تحفہ میں ملا قربانی کا گوشت آگے صدقہ کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تحفہ یا صدقہ کے طور پر ملا قربانی کا گوشت آگے صدقہ کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
قربانی کا گوشت تحفے میں ملا ہو، یا وہ گوشت، جو بطور صدقہ ملا ہو، کیا اس ملنے والے گوشت کو، آگے صدقہ و خیرات کرنا جائز ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
جسے قربانی کا گوشت بطور تحفہ یا بطور صدقہ ملا ہو، اور وہ آگے صدقہ و خیرات کرنے کا اہل ہو (مثلا عاقل و بالغ ہو)، تو اس کے لیے گوشت کو آگے صدقہ و خیرات کرنا درست ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ بطور صدقہ یا بطور تحفہ ملنے والی چیز پر قبضہ کرنے کے بعد، انسان اس کا مالک بن جاتا ہے، اور اپنی ملکیت کی چیز صدقہ و خیرات کرنا، جائزہے، جبکہ اس میں صدقہ کرنے کی اہلیت موجود ہو (مثلا عاقل و بالغ ہو)۔ قبضے سے ہبہ مکمل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے ’’و تتم الھبۃ بالقبض الکامل‘‘ ترجمہ: ہبہ قبضہ کاملہ کے ساتھ پورا ہوتا ہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 573 ، مطبوعہ:کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "ہبہ کرنے سے چیز موہوب لہ کی مِلک ہوجاتی ہے۔" (بہار شریعت،جلد 3، حصہ 14،صفحہ 69، مکتبۃ المدینۃ،کراچی)
کسی کو ہبہ کرنے کے لیے چیز اپنی ملک ہونا ضروری ہے، چنانچہ در مختار میں شرائط ہبہ کو بیان کرتے ہوئے مذکور ہے "وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك" ترجمہ:ہبہ کرنے والے میں ہبہ کی صحت کی شرائط (1)عقل (2) بلوغ اور (3) ملکیت ہونا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الھبۃ، جلد 8، صفحہ 568، مطبوعہ:کوئٹہ)
صدقہ کے لیے بھی عاقل بالغ ہونا ضروری ہے، چنانچہ در مختار میں ہے "(تصرف الصبي والمعتوه) الذي يعقل البيع والشراء ( إن كان نافعا) محضا (كالإسلام والاتهاب صح بلااذن وإن ضارا كالطلاق والعتاق) والصدقة والقرض لا وإن أذن به وليهما" ترجمہ: ايسے نابالغ بچے اور معتوہ کا تصرف جو خرید و فروخت کی سمجھ رکھتا ہو، اگر خالص نفع والا ہو، جیسے اسلام قبول کرنا ،اور ہبہ (تحفہ) قبول کرنا، تو وہ ولی کی اجازت کے بغیر بھی صحیح ہے۔ اور اگر خالص نقصان والا ہو، جیسے طلاق دینا، غلام آزاد کرنا، صدقہ کرنا اور قرض دینا، تو وہ صحیح نہیں، اگرچہ ان دونوں کا ولی اجازت دے بھی دے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 291، مطبوعہ: کوئٹہ)
اپنی ملک میں کوئی چیز آجانے کے بعد ہر طرح کے تصرف کا اختیار ہے، چنانچہ قربانی کی کھال بطور ہبہ ملنے پر اسے آگے دینے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے "(قربانی کی کھال) غنی کو ہبہ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنا تمول نہیں۔ پھر اس غنی کو اختیار ہے چاہے داموں کو بیچ کر اپنے خرچ میں لائے چاہے کسی کی اجرت یا تنخواہ میں دے چاہے اپنی زکوٰۃ میں دے اور اس کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی کہ اب حکم اضحیہ منقطع ہوگیا، وہ اس کی ملک ہے جو چاہے کرے۔ لقولہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھو لہا صدقۃ ولنا ھدیۃ۔ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 494، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
مجمع الانہر میں ہے "واللحم بمنزلة الجلد في الصحيح" ترجمہ: صحیح قول کے مطابق (قربانی کا) گوشت،کھال کے حکم میں ہے۔ (مجمع الانھر،جلد 4، صفحہ 174، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5096
تاریخ اجراء: 25 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 11 جون 2026ء