logo logo
AI Search

کمزور نظر والے جانور کی قربانی ہوگی یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس جانور کی نظر کمزور ہو، اس کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جس جانور کو دن میں کم نظر آتا‌ ہو، تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

جانور کی دونوں یا کسی ایک آنکھ کی بینائی، اگر تہائی سے زیادہ کمزور ہے، تو اس کی قربانی نہیں ہوگی، اور اگر تہائی، یا اس سے کم کمزور ہے، تو قربانی ہو جائے گی۔ اب کتنی نظر کمزور ہے؟ اسے چیک کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے:

نظر چیک کرنے کا طریقہ:

اگر دونوں آنکھوں کی نظر کم ہو تو اس کو پہچاننا آسان ہے، اور اگر صرف ایک آنکھ کی نظر کمزور ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جانور کو ایک دو دن بھوکا رکھا جائے، پھر اس کی خراب آنکھ پر پٹی باندھ دی جائے، اور دوسری آنکھ کھلی رکھی جائے، پھر دور سے آہستہ آہستہ چارہ اس کے قریب لاتے جائیں، جہاں سے وہ اسے دیکھنے لگے، اس جگہ نشان لگا دیں، پھر صحیح آنکھ پر پٹی باندھ دیں، اور دوسری آنکھ کھول دیں، اور اسی طرح دور سے چارہ آہستہ آہستہ قریب لائیں، جہاں سے وہ دیکھنے لگے، وہاں نشان لگا دیں، اب دونوں جگہوں کی پیمائش کریں، اگر دونوں نشان والی جگہوں میں فاصلہ تہائی ہے، تو معلوم ہوا کہ تہائی روشنی کم ہے، اور اگر نصف ہے، تو معلوم ہوا کہ بہ نسبت اچھی آنکھ کے اس کی روشنی آدھی ہے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے ”عن علي، قال: أمرنا رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أن نستشرف العين، و الأذن“ ترجمہ: مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیا کریں۔ ( سنن ابن ماجه، صفحہ 625، رقم الحدیث 3134، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے "و إن قطع من الذنب أو الأذن أو العين أو الألية، الثلث أو أقل أجزأه، و إن كان أكثر، لم يجزه؛ لأن الثلث تنفذ فيه الوصية من غير رضا الورثة فاعتبر قليلا، و فيما زاد لا تنفذ إلا برضاهم فاعتبر كثيرا" ترجمہ: اگر قربانی کے جانور کی دم، کان، نظر یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو، تو قربانی ہو جائے گی، اور اگر تہائی سے زیادہ کٹی ہوئی ہو تو قربانی نہ ہوگی، کیونکہ تہائی مال میں وارثوں کی رضامندی کے بغیر بھی وصیت نافذ ہو جاتی ہے، پس تہائی کو قلیل شمار کیا گیا، تہائی سے زیادہ مال میں ورثا کی اجازت سے وصیت نافذ ہوتی ہےپس اسے کثیر شمار کیا گیا۔ ( الهداية في شرح بداية المبتدي، ج 04، ص 358، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے و إنما يعرف ذهاب قدر النصف أو الثلث من العين بأن تشد العين المعيبة بعد أن لا تعتلف الشاة يوما أو يومين، ثم يقرب العلف إليها قليلا قليلا، فإذا رأته من موضع أعلم ذلك الموضع، ثم تشد عينها الصحيحة و يقرب العلف إلى الشاة قليلا قليلا حتى إذا رأته من مكان أعلم ذلك المكان، ثم يقدر ما بين العلامة الأولى و الثانية من المسافة، فإن كانت المسافة بينهما الثلث فقد ذهب الثلث وبقي الثلثان، و إن كان نصفا فقد ذهب النصف و بقي النصف، كذا في الكافي

 ترجمہ: آنکھ کی بینائی میں نصف یا تہائی کمی کا اندازہ اس طرح کیا جائے گا، کہ بکری کو ایک دو دن چارہ نہ دیا جائے، پھر اس کی عیب زدہ آنکھ کو باندھ دیا جائے، پھر چارہ آہستہ آہستہ اس کے قریب لایا جائے، جب بکری اسے کسی جگہ سےدیکھ لے، تو اس جگہ کو نشان زد کر لیا جائے، پھر اس کی صحیح آنکھ باندھ دی جائے، اور دوبارہ چارہ آہستہ آہستہ اس کے قریب لایا جائے، یہاں تک کہ جس جگہ سےوہ دیکھ لے، اس جگہ کو بھی نشان زد کر لیا جائے، پھر دونوں نشانات کے درمیان فاصلے کی پیمائش کی جائے، اگر دونوں کے درمیان کا فاصلہ ایک تہائی کے برابر ہو، تو بینائی کا ایک تہائی حصہ ختم ہو چکا ہے، اور دو تہائی باقی ہے، اور اگر یہ فاصلہ نصف کے برابر ہو، تو بینائی کا نصف حصہ ختم ہو چکا ہے، اور نصف باقی ہے۔ اسی طرح کافی میں مذکور ہے۔ (فتاو ی عالمگیری، ج 05، ص 298، مطبوعہ: بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5106
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 06 جون 2026ء