر تکبر بھی ختم ہو جاتا ہے جبکہ نسب کی وجہ سے کیا جانے والا تکبر ختم نہیں ہوتا، اسی لئے یہاں بطورِ خاص اسے ذکر کیا گیا۔ فخر و تکبُّر کے اَسباب میں سے ایک اہم سبب اپنے نسب کے ذریعے دوسروں پر تکبر کرنا ہے، اس کے بارے میں امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: جس آدمی کا نسب اچھا ہو، وہ دوسرے نسب والوں کو حقیر جانتا ہے اور بعض لوگ حسب ونسب کے ذریعے اس طرح تکبر کرتے ہیں کہ گویا دوسرے لوگ ان کی مِلکِیَّت میں اوران کے غلام ہیں، وہ اِن سے میل جول کرنے اور ان کے پاس بیٹھنے سے نفرت کرتے ہیں اور ا س کا نتیجہ ان کی زبان پر یوں آتا ہے کہ تکبر کرتے ہوئے دوسروں کو گھٹیا قسم کے الفاظ سے پکارتے ہوئے کہتے ہیں: تم کون ہو؟ تمہارا باپ کون ہے؟ میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں، تمہیں مجھ سے بات کرنے یا میری طرف دیکھنے کا کیا حق ہے؟ تو مجھ جیسے لوگوں سے بات کرتا ہے اور مجھ سے اس قسم کی گفتگو کرتا ہے؟۔ یہ ایک ایسی پوشیدہ رگ ہے کہ کوئی بھی نسب والا اس سے خالی نہیں ہوتا اگرچہ وہ نیک اور باعمل ہو، لیکن بعض اوقات حالت اِعتدال پر ہونے کی صورت میں یہ بات ظاہر نہیں ہوتی اور جب اس پر غصے کا غلبہ ہو تو وہ اس کے نورِ بصیرت کو بجھادیتا ہے اور اس قسم کی گفتگو ا س کی زبان پر آ جاتی ہے۔" (تفسیر صراط الجنان، سورۃ الحجرات، تحت الآیۃ 13، مکتبۃ المدینہ)
احادیث مبارکہ میں بھی ہمیں یہی تعلیمات دی گئی ہیں کہ خاندان و قوم یا نسل کی بناء پر کسی کو کوئی فضیلت حاصل نہیں ، جیسا کہ خطبہ حجۃ الوداع میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ کسی عربی النسل کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقوی کے۔یونہی ایک حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب و نسب پر فخر کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "إن اللہ قد أذهب عنكم عبية الجاهلية و فخرها بالآباء، مؤمن تقي وفاجر شقي، أنتم بنو آدم، وآدم من تراب، ليدعن رجال فخرهم بأقوام، إنما هم فحم من فحم جهنم، أو ليكونن أهون على اللہ من الجعلان التي تدفع بأنفها النتن" ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نَخْوَت و غرور کو ختم کر دیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو، اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا ہوئے ہیں، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ وہ جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہے۔ اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو دھکیلتے ہیں۔ (سنن ابو داؤد، ج 4، ص 492، حدیث 5116، مطبوعہ ھند)
یہ بات درست ہے کہ نسب ایک نعمت ہے اور اپنا خاندان، قبیلہ یا قوم انسان کے لئے باعثِ شناخت ہوتا ہے۔ اسلام نسب کو ختم نہیں کرتا، بلکہ احترام دیتا ہے، مگر فخر اور تکبر کی اجازت نہیں دیتا، کہ اس سے آپس میں نفرتیں اور رنجشیں پروان چڑھتی ہیں جو قتل و غارت گیری اور خاندانی جھگڑے کا سبب بنتی ہیں۔ اسلام کا درس عاجزی و انکساری کا ہے کہ جو اللہ کیلئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔
جیسا کہ حدیث پاک میں فرمایا گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے برسرِ منبر فرمایا کہ اے لوگو! عاجزی اختیار کرو، کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: "من تواضع لله رفعه الله فهو في نفسه صغير وفي أعين الناس عظيم ومن تكبر وضعه اللہ فهو في أعين الناس صغير و في نفسه كبير حتى لهو أهون عليهم من كلب أو خنزير" ترجمہ: جو اللہ تعالیٰ کے لیے انکسار و عجز کرتا ہے اللہ اسے اونچا کردیتا ہے تو وہ اپنے دل کا چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کی نگاہ میں بڑا اور جوغرورکرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے نیچا کردیتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہ میں چھوٹا ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا، حتی کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور خنزیر سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔ (مشکوۃ المصابیح، ج 3، ص 1416، حدیث: 5119، المکتب الاسلامی)
اس حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: "یہ قاعدہ بہت ہی مجرب ہے۔ جو کوئی اپنے کو رضا الٰہی کے لیے مسلمانوں کے لیے نرم کردے، ان کے سامنے انکسار سے پیش آئے تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت پیدا فرما دیتا ہے اور اسے بڑی بلندی بخشتا ہے۔ ۔ ۔ جیساکہ آج بھی دیکھا جارہا ہے کہ بعض لوگ شیخی کے مارے اکڑے جاتے ہیں، لوگ انہیں گالیاں دیتے ہیں، انہیں برائی سے یاد کرتے ہیں،دیکھ لو ابلیس اپنے آپ کو بہت ہی اونچا سمجھتا ہے، مگر دنیا اس پر لعنت و پھٹکار کر رہی ہے، یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور۔" (مراۃ المناجیح، ج 6، ص 490، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
قرآن وحدیث یعنی فرامین الہی و فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک مسلمان کی رہنمائی و ہدایت کیلئےبنیادی ذریعہ و بیش بہا خزانہ ہیں اور انہی پر عمل کرنا راہِ فوز و نجات پر گامزن ہونا ہے، ان دونوں کی روشنی میں معلوم ہوا کہ اپنے خاندان، قوم، نسل، زبان وغیرہ پر تفاخر اسلامی طرزِ عمل نہیں، بلکہ غیر اسلامی اور دینی و دنیوی نقصانات کا سبب ہے۔ اللہ پاک ہمیں ان تمام برائیوں سے بچتے ہوئے عجز و انکساری کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم