logo logo
AI Search

زکوٰۃ میں رقم کی جگہ سامان دینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مستحق زکوٰۃ کو رقم دینا ضروری ہے یا سامان دینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مستحق زکوٰۃ کو واشنگ مشین یا گھریلو ضرورت کے سامان کی صورت میں زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ یا زکوٰۃ میں رقم دینا ہی ضروری ہے؟ اس حوالے سے رہنمائی فرما دیں۔

جواب

زکوٰۃ کی ادائیگی میں مستحق زکوٰۃ، شرعی فقیر کو پیسے دینا ہی ضروری نہیں، بلکہ پیسوں کی بجائے، شرعی فقیر کو اس کی ضرورت کا کوئی سامان، مثلا واشنگ مشین وغیرہ دے کر مالک بنا دیا جائے، تو پھر بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، لیکن سامان کی صورت میں زکوٰۃ دینے سے جتنی اس کی بازاری قیمت ہے، اتنی رقم ہی زکوٰۃ کی ادائیگی میں شمار ہوگی، اس کے علاوہ اس سامان کو لانے، لے جانے کے اخراجات زکوٰۃ میں شمار نہ ہوں گے۔

زکوٰۃ کی ادائیگی میں ضرورت کا سامان بھی دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ بخاری شریف میں ہے: عن طاؤس انّمعاذا قال لأهل اليمن: ائتوني بعرض ثياب خميص أو لبيس في الصدقة مكان الشعير و الذرة أهون عليكم و خير لأصحاب النبي صلى اللہ عليه و سلم بالمدينة“ ترجمہ: حضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل یمن سے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس زکوٰۃ کی مد میں جو اورجوار کی بجائے، (ضرورت کی چیزیں) جیسےکپڑے، کالی یا دھاری دار چادریں، یا لباس لے کر آؤ، یہ تمہارے لیے بھی آسان ہے اور مدینہ میں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے لیے بھی زیادہ بہترہے۔ (الصحیح البخاری، جلد 2،صفحہ 116، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

درج بالا حدیث مبارک میں صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے، جیساکہ علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ( في الصدقة)ای الزکوٰۃ“ ترجمہ: صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔ (فتح باب العنایہ، جلد 1، صفحہ 504، مطبوعہ دار الارقم، بیروت)

زکوۃ کی ادائیگی میں سامان دینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، چنانچہ اسی میں ہے: و في «الخانية»: لو أطعم يتيما، أو كساه من زكاته بالتسليم إليه جاز إن كان مراهقا أو يعقل القبض“ ترجمہ: اور خانیہ میں ہے کہ اگر کسی نے زکوۃ کی ادائیگی میں کھانا یا کپڑے یتیم کے سپرد کر دیے، تو اگر وہ یتیم مراہق ہو یا قبضے کی سمجھ رکھتا ہو ، تو زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ (فتح باب العنایہ، جلد 1، صفحہ 536، مطبوعہ دار الارقم، بیروت)

زکوۃ کی ادائیگی میں پیسے ہی دینا ضروری نہیں، سامان بھی دیا جا سکتا ہے، جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے: عوض زر زکوٰۃ کے محتاجوں کو کپڑے بنا دینا، انہیں کھانا دے دینا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائیگی، خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں مگر ادائے زکوٰۃ کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالک کر دیا جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

جو سامان زکوٰۃ کی ادائیگی میں دیا، اس کی قیمت کے برابر زکوۃ ادا ہوگی، لانے لے جانے کے اخراجات زکوٰۃ کی ادائیگی میں شمار نہیں ہوں گے، چنانچہ اسی میں ہے: جس قدر چیز محتاج کی مِلک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجراہوگی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے، مثلاآج کل مکّا کا نرخ نَو سیر ہے نَو من مکّا مول لے کر محتاجو ں کو بانٹی تو صرف چالیس روپیہ زکوٰۃ میں ہوں گے، اُس پر جو پلّہ داری یا بار برداری دی ہے حساب میں نہ لگائی جائے گی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9982
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 08 مئی 2026ء