logo logo
AI Search

کیا ایک کپورے والے جانور کی قربانی جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خصی کرنے کی وجہ سے ایک کپورا ضائع ہوجائے تو؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بکرے کو خصی کیا گیا، خصی کرنے کے دوران اس کا ایک کپورا خراب ہو گیا، جس کو بعد میں نکالنا پڑا، لیکن وہ بکرا مکمل طور پر خصی ہوگیا۔ جس پر بعض لوگوں نے کہنا شروع کردیا، کہ اس کا چونکہ ایک کپورا نکالا گیا ہے، اس لیے اس کی قربانی نہیں ہو سکتی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس ایک کپورے والے بکرے کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں؟ شرعی راہنمائی فرما دیں۔

(سائل: محمد رمضان)

جواب

پوچھی گئی صورت میں خصی بکرے میں ایک کپورا کم ہونے کی وجہ سے اس کی قربانی جائز ہے، کیونکہ اگر کسی بکرے کے دونوں کپورے اور عضوِ تناسل کو بھی کاٹ لیا جائے، تو فقہائے کرام نے ایسے بکرے کی قربانی کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ لہٰذا اگر بکرے کا ایک ہی کپورا نکالا گیا ہو، تو اس کی قربانی تو بدرجہ اولیٰ جائز ہوگی، کیونکہ خصی بکرے میں کپوروں کو کاٹنا، عیب نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے قربانی ناجائز ہو۔ اور جن لوگوں نے یہ کہا کہ ایسے خصی بکرے کی قربانی نہیں ہوسکتی، ان کا کہنا غلط ہے، اور ایسے لوگوں کو چاہیے بغیر علما سے پوچھے مسئلہ بتانے سے گریز کیا کریں، اور غلط مسئلہ بتانے کی وجہ سے توبہ بھی کریں۔ (فتاویٰ عالمگیری، 5 / 367، فتاویٰ رضویہ، 20 / 458)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ذو الحجۃ الحرام 1441ھ