logo logo
AI Search

جانور کی ٹانگ ٹوٹنے کے بعد صحیح ہو جائے تو قربانی کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جانور کی ٹانگ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ صحیح ہوگئی تو اس کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایسا جانور جس کی ٹانگ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ صحیح ہوگئی تھی، تو کیا اس کی قربانی ہو جائے گی؟

جواب

جی ہاں، اگر کسی جانور کی ٹانگ پہلے ٹوٹ گئی تھی، لیکن بعد میں جڑ گئی، اور اس میں لنگڑا پن باقی نہ رہا، یا کچھ لنگڑا پن ہے، لیکن وہ واضح نہیں، اور قربان گاہ تک جا سکتا ہے، تو اس کی قربانی ہو جائے گی۔ بدائع الصنائع میں ہے ”وأما الذي يرجع إلى محل التضحية فنوعان: أحدهما: سلامة المحل عن العيوب الفاحشة؛ فلا تجوز العمياء ولا العوراء البين عورها والعرجاء البين عرجها وهي التي لا تقدر تمشي برجلها إلى المنسك“ ترجمہ: بہر حال وہ شرائط جو قربانی کے جانور کی طرف لوٹتی ہیں، اس کی دو اقسام ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ قربانی کے جانور کا بڑے عیب سے سلامت ہونا ضروری ہے، لہذا اندھا جانور، کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو، لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، ان کی قربانی جائز نہیں۔ یہاں لنگڑے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر چل کر قربان گاہ تک نہ جاسکے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب التضحیۃ، ج 04، ص 214، مطبوعہ: کوئٹہ)

جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے، ان کا شمار کرتے ہوئے، بہار شریعت میں فرمایا: ”لنگڑا جو قربان گاہ تک اپنے پاؤں سے نہ جاسکے۔ “(بہارِ شریعت، ج 3، ص 341، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5114
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1448ھ/18 جون 2026ء