logo logo
AI Search

عقیقہ کا گوشت گیارہویں کے لنگر میں کھلانا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا عقیقہ کا گوشت گیارہویں کے لنگر میں کھلا سکتے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک اسلامی بھائی بڑی راتوں کے اجتماع میں 8 سے 10 دیگیں، مستقل لنگر دیتے ہیں، الحمدللہ عزوجل! ان کے دو بیٹوں کا عقیقہ نہیں ہوا، تو کیا یہ 4 بکرے عقیقہ کے ذبح کر کے، ان کو بریانی میں ڈال کر، وہ بریانی گیارہویں کے لنگر میں دے سکتے ہیں، جبکہ اس لنگر سے ان کا کوئی رشتہ دار یعنی جس کا عقیقہ ہے، اس کی امی، دادا، دادی، چاچا، ماموں وغیرہ کوئی نہیں کھائے گا ؛کیونکہ یہ لوگ اجتماع میں نہیں ہوتے، تو کیا ایسا کر سکتا ہے؟ اور اگر ہاں، تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

قربانی کی طرح عقیقے کے گوشت میں بھی بہتر یہ ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں، ایک اپنے لئے رکھا جائے، ایک رشتہ داروں میں اور ایک غریب مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے؛ اور اگر سارا خود رکھ لے یا سارا تقسیم کردے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، لہذا سوال میں بیان کی گئی صورت میں مذکورہ اسلامی بھائی کا عقیقے کے جانوروں کے گوشت سے گیارہویں شریف کے لنگر کا اہتمام کرنا جائز ہے، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں، البتہ! بہتر ہے کہ قربانی کی طرح عقیقے کے گوشت کے بھی تین حصے کر لیے جائیں ایک حصہ اپنا، ایک حصہ عزیز و اقربا کا، اور ایک حصہ فقرا و مساکین کا۔ اور اس سے واضح ہوا کہ جس عقیقہ ہو رہا ہے، اس کے رشتہ دار بھی عقیقے کا گوشت کھا سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "عقیقہ کا گوشت آباء و اجداد (یعنی والدین وغیرہ) بھی کھا سکتے ہیں، مثلِ قربانی اس میں بھی تین حصے کرنا مستحب ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 586، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید عقیقے کے گوشت کے متعلق فرماتے ہیں: "گوشت بھی مثل قربانی تین حصے کرنا مستحب ہے، ایک اپنا، ایک اقارب، ایک مساکین کا۔ اور چاہے توسب کھالے خواہ سب بانٹ دے، جیسے قربانی اور پکا کر کھلانا کچا تقسیم کرنے سے افضل ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 584، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ، مفتی، محمد امجد علی، اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "عقیقہ کا جانور اونھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہیے جیسا قربانی کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا گوشت فقرا اور عزیز و قریب دوست و احباب کو کچا تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا ان کو بطورِ ