logo logo
AI Search

قربانی میں کونسا جانور افضل ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کس جانور کی قربانی افضل ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کس جانور کی قربانی افضل ہے؟

جواب

جانور میں افضل ہونے کے اسباب تین ہیں۔ (1) گوشت زیادہ ہونا۔ (2) قیمت زیادہ ہونا۔ (3) گوشت کا اطیب (اچھا) ہونا۔

ان اسباب میں قوت کے اعتبار سے بھی یہی ترتیب ہے یعنی جس جانور کا گوشت زیادہ ہوگا، وہ معتمد و مختار قول کے مطابق کم گوشت والے سے مطلقا افضل ہے، چاہے کم گوشت والا قیمت اور اطیب ہونے میں زیادہ ہو۔ جیسے اونٹ گائے سے افضل ہے۔ گائے بکری، مینڈھے وغیرہ سے افضل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گوشت زیادہ ہونے میں تقسیم میں وسعت ہوگی اور اس طرح فقراء کا نفع زیادہ ہوگا۔ زیادہ گوشت والے کی ترجیح پر دلیل نیچے فتاوی قاضی خان سے بکری اور بدنہ کے متعلق مذکور جزئیہ ہے۔

دوسرے درجے کی ترجیح قیمت زیادہ ہونا ہے یعنی اگر گوشت کی مقدار برابر ہو تو اب قیمت کی طرف دیکھا جائے گا، جس کی قیمت زیادہ ہو، اس کو ترجیح دی جائے گی اگرچہ دوسرا اس سے اطیب ہو۔ جیسا کہ نیچے تتارخانیہ کے جزئیہ میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق فحل اور خصی گوشت میں برابر ہیں مگر فحل کے قیمت میں زائد ہونے کی وجہ سے اسے خصی پر اس کے گوشت کے اچھے ہونے کے باوجود ترجیح دی گئی۔

تیسرے درجے کی ترجیح گوشت کا اطیب ہونا ہے یعنی گوشت کی مقدار اور قیمت برابر ہو تو اب اطیب ہونے کے اعتبار سے ترجیح دی جائے گی۔ جیسے اونٹ اور گائے کے نر و مادہ میں سے مادہ کی قربانی کو نر کی قربانی سے ترجیح گوشت کے اطیب ہونے کے اعتبار سے ہے۔

در مختارمیں ہے: ’’الشاۃ افضل من سبع البقرۃ اذا استویا فی القیمۃ و اللحم، و الکبش افضل من النعجۃ اذا استویا فیھما، و الانثی من المعز افضل من التیس اذا استویا قیمۃ، و الانثی من الابل و البقرۃ افضل، حاوی، و فی الوھبانیۃ ان الانثی افضل من الذکر اذا استویا قیمۃ‘‘ بکری گائے کے ساتویں حصہ سے افضل ہے، جبکہ دونوں قیمت اور گوشت میں برابر ہوں اور مینڈھا، بھیڑ سے افضل ہے جبکہ دونوں قیمت اور گوشت میں برابر ہوں، اور بکری بکرے سے افضل ہے جبکہ دونوں قیمت میں برابر ہوں، اور اونٹنی اور گائے (اونٹ اور بیل سے) افضل ہیں، حاوی، اور وہبانیہ میں ہے کہ مادہ نرسے افضل ہے جبکہ دونوں قیمت میں برابر ہوں۔(درمختار مع رد المحتار، ج 9، ص 534، مطبوعہ کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے: ’’قولہ: (اذا استویا الخ) فان کان سبع البقرۃ اکثر لحما فھو افضل، و الاصل فی ھذا اذا استویا فی اللحم و القیمۃ فاطیبھما لحما افضل، و اذا اختلفا فیھما فالفاضل اولی۔ تاترخانیۃ‘‘ پس اگر گائے کا ساتواں حصہ زیادہ گوشت والا ہو تو وہ ہی افضل ہے، اوراس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جب دونوں جانور گوشت اور قیمت میں برابر ہوں تو ان میں عمدہ گوشت والا افضل ہے، اور اگر گوشت اور قیمت میں برابر نہ ہوں تو خوبی میں زائد بہتر ہے۔ ( رد المحتار مع الدر المختار، ج 9، ص 534، مطبوعہ کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے: ’’قولہ: (اذا استویا فیھما) فان کانت النعجۃ اکثر قیمۃ او لحما فھی افضل۔ ذخیرۃ۔ ط‘‘ مصنف علیہ الرحمۃ کا قول: (جب دونوں گوشت و قیمت میں برابر ہوں) تو اگر بھیڑ گوشت یا قیمت میں زیادہ ہو تو وہی افضل ہے۔ ذخیرۃ۔ طحطاوی۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 9، ص 534، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: بکری کی قیمت اور گوشت اگر گائے کے ساتویں حصہ کے برابر ہو تو بکری افضل ہے اور گائے کے ساتویں حصہ میں بکری سے زیادہ گوشت ہو تو گائے افضل ہے یعنی جب دونوں کی ایک ہی قیمت ہو اور مقدار بھی ایک ہی ہو تو جس کا گوشت اچھا ہو وہ افضل ہے اور اگر گوشت کی مقدار میں فرق ہو تو جس میں گوشت زیادہ ہو وہ افضل ہے اور مینڈھا بھیڑ سے اور دنبہ دنبی سے افضل ہے جبکہ دونوں کی ایک قیمت ہو اور دونوں میں گوشت برابر ہو۔بکری بکرے سے افضل ہے مگر خصی بکرا بکری سے افضل ہے اور اونٹنی اونٹ سے اور گائے بیل سے افضل ہے جبکہ گوشت اور قیمت میں برابر ہوں۔ (بھار شریعت، ج 3، ص 340، مکتبۃ المدینہ کراچی)

