بڑے جانور میں پچھلی قربانی کا حصہ شامل کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بڑے جانور میں قضاء قربانی کا حصہ شامل کر سکتے ہیں ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک صاحبِ نصاب شخص نے گزشتہ تین سال سے اپنی واجب قربانی ادا نہیں کی، اس سال اس کا ذہن ہے کہ وہ ایک بڑا جانور خرید کر اس میں تین حصے سابقہ تین سال کی قربانیوں کے شامل کر لے، پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس طرح کرنے سے اس کی موجودہ سال کی قربانی کے ساتھ ساتھ سابقہ تین سال کی قربانیوں کی قضا بھی ہو جائے گی یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں شخص ِ مذکور کے سابقہ تین سال کی قربانیوں کی نیت سے بڑے جانور میں تین حصے شامل کر لینے سے، ان کی قضا نہیں ہوگی، بلکہ وہ قربانیاں بدستور اس پر لازم رہیں گی، ان کی قضا کے لیے اس شخص پر لازم ہے کہ ہر سال کی قربانی کے بدلے ایک بکری (جس میں قربانی کی شرائط پائی جاتی ہوں) کی قیمت صدقہ کرے، نیز بلا وجہ شرعی قربانی نہ کرنے کے گناہ سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ بھی کرے۔
تفصیل یہ ہے کہ قربانی کی ادائیگی کے لیے ایامِ قربانی میں ہی جانور قربان کرنا لازم ہوتا ہے، اگر اِن ایام میں قربانی نہیں کی، تو ان کے بعد اس کی قضا جانور قربان کر کے نہیں ہو سکتی، کیونکہ قربانی کی ادائیگی کے لیے خون بہانے کو شریعت مطہرہ نے ایک مخصوص وقت کے لیے قربت (نیکی) قرار دیا ہے، اس مخصوص وقت کے بعد خون بہا کر اس کی قضا نہیں کی جا سکتی، بلکہ ایسی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ ایک قربانی کی قضا کے لیے قربانی کے قابل بکری کی قیمت کو صدقہ کیا جائے۔
بیان کردہ شرعی حکم کے دلائل:
قربانی کا تعلق مخصوص وقت کے ساتھ ہے، وقت گزر جانے کے بعد اس کی قضا میں جانور قربان نہیں کر سکتے، چنانچہ ملک العلماء، علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انھا لاتقضی بالاراقۃ لأن الاراقۃ لا تعقل قربۃ وانما جعلت قربۃ بالشرع فی وقت مخصوص فاقتصر کونھا قربۃ علی الوقت المخصوص فلا تقضی بعد خروج الوقت‘‘ ترجمہ: قربانی کی قضا خون بہانے (یعنی جانور ذبح کرنے) سے نہیں ہو سکتی، کیونکہ خون بہانا عقلاً قربت نہیں ہے، اسے شرع کی وجہ سے ایک وقت مخصوص میں قربت قرار دیا گیا ہے، تو اس کا قربت ہونا وقت مخصوص تک ہی محدود ہوگا، وقت کے ختم ہونے کے بعد اس طرح قضا نہیں ہو سکتی۔ (بدائع الصنائع ، جلد 05، صفحہ 68، مطبوعہ مصر)
جس پر قربانی واجب تھی اور اس نے قربانی نہیں کی اور ایام قربانی گزر گئے تو اس کا حکم بیان کرتے ہوئے بدائع الصنائع میں ہی ہے: ’’وان کان لم یوجب علی نفسہ ولا اشتری وھو موسر حتی مضت أیام النحر تصدق بقیمۃ شاۃ تجوز فی الأضحیۃ‘‘ ترجمہ: اگر قربانی اپنے اوپر خود واجب نہیں کی تھی اور نہ ہی قربانی کے لیے جانور خریدا تھا اور وہ صاحب نصاب بھی تھا (اور اس نے قربانی نہیں کی) یہاں تک کہ ایام نحر گزر گئے تو اب ایک ایسی بکری کی قیمت صدقہ کرے گا جس کی قربانی جائز ہوتی ہو۔ (بدائع الصنائع ، جلد 05، صفحہ 68، مطبوعہ مصر)
بڑے جانور میں سابقہ سال کی قربانی کی قضاء کی نیت سے حصہ شامل کرنے سے بھی قضا نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے بکری کی قیمت صدقہ کرنا ہی لازم ہوگا، چنانچہ فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: ”وان نوی بعض الشرکاء التطوع وبعضھم الاضحیۃ العام الماضی صار دینا علیہ، وبعضھم الاضحیۃ الواجبۃ عن عامہ ذلک۔۔۔یکون تطوعا عمن نوی القضاء عن العام الماضی ولایجوز عن قضائہ بل یتصدق بقیمۃ شاۃ وسط لما مضی“ ترجمہ: اور اگر بڑے جانور میں شریک ہونے والے بعض شرکاء کی نیت نفلی قربانی کی ہو اور بعض کی پچھلے سال کی لازم قربانی کی نیت ہو اور بعض کی اسی سال کی واجب قربانی کی نیت ہو، تو جس نے پچھلے سال کی لازم قربانی کی نیت کی تھی، اس کی نفل قربانی ہوگی، اس کی قضا ادا نہیں ہوگی، بلکہ وہ اس کے بدلے ایک متوسط بکری کی قیمت کو صدقہ کرے گا۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، جلد 17، صفحہ 452، مطبوعہ بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ’’قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کر لے، یہ نہیں ہو سکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے۔ ‘‘ (بھار شریعت، حصہ 15، صفحہ 339، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0281
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ 1447ھ / 25 مئی 2026ء