کیا زکوٰۃ کا وکیل اپنی رقم سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
زکوٰۃ کے وکیل نےاپنی رقم سے زکوٰۃ ادا کردی اور زکوٰۃ والی رقم خود رکھ لی، تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی ہمیں کسی کو دینے کے لئے زکوٰۃ کی رقم دے،تو کیا ہمیں وہی رقم جا کر دینی ہوگی یا ہم آن لائن اپنے اکاؤنٹ سےاس شخص کو رقم بھیج دیں اور وہ زکوٰۃ کی رقم ہم اپنے پاس رکھ لیں؟
جواب
اگرزکوٰۃ دینے والے کی رقم اپنے پاس رکھ لی، ابھی استعمال نہیں کی ، استعمال کرنے سے پہلے،اپنی ذاتی رقم اپنے اکاؤنٹ سے اس کی زکوٰۃ میں اس نیت سے دی کہ اس کی رقم میں رکھ لوں گا،تواس صورت میں زکوٰۃ اداہوجائےگی، اس میں کوئی حرج نہیں ہےاور اس کے برعکس کیا تو ناجائز ہوااور زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی ۔
بہار شریعت میں ہے” زکاۃ دینے والے نے وکیل کو زکاۃ کا روپیہ دیا وکیل نے اُسے رکھ لیا اور اپنا روپیہ زکاۃ میں دے دیا تو جائز ہے، اگر یہ نیّت ہو کہ اس کے عوض مؤکل کا روپیہ لے لے گا اور اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالا بعد کو اپنا روپیہ زکاۃ میں دیا تو زکاۃ ادا نہ ہوئی بلکہ یہ تبرع ہے اور مؤکل کو تاوان دے گا۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 888،مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2419
تاریخ اجرا: 25صفرالمظفر1447ھ/20اگست2025ء