logo logo
AI Search

تجارت کی نیت سے خریدے گئے مکان کے کرائے پر زکوٰۃ ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تجارت کے لئے خریدا گیا مکان کرائے پر دیا، تو کرایہ خود استعمال کر سکتے ہیں یا اس کو زکوٰۃ میں ادا کرنا ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جو مکان تجارت کے لئے خریدا ہو اس کو اجارہ پر دینے سے اس اجرت کا مالک خود اپنے لیے استعمال کر سکتا ہے یا اس کو مکان کی مالیت سے ملا کر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ خود استعمال کرسکتے ہیں۔ نیز تجارت کی نیت سے خریدا ہوا مکان، جب کرایہ پر دے دیا تو اب وہ مالِ تجارت ہونے سے نکل گیا، یعنی اب اس مکان پر مالِ تجارت ہونے کے اعتبار سے زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔ البتہ اگر اس سے حاصل ہونے والا کرایہ بقدرِ نصاب ہو یا کسی دوسرے مالِ زکوٰۃ سے مل کر نصاب تک پہنچ رہا ہو، تو سال پورا ہونے پر جتنا کرایہ موجود ہو اس کرایہ پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔ جو کرایہ سال پورا ہونےسے پہلے ہی خرچ ہوگیا اس پر زکوٰۃ نہیں۔

فتاوی قاضی خان میں ہے: لو اشتری الرجل دارا او عبدا للتجارۃ، ثم اجرہ یخرج من ان یکون للتجارۃ لانہ لما آجر فقد قصد المنفعۃ“ یعنی: اگر کسی نے گھر یا غلام کو تجارت کی نیت سے خریدا پھر ان کو اجرت پر دے دیا تو اب وہ تجارت ہونے سے نکل جائے گا، کیونکہ جب اس نے اجرت پر دے دیا تو اس نے منفعت کا قصد کرلیا۔ (فتاوی قاضی خان، جلد 1، صفحہ 120، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے: (کرائے کے) مکانات پر زکوٰۃ نہیں، اگرچہ پچاس کروڑ کے ہوں، کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہو گا اس پر زکوٰۃ آئے گی، اگر خود یا اور مال سے مل کر قدرِ نصاب ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 161، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2503
تاریخ اجراء: 12 ربیع الآخر 1447ھ / 06 اکتوبر 2025ء