logo logo
AI Search

تنخواہ سے بنائے گئے سونے پر زکوٰۃ ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سیلری سے پیسے بچا کر سونا بنوایا، تو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک شخص کی ماہانہ تنخواہ پچاس ہزار ہے، اس نے اس سے کچھ رقم بچا بچا کر سونا بنوایا ہے تاکہ کے مستقبل میں مشکل وقت میں کام آسکے۔ کیا اس پر بھی زکوٰۃ ہوگی؟

جواب

زکوۃ کے لازم ہونے کا تعلق صاحب نصاب ہونےسے ہوتا ہے سونا خریدنے یا نہ خریدنے سے نہیں۔

لہٰذا اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا ہے یا سونا تو کم ہے لیکن حاجت سے زائد دیگر مالِ زکوٰۃ مثلاً کیش کے ساتھ ملائیں تو ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوجائے اور مانع زکوٰۃ قرض بھی نہیں تو زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے پر زکوٰۃ واجب ہوگی خواہ اس نے یہ سونا اپنی تنخواہ سے رقم بچا بچا کر ہی کیوں نہ بنایا ہو۔

اگر سونا بقدر نصاب نہیں اور نہ ہی دیگر مالِ زکوٰۃ سے مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتا ہے یا قرض اتنا ہے کہ قرض مائنس کرنے کے بعد نصاب نہیں بنتا تو زکوٰۃ واجب نہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر:Web-2494
تاریخ اجراء: 09 ربیع الآخر 1447ھ / 03 اکتوبر 2025ء