logo logo
AI Search

زکوٰۃ میں ملی چیز کو آگے گفٹ کر سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

زکوٰۃ میں ملی ہوئی چیز آگے گفٹ دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر ہمیں کوئی سوٹ یا رقم زکوۃ میں ملے، تو پھر ہم وہ کسی کو گفٹ کر سکتے ہیں؟

جواب

اگر آپ مستحق زکوۃ ہیں (یعنی غیر ہاشمی ہیں اور شرعی فقیر بھی ہیں)، اور آپ کو کسی کی جانب سے زکوۃ میں سوٹ یا رقم ملی، اور آپ کا اس پر مکمل طور پر قبضہ بھی ہو گیا، تو آپ اس کے مالک ہیں، جو چاہیں کر سکتے ہیں، آپ چاہیں، تو اسے خود استعمال کریں، اور چاہیں تو کسی اور کو گفٹ وغیرہ کر دیں، جبکہ گفٹ وغیرہ کرنے کی اہلیت آپ میں موجود ہو۔

بخاری شریف میں ہے "قالت: وأتي النبي صلى اللہ عليه وسلم بلحم، فقلت: هذا ما تصدق به على بريرة، فقال: «هو لها صدقة، ولنا هدية" ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: اور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گوشت لایا گیا تو میں نے عرض کہ: یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بریرہ کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، ص 277، رقم حدیث 1493، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

عمدۃ القاری میں ہے ”وحاصله أنها إذا قبضها المتصدق عليه زال عنها وصف الصدقة وحكمها… وللهاشمي أكله منها“ ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ جب صدقہ لینے والا شخص اسے قبضہ کر لے تو اس چیز سے صدقہ کا وصف اور حکم ختم ہو جاتا ہے اور ہاشمی کے لیے بھی اس میں سے کھانا جائز ہے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري جلد 09، صفحہ 132، مطبوعہ: کوئٹہ)

بحرالرائق میں ہے ”وكذا لو وهبها له علم أن تبدل الملك كتبدل العين“ ترجمہ: اسی طرح اگر فقیر وہ چیز مالدار کو ہبہ (تحفہ) کر دے تو بھی جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملکیت کا بدل جانا (مالک کا تبدیل ہو جانا) ایسا ہی ہے جیسے خود عینِ مال کا بدل جانا۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق جلد 02، صفحہ 427، مطبوعہ: کوئٹہ)

کسی کو ہبہ کرنے کے لیے چیز اپنی ملک ہونا ضروری ہے، چنانچہ در مختار میں شرائط ہبہ کو بیان کرتے ہوئے مذکور ہے "وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك" ترجمہ: ہبہ کرنے والے میں ہبہ کی صحت کی شرائط (1) عقل (2) بلوغ اور (3) ملکیت ہونا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الھبۃ، جلد 8، صفحہ 568، مطبوعہ: کوئٹہ )

اپنی ملک میں کوئی چیز آ جانے کے بعد ہر طرح کے تصرف کا اختیار ہے، چنانچہ قربانی کی کھال بطور ہبہ ملنے پر اسے آگے دینے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے "(قربانی کی کھال) غنی کو ہبہ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنا تمول نہیں۔ پھر اس غنی کو اختیار ہے چاہے داموں کو بیچ کر اپنے خرچ میں لائے چاہے کسی کی اجرت یا تنخواہ میں دے چاہے اپنی زکوٰۃ میں دے اور اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی کہ اب حکم اضحیہ منقطع ہو گیا، وہ اس کی ملک ہے جو چاہے کرے۔لقولہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھو لھا صدقۃ ولنا ھدیۃ۔ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدقہ اور ہمارے لے ہدیہ ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 494، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ہر شخص اپنے مال میں کسی بھی قسم کا جائز تصرف کر سکتا ہے، چنانچہ فتاوٰی رضویہ میں ہے ”ہر شخص اپنی صحت میں اپنے مال کا مختا ر ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 19، ص 238، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوٰی امجدیہ میں ہے ”ہر شخص کو اپنے مال کا زندگی میں اختیار ہے چاہے کُل خرچ کر ڈالے یا باقی رکھے۔“ (فتاوٰی امجدیہ، ج 03، ص 267، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5116
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1448ھ/18 جون 2026ء