شرح وہبانیہ میں ہے: "وجہ کون السبع اولی اذا کان اغلی و اکثر لحما فانہ متی کان اکثر منھا ثمنا کان اکثر لحما و متی کان اکثر لحما کان انفع للفقراء و اوسع و التوسعۃ فی ذلک الیوم مندوب الیھا۔" ساتواں حصہ جب زیادہ قیمت اور زیادہ گوشت والا ہو تو اس کے افضل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ زیادہ قیمت والا ہوگا تو زیادہ گوشت والا ہوگا اور جب وہ زیادہ گوشت والا ہوگا تو فقراء کے لئے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ وسعت والا ہوگا اور اس دن وسعت مستحب ہے۔ (شرح وھبانیہ، ص 232، مخطوط)

فتاوی قاضی خان میں ہے: قال بعضھم: اذا کان قیمۃ الشاۃ اکثر من قیمۃ البدنۃ فالشاۃ افضل لان الشاۃ کلھا تکون فرضاً و البدنۃ سبعھا یکون فرضاً، و الباقی یکون نفلاً و ما کان کلھا فرضاً کان افضل۔ و قال الشیخ الامام الجلیل ابو بکر محمد بن الفضل رحمہ اللہ تعالی: البدنۃ تکون افضل لانھا اکثر لحماً من الشاۃ و ما قالو: بان البدنۃ یکون بعضھا نفلاً فلیس کذلک بل اذا ذبحت عن واحد کان کلھا فرضاً۔ و شبہ ھذا بالقراءۃ فی الصلاۃ لو اقتصر علی ما تجوز بہ الصلوۃ، جازت و لو زاد علیھا یکون الکل فرضا۔

بعض فقہاء نے فرمایا: جب بکری کی قیمت بدنہ (گائے، اونٹ) سے زیادہ ہو تو بکری افضل ہے کیونکہ بکری پوری کی پوری فرض کے طور پر ہوگی اور بدنہ کا ساتواں حصہ فرض کے طور پر ہوگا اور باقی نفل، اور جو چیز پوری فرض واقع ہو وہ زیادہ فضیلت والی ہوگی۔ اور شیخ امامِ جلیل ابو بکر محمد بن فضل رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا: بدنہ افضل ہے کیونکہ وہ بکری سے گوشت کے اعتبار سے زائد ہوتا ہے، اور انہوں نے جو فرمایا: کہ اس کا بعض نفل ہوگا، تو ایسا نہیں ہے بلکہ بدنہ جب ایک شخص کی طرف سے ذبح کیا جائے تو پورا ہی فرض کے طور پر ہوگا۔ اور اس کوتشبیہ دی جائے گی نماز میں قراءت کے ساتھ کہ اگر نمازی نے اتنی مقدار پر اکتفاء کیا جس سے نماز جائز ہوجاتی ہے، تو یہ جائز ہے اور اگر اس مقدار سے زیادتی کی تو پوری قراءت فرض واقع ہوگی۔ (فتاوی قاضی خان، ج 3، ص 235، مطبوعہ کوئٹہ)

