logo logo
AI Search

چارے والی گندم پر عشر واجب ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گندم کی فصل جانوروں کے چارے کے لیے کاشت کی ہو تو عشر کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر گندم کی فصل سے مقصود دانے نہ ہوں، بلکہ جانوروں کے چارے کے لئے کاشت کی جائے اور جانوروں کو ڈالنے کے لئے سبز ہونے کی حالت ہی میں کاٹ لی جائے، تو کیا اس پر بھی عشر واجب ہوگا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جانوروں کے چارے کے لئے کاشت کی گئی گندم کی فصل پر بھی عشر لازم ہوگا، کیونکہ فقط اُس فصل پر عشر لازم نہیں ہوتا، جس سے دانے مقصود ہوں، بلکہ زمین کی ہر اس پیداوار پر عشر لازم ہوتا ہے، جس سے زمین کے منافع مقصود ہوں، اب خواہ وہ منافع غلے کی شکل میں ہوں یا جانوروں کے چارے کی صورت میں، بہر صورت عشر لازم ہوگا۔

نوٹ: اگر اُس فصل کو بارش کے پانی سے سیراب کیا، تو فصل کا دسواں حصہ اور ٹیوب ویل یا خریدے ہوئے پانی سے سیراب کیا، تو بیسواں حصہ دینا لازم ہوگا۔

جس پیداوار سے زمین کی آمدنی حاصل کرنا مقصود ہو، اس پر عشر لازم ہوتا ہے۔ چنانچہ امام شمس الآئمہ سرخسی علیہ الرحمۃ (المتوفی سن: 483ھ) لکھتے ہیں: الأصل عند أبي حنيفة رحمه اللہ تعالى أن كل ما يستنبت في الجنان و يقصد به استغلال الأراضي، ففيه العشر“ ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو باغوں میں اُگائی جائے اور اس سے زمینوں کی آمدن مقصود ہو، تو اس میں عشر ہے۔ (المبسوط للسرخسي، باب عشر الارضين، ج 3، ص 2، دار المعرفہ، بیروت)

جانوروں کے چارے کے طور پر اگائی گئی گندم پربھی عشر لازم ہوگا؛ کیونکہ اسے زمین کی آمدنی کے حصول کے لیے باقاعدہ طور پر کاشت کیا جاتا ہے اور عشر کے لزوم کا مدار بھی اسی چیز پر ہے۔ چنانچہ علامہ شامی (المتوفی سن: 1252ھ) فرماتے ہیں: أن المدار على القصد، حتى لو قصد به ذلك، وجب العشر ۔ ۔ ۔ و في البحر: و يجب في العصفر و الكتان و بزره؛ لأن كل واحد منها مقصود فيه“ ترجمہ: (عشر کے لازم ہونے یا نہ ہونے کا) مدار، (پیداوار کا) قصد کرنے پر ہے، یہاں تک کہ اگر اس نے اُس پیداوار کا قصد کیا، تو عشر لازم ہو جائے گا (ورنہ نہیں) ۔ ۔ ۔ اور البحر الرائق میں ہے: اور کسم، سَن اور اس کے بیج میں عشر واجب ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا قصد کیا جاتا ہے۔ (حاشیہ ابن عابدین، باب العشر، ج 02، صفحہ 327، دار الفکر بیروت، ملتقطاً)

عشر صرف غلے پر لازم نہیں ہوتا، بلکہ ہر وہ چیز جس سے زمین کی بڑھوتری مقصود ہو، اس پر عشر لازم ہوتا ہے۔ نیز اس میں کسی معین مقدار کی بھی قید نہیں۔ چنانچہ الفتاوی الھندیہ میں ہے: منها مما يقصد بزراعته نماء الأرض ۔ ۔ ۔ فلا عشر في الحطب و الحشيش و القصب و الطرفاء و السعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت ۔ ۔ ۔ يجب فيه العشر ۔ ۔ ۔ و يجب العشر عند أبي حنيفة رحمه اللہ تعالى في كل ما تخرجه الأرض ۔ ۔ ۔ قل أو كثر“ ترجمہ: (اور عشر کو لازم کرنے والی چیزوں میں سے ایک اس پیداوار کا) ان چیزوں میں سے ہونا ہے، جن سے زمین کی بڑھوتری مقصود ہوتی ہے۔ ۔ ۔ پس لکڑی، گھاس، نرسل، جھاؤ اور کھجور کی شاخوں میں عشر نہیں ہے؛ کیونکہ زمینیں ان چیزوں سے بڑھتی نہیں بلکہ خراب ہوتی ہیں، یہاں تک کہ اگر ان سے زمین کی پیداوار بڑھے ۔ ۔ ۔ تو اس میں عشر واجب ہے ۔ ۔ ۔ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہر اس چیز میں عشر واجب ہے جو زمین اگائے ۔ ۔ ۔ خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ۔ (الفتاوی الھندیہ، ج 1، ص 186، بولاق مصر، ملتقطاً)

عشر کے احکام بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی سن: 1948ء) لکھتے ہیں: جو چیزیں ایسی ہوں کہ اُن کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، اُن میں عشر نہیں، جیسے ایندھن، گھاس، نرکل، سینٹھا، جھاؤ، ۔ ۔ ۔ اوراگر نرکل، گھاس، بید، جھاؤ وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لیے خالی چھوڑ دی، تو اُن میں بھی عشر واجب ہے۔ جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہےاور کچھ دنوں ڈول چر سے سے تو اگر اکثر مینھ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 917، مکتبۃ المدینہ، کراچی، ملتقطاً)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0134
تاریخ اجراء: 24 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 12 مئی 2026ء