بال جھڑ جانے والے جانور کی قربانی کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس جانور کے بال جھڑ گئے ہوں اس کی قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے واجب قربانی کے لیے ایک بکرا خریدا تھا، قربانی سے چند دن قبل اس کے جسم کے بعض حصوں سے بال جھڑنے لگ گئے تھے، جس کے نتیجے میں کچھ جگہوں سے اس کی جلد نمایاں ہو گئی تھی۔ تاہم بکرا بظاہر تندرست تھا، چارہ بھی صحیح کھاتا تھا اور اس میں اس کے علاوہ کوئی عیب بھی نہیں تھا۔ ہم نے اسے ویٹرنری ڈاکٹر کو چیک کروایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ کسی بیماری کی وجہ سے نہیں، بلکہ وٹامنز اور معدنیات کی کمی کے باعث ہے۔ تو ہم نے اس بکرے کی قربانی کرلی، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہماری قربانی درست ہو گئی یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کی قربانی درست ادا ہو گئی، کیونکہ شرعی طور پر قربانی سے مانع وہ عیب ہوتا ہے جس کی وجہ سے جانور کے کسی عضو کی منفعت یا خوبصورتی مکمل طور پر ختم ہو جائے اور وٹامنز وغیرہ کی کمی کے باعث بال جھڑنا ایسا عیب نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر جانور کے بال بے موسمی جھڑ جائیں تو اس کی قربانی جائز ہے، بشرطیکہ اس کی ہڈیوں میں گودا موجود ہو۔ نیز کچھ جگہ سے جلد کا نظر آنا بھی قربانی سے مانع نہیں، البتہ ایسے بکرے کی قربانی کرنا بہتر نہیں تھا، کہ بال جھڑنا اگرچہ قربانی سے مانع عیب تو نہیں، لیکن ظاہری عیب ضرور ہے اور قربانی کے جانور کا ظاہری معمولی عیب سے بھی پاک ہونا مستحب ہے۔
عیب والے جانور کی قربانی کے متعلق اصول بیان کرتے ہوئے شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”الأصل أن العيب الفاحش مانع، لقوله تعالى: ﴿وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ﴾ واليسير من العيب غير مانع، لأن الحيوان قلما ينجو من العيب اليسير فاليسير ما لا أثر له في لحمها‘‘ ترجمہ: اصول یہ ہے کہ بڑا عیب قربانی سے مانع ہوتا ہے، کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ”اور خرچ کرتے ہوئے خاص ناقص مال (دینے) کا ارادہ نہ کرو“، جبکہ تھوڑا عیب مانع نہیں، کیونکہ جانور کا معمولی عیب سے خالی ہونا بہت شاذ و نادر ہوتا ہے۔ پس معمولی عیب وہ ہوتا ہے جو جانور کے گوشت میں اثر انداز نہ ہو۔ (المبسوط للسرخسی، كتاب الذبائح، باب الأضحية، ج 12، ص 15، دار المعرفة، بيروت)
کیسا عیب قربانی سے مانع ہوتا ہے؟ اس حوالے سے فتاوی ہندیہ میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے: ”كل عيب يزيل المنفعة على الكمال، أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع“ ترجمہ: ہر وہ عیب جو منفعت یا خوبصورتی کو مکمل طور پر ختم کر دے، قربانی سے مانع ہوگا اور جو عیب ایسا نہ ہو وہ قربانی سے مانع نہیں ہوگا۔ (الفتاوی الھندیہ، ج 5، ص 299، دار الفکر، بیروت)
بال جھڑنا قربانی سے مانع عیب نہیں، جیسا کہ ہندیہ میں ہے: ”تناثر شعر الأضحية في غير وقته يجوز إذا كان لها نقي أي مخ كذا في القنية“ ترجمہ: قربانی کے جانور کے بال بے موسمی جھڑ جائیں تو اس کی قربانی جائز ہے، بشرطیکہ اس کی ہڈیوں میں گودا یعنی مغز موجود ہو۔ اسی طرح 'قنیہ' میں مذکور ہے۔ (الفتاوی الھندیہ ، ج 5، كتاب الأضحية، ص 299، دار الفکر، بیروت)
جس جانور کی اون کاٹ لی گئی ہو، اس کی قربانی کے حوالے سے فتاوی قاضیخان میں ہے: ”وكذا المجزوزة وهي التي جز صوفها“ ترجمہ: اسی طرح اس جانور کی قربانی بھی جائز ہے، جس کی اون کاٹ دی گئی ہو۔ (فتاوی قاضیخان، ج 3، كتاب الأضحية، ص 240، مطبوعہ کراچی)
بہار شریعت میں ہے: ”بھیڑ یا دنبہ کی اون کاٹ لی گئی ہو، اس کی قربانی جائز ہے۔“ (بھار شریعت ، ج 3، حصہ 15، ص 341، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
جانور کا ہر طرح کے ظاہری عیب سے پاک ہونا مستحب ہے، رد المحتار میں ہے: ”أن الكل لا يخلو عن عيب، والمستحب أن يكون سليما عن العيوب الظاهرة، فما جوز ههنا جوز مع الكراهة“ ترجمہ: سب جانور ہر طرح کے عیب سے خالی نہیں ہوتے، تاہم مستحب یہ ہےکہ قربانی کا جانور تمام ظاہری عیوب سے پاک ہو، تو جو چھوٹے عیب والے جانور کی قربانی کو یہاں جائز قرار دیا گیا ہے، اس سے مراد کراہت کے ساتھ جواز ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 6، ص 323، دار الفکر، بیروت)
رد المحتار کی مذکورہ بالا عبارت میں ”مع الکراھۃ“ کے تحت فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ای التنزیھیۃ فانھا ھی خلاف الاولی وخلاف المستحب“ ترجمہ: کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے، کیونکہ یہ (چھوٹے عیب والے جانور کی قربانی) خلافِ اولی اور خلافِ مستحب ہے۔ (فتاوی نوریہ، جلد 3، صفحہ 480، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)
بہار شریعت میں ہے: ”قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو، تو قربانی ہو جائے گی، مگر مکروہ ہو گی۔“ (بھار شریعت، ج 03، ص 340، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7767
تاریخ اجراء: 16 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 02 جون 2026ء