اسلوب سے ظاہر ہے کہ علامہ قاضی خان علیہ الرحمۃ کے نزدیک راجح و مختار دوسرا قول ہے کہ دوسرے قول کو آپ نے دلیل سے مزین کیا ہے اور یہ اعتماد و اختیار کی دلیل ہے اورجہاں ترجیح میں اختلاف ہو، علامہ قاضی خان علیہ الرحمہ کی ترجیح کو فوقیت حاصل ہوتی ہے اور یہاں جب پہلے قول کی کوئی ترجیح موجود نہیں تو ضرور امام قاضی خان علیہ الرحمۃ کی ترجیح پر عمل کیا جائے گا۔ اس طرح یہ مسئلہ زائد گوشت والے کے مطلقاً افضل ہونے کی دلیل بنے گا کہ یہاں بکری کے قیمت اور اطیب ہونے میں زائد ہونے کے باوجود امام جلیل ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ نے بدنہ کو اس کے گوشت کے زیادہ ہونے کی وجہ سے افضل قرار دیا۔ اوپر مذکور بہار شریعت کے یہ الفاظ گوشت کی مقدارمیں فرق ہو تو جس میں گوشت زیادہ وہ افضل بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کہ ان میں بھی مدار گوشت کے زائد ہونے پر رکھا گیا ہے، قیمت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیمت چاہے کم ہو یا زیادہ گوشت اگر زیادہ ہو تو اسی کو افضل قرار دیا جائے گا۔

شرح عقود رسم المفتی میں ہے: لو ذکروا قولین مثلا و عللوا لاحدھما کان ترجیحا لہ علی غیر المعلل کما افادہ الخیر الرملی فی کتاب الغصب من فتاواہ الخیریۃ و نظیرہ ما فی التحریر و شرحہ فی فصل الترجیح فی المتعارضین ان الحکم الذی تعرض فیہ للعلۃ یترجح علی الحکم الذی لم یتعرض فیہ لھا لان ذکر علتہ یدل علی الاھتمام بہ و الحث علیہ۔ مثال کے طور پراگر فقہاء نے دو قول ذکر کئے ہوں اور ان میں سے ایک کی علت بیان کی ہو تو اس کو، غیرمعلل (جس کی علت بیان نہیں کی گئی) پر ترجیح حاصل ہوگی جیسا کہ امام خیر الدین الرملی نے اپنے فتاوی خیریہ کی کتاب الغصب میں یہ فائدہ بیان کیا ہے اور اس کی نظیر وہ ہے جو تحریر اور شرح تحریر کی فصل الترجیح فی المتعارضین میں ہے کہ وہ حکم جس کی علت بیان کی گئی ہو وہ راجح ہوتا ہے اس حکم پر جس کی علت بیان نہ کی گئی ہو کیونکہ اس کی علت کا ذکر اس کے اہم ہونے اور اس پر ابھارنے پر دلالت کرتا ہے۔ ( شرح عقود رسم المفتی، ص 37، مطبوعہ لاھور)

فتاوی تتارخانیہ میں ہے: و الاصل فی ھذا انھما اذا استویا فی اللحم و القیمۃ فاطیبھما لحما افضل، و اذا اختلفا فی اللحم و القیمۃ فالفاضل اولی۔ اذا ثبت ھذا فنقول: الفحل بعشرین و ذلک قیمتہ افضل من خصی قیمتہ خمسۃ عشر و ان کان الخصی اطیب لحماً و ان استویا فی القیمۃ والفحل اکثر لحماً فالفحل افضل و کذا الکبش والنعجۃ اذا استویا فی القیمۃ و اللحم فالکبش افضل و ان کانت النعجۃ اکثر قیمۃ او لحماً فھو افضل۔ اور اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جب دونوں جانور گوشت اور قیمت میں برابر ہوں تو ان میں عمدہ گوشت والا افضل ہے، اور اگر گوشت اور قیمت میں مختلف ہوں تو خوبی میں زائد بہتر ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی تو ہم کہتے ہیں وہ سانڈ جس کی قیمت بیس ہو اس خصی سے افضل ہے جس کی قیمت پندرہ ہو اگرچہ خصی گوشت کے اعتبار سے زیادہ عمدہ ہو تا ہے اور اگر دونوں قیمت میں برابر ہوں اور سانڈ گوشت کے اعتبار سے زیادہ ہو تو سانڈ افضل ہے اور اسی طرح مینڈھا اور بھیڑ جب دونوں قیمت اور گوشت میں برابر ہوں تو مینڈھا افضل ہے اور اور اگر بھیڑ قیمت یا گوشت کے اعتبار سے زیادہ ہو تو یہی افضل ہے۔(تتارخانیہ، ج 17، ص 434، مطبوعہ کوئٹہ)

