بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قربانی کے جانور کا سینگ ٹوٹنا کب عیب شمار ہوتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ ایک جانور خریدنے کا ارادہ ہے، مگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے۔ اس کے مالک سے پوچھا، تو اس نے بتایا کہ ایک سینگ ٹوٹ گیا تھا، دوسرے کو بھی ہم نے شروع سے ہی نکال دیا تھا، تو کیا ایسے جانور کی قربانی ہوسکتی ہے، جبکہ جانور کے سر پر کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی سر پر اب کسی طرح کا کوئی زخم ہے۔ راہنمائی فرمائیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اس جانور کی قربانی جائز ہے، سینگ کا ٹوٹنا اس وقت عیب شمار ہوتا ہے، جبکہ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھی ٹھیک نہ ہوا ہو، لہٰذا اگر کسی جانور کا سینگ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھرجائے، تو اب اس کی قربانی ہوسکتی ہے، کیونکہ جس عیب کی وجہ سے قربانی نہیں ہورہی تھی، وہ عیب اب ختم ہوچکا ہے، لہٰذا اس کی قربانی ہوجائے گی۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالقعدۃ الحرام 1441ء