logo logo
AI Search

اجتماعی قربانی کا گوشت مسجد کے صحن میں بنانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اجتماعی قربانی والوں کا مسجد میں گوشت بنانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد میں اجتماعی قربانی کا اہتمام ہوتا ہے اور اجتماعی قربانی کرنے والے مسجد کے صحن میں جو کہ عینِ مسجد ہے، وہاں پر گوشت بناتے ہیں، جس سے مسجد کا صحن آلودہ ہوجاتا ہے اور نمازیوں کوتکلیف ہوتی ہے۔ مسجد کے صحن میں گوشت بنانا شرعی طور پر کیسا ہے؟ عینِ مسجد کے صحن میں بغیر کچھ بچھائے ماربل پر گوشت بناتے ہیں، جس سے مسجد کا فرش آلودہ ہوجاتا ہے۔ اس بارے میں جو حکم شرعی ہو بیان فرمائیں۔

جواب

اجتماعی قربانی کرنے والوں کا عینِ مسجد کے صحن میں گوشت بنانا، مسجد کے فرش کو آلودہ کرنا یہ مسجد کی بے ادبی اور سخت ناجائز و حرام ہے کہ مسجدیں ان کاموں کے لیے نہیں بنیں اور جن کاموں کے لیے مساجد نہیں بنیں، حدیث میں ان کاموں کو مسجد میں کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مسجد میں گوشت بنانا تو دور کی بات ہے، کچا گوشت لے کر صرف مسجد سے گزرنے کی بھی احادیث میں ممانعت ہے۔ نیز مسجد کو آلودہ کرنا حرام ہے اگرچہ وہ کسی پاک چیز سے ہی ہو اور مسجد کو صاف ستھرا رکھنا واجب ہے، لہٰذا صحنِ مسجد میں گوشت پھیلاکر مسجد کو آلودہ اور بدبودار کرنا بلاشبہ حرام کام ہے۔ جس جس نے ایسا کیا ہے، وہ سب گنہگار اور مستحق عذاب نار ہیں۔ ان پر اپنے اس حرام فعل سے توبہ فرض ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں: ”من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا ﷲ علیک فان المساجد لم تبن لھٰذا“ ترجمہ: جو کسی شخص کو سنے کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز دریافت کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس سے کہے: اللہ تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے کیونکہ مسجدیں اس لئے نہیں بنیں۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 397، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: قوله: ”لم تبن لهذا“ أي: لإنشاد الضالة؛ و إنما بُنيت لأداء الفرائض۔ و قد يدخل في هذا كل أمرٍ لم يُبن له المسجد من البيع و الشراء، و نحو ذلك من أمور معاملات الناس و اقتضاء حقوقهم“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان کہ مساجد اس کام کے لیے نہیں بنیں یعنی مسجدیں اپنی گمشدہ چیزیں تلاش کرنے کے لیے نہیں بنیں بلکہ وہ تو فرائض ادا کرنے کے لیے بنی ہیں اور اس (ممانعت) میں ہروہ کام داخل ہے، جس کے لیے مسجد نہیں بنی جیسے خرید و فروخت اور اس کی مثل لوگوں کے دیگر معامالات اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے متعلقہ امور۔ (شرح ابی داود للعینی، بَابٌ فِي كرَاهِية إنشَادِ الضَّالَّة في المَسجِد، جلد 2، صفحہ 386، مطبوعہ بیروت)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کچا گوشت مسجد میں لے جانے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ سنن ابن ماجہ میں ہے: ”عن ابن عمر رضی اللہ عنہما، عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: ”خصال لاتنبغی فی المسجد: لا یتخذ طریقاً و لا یمر فیہ بلحم نیء۔ ملتقطاً“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کچھ کام ایسے ہیں جو مسجد میں کرنے مناسب نہیں۔ (وہ یہ ہیں کہ) مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے اور کچا گوشت لے کر مسجد سے نہ گزرا جائے۔ (سنن ابن ماجہ، باب مایکرہ فی المساجد، رقم الحدیث 748، مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت)

مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مسجد میں کچا لہسن پیاز کھا کر جانا، جائز نہیں جب تک بو باقی ہو کہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ حضور اقدس ارشاد فرماتے ہیں: جو اس بدبودار درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ ملائکہ کو اس چیز سے ایذا ہوتی ہے جس سے آدمی کو ہوتی ہے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس میں بدبُو ہو۔ جیسے گندنا، مولی، کچا گوشت (جس کی حدیث میں بھی صراحت ہے)۔ (بهار شریعت، جلد 1، حصہ 03، صفحہ 648، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مسجد کو گندگی سے بچانا ضروری ہے۔ جیسا کہ البحرالرائق میں ہے: ”إنما الحرمۃ للمسجد و لکون المسجد یصان عن القاذورات و لو کانت طاهرۃ“ ترجمہ: بیشک یہ مسجد کی حرمت کی وجہ سے ہے تاکہ مسجد کو ہر قسم کی گندی چیزوں سے بچایا جائے اگرچہ وہ چیزیں پاک ہی کیوں نہ ہوں۔ (البحرالرائق، کتاب الصلوۃ، جلد 02، صفحہ 61، مطبوعہ کوئٹہ)

مسجد کو صاف ستھرارکھنا واجب ہے۔ جیسا کہ غمزعیون البصائرمیں ہے: ”لأن تنظیف المسجد واجب“ ترجمہ: کیونکہ مسجد کو صاف ستھرا رکھنا واجب ہے۔ (غمزعیون البصائر، الفن الثانی، القول فی احکام المسجد، جلد 04، صفحہ 53 - 55، دار الکتب العلمیۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Mad-2078
تاریخ اجراء: 07 ذیقعدۃ الحرام 1439ھ / 21 جولائی 2018ء