تتارخانیہ کے مذکورہ بالا جزئیہ میں فحل و خصی کا گوشت میں برابر ہونا اگرچہ صراحتاً مذکور نہیں، لیکن مصنف علیہ الرحمہ کی مراد اسی صورت کی ترجیح بیان کرنا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں سے چونکہ مصنف علیہ الرحمہ فاضل کی صورت بیان کر رہے ہیں لہذا مصنف کی مراد یہ صورت ہرگز نہیں ہو سکتی کہ فحل قیمت میں تو زائد ہو مگرگوشت میں خصی سے کم ہو کہ اس صورت میں فحل فاضل نہیں ہوگا بلکہ خصی کو ترجیح ہوگی کہ گوشت میں زائد ہونے کے ساتھ، گوشت کے اچھے ہونے والی خوبی بھی اس میں موجود ہے، لہذا یہ صورت یہاں مراد نہیں ہوسکتی۔ پھر یہ کہ فاضل کے تحت یہاں دو صورتیں ممکن ہیں۔ (1) فحل قیمت میں زائد ہونے کے ساتھ گوشت میں بھی زائد ہو تو بھی فاضل ہونے کی وجہ سے ترجیح ہوگی۔ (2) فحل قیمت میں تو زائد ہو مگر گوشت میں دونوں برابر ہوں تو اگرچہ خصی کا گوشت اچھا ہوتا ہے تب بھی فحل کو ترجیح ہوگی۔ مصنف علیہ الرحمہ کے کلام میں اگر غور کیا جائے توان کے ان الفاظ ’’و ان کان الخصی اطیب لحماً‘‘ سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی مراد اسی دوسری صورت کی ترجیح بیان کرنا ہے کہ تردد اسی میں ہے کہ فحل اگرچہ قیمت میں زائد ہے مگر گوشت خصی کا اچھا ہے تو تردد ہو سکتا تھا کہ کس کو ترجیح دی جائے؟ تویہ مسئلہ بیان کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ قیمت یا گوشت میں زائد ہونے والی خوبی گوشت اچھے ہونے والی خوبی سے برتر ہے، جبکہ پہلی صورت میں کسی قسم کا تردد نہیں کہ وہاں فحل قیمت کے ساتھ ساتھ گوشت میں بھی زائد ہے، لہذا وہاں تو فحل کے افضل ہونے میں کوئی شک نہیں۔

اشکال: اوپر جانوروں میں افضلیت کے لئے گوشت و قیمت و اطیب ہونے کے اعتبار سے تفصیل کی گئی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر تقیید مطلقاً کسی بھی جانور کو قربانی کے اعتبار سے افضل نہیں کہا جاسکتا، حالانکہ مرقات میں اونٹ کو مطلقاً افضل قرار دیا گیا ہے، اس کے بعد گائے کو، پھر بکری کو پھر بھیڑ کو۔ چنانچہ مرآۃ المناجیح میں ہے: مرقات نے یہاں فرمایا کہ افضل قربانی اونٹ کی ہے پھر گائے کی پھر بکری کی پھر بھیڑ کی۔ (مرآۃ المناجیح، ج 2، ص 353، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ، لاھور)

جواب: یہاں ان جانوروں کے حصے مراد نہیں ہیں بلکہ پورے جانور کی دوسرے پورے جانور پر افضلیت کی بات ہے اور اس اعتبار سے عموماً اونٹ بقیہ تمام سے گوشت و قیمت میں چونکہ زیادہ ہوتا ہے، لہذا وہی افضل ہوگا، یونہی پوری گائے بکری اور بھیڑ سے گوشت اور قیمت میں زائد ہوتی ہے لہذا وہی افضل ہوگی، یہ مطلب نہیں کہ اونٹ یا اس کا حصہ گائے یا اس کے حصے سے گوشت و قیمت میں چاہے کم ہو تب بھی افضل ہے، و علی ھذا القیاس۔ اس تفصیل پر دلیل یہ ہے کہ مرقات جیسی عبارت بعض دیگر فقہاء نے بھی تحریر فرمائی لیکن ساتھ ہی قیمت و گوشت والی تفصیل بھی بیان کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا حکم مطلق نہیں ہے بلکہ قیمت و گوشت والی تفصیل کے ساتھ مقید ہے۔ محیط میں اونٹ کے افضل ہونے کے متعلق ہے: في أضاحي الزعفراني: البعير أفضل من البقر؛ لأنه أعظم۔ اونٹ گائے سے افضل ہے کیونکہ وہ بڑا (گوشت میں زائد) ہوتا ہے۔ (المحیط البرھانی، ج 8، ص 468، مطبوعہ کراچی)

فتاوی بزازیہ میں ہے: الابل افضل ثم البقر ثم الغنم من المعز و البقر افضل من الشاۃ اذا استویا قیمۃ لانہ اعظم و اکثر والشاۃ افضل من سبع البقرۃ اذا استویا قیمۃ و لحماً فاذا استویا قیمۃ فاطیبھما لحماً افضل و ان اختلفا فالفاضل افضل۔ اونٹ افضل ہے پھر گائے پھر بکری، بھیڑ سے اور گائے بکری سے افضل ہے جبکہ دونوں قیمت میں برابر ہوں کیونکہ گائے زیادہ عظیم اور زیادہ گوشت والی ہے اور بکری گائے کےساتویں حصہ سے افضل ہے، جبکہ دونوں قیمت اورگوشت میں برابر ہوں پس جب دونوں قیمت کے اعتبار سے برابر ہوں تو ان میں عمدہ گوشت والا افضل ہوگا اور اگر قیمت و گوشت میں مختلف ہوں تو خوبی میں زائد افضل ہوگا۔ (فتاوی بزازیہ، ج 2، ص 408، مطبوعہ کراچی)

اسی طرح کی عبارت محیط برہانی میں ہے: قال الشیخ ابومحمد البقرۃ افضل من الشاۃ فی الاضحیۃ اذا استویا فی القیمۃ لانھا اعظم و اکبر و الشاۃ افضل من سبع البقرۃ اذا استویا فی القیمۃ و اللحم و ان کان سبع البقرۃ اکثر لحماً فسبع البقرۃ افضل و الاصل فی ھذا انھما اذا استویا فی اللحم و القیمۃ فاطیبھما لحماً افضل و اذا اختلفا فی اللحم و القیمۃ فالفاضل اولی۔ شیخ ابو محمد نے فرمایا: قربانی میں گائے بکری سے افضل ہے جب کہ دونوں قیمت میں برابر ہوں کیونکہ گائے زیادہ عظیم اور بڑی ہے اور بکری گائے کے ساتویں حصہ سے افضل ہے، جبکہ دونوں قیمت اور گوشت میں برابر ہوں اور اگر گائے کا ساتواں حصہ گوشت کے اعتبار سے زیادہ ہو تو گائے کا ساتواں حصہ افضل ہے اور اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جب دو جانور گوشت اور قیمت میں برابر ہوں تو ان میں عمدہ گوشت والا افضل ہے، اور اگر گوشت اور قیمت میں مختلف ہوں تو خوبی میں زائد بہتر ہے۔ (المحیط البرھانی، ج 8، ص 468، مطبوعہ کراچی)

مذکورہ بالا عبارت سے مدعا ثابت ہے کہ اولاً اس میں پورے جانور کا دوسرے جانور سے تقابل کیا گیا ہے، یہ مراد نہیں ہے کہ گائے کا ایک حصہ چاہے بکری سے گوشت و قیمت میں کم ہو تب بھی افضل ہے اور ثانیا یہ کہ عبارت کے یہ الفاظ ’’لانہ اعظم و اکبر‘‘ واضح طور پر ہماری تائید کر رہے ہیں کہ اس میں گائے کے بکری سے افضل ہونے کی وجہ اس کے گوشت کے زیادہ ہونے کو بنایا جا رہا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بالفرض بکری میں اگر گوشت زیادہ ہو تو یہ حکم نہیں ہوگا، لہذا مرقات میں جو حکم مذکور ہوا، اس کی بنیاد بھی قیمت و گوشت والی تفصیل کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہے اور وہ فقہاء کی بیان کردہ تفصیل کے خلاف نہیں ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Har-5007
تاریخ اجراء: 20 ربیع الثانی 1442ھ / 06 دسمبر 2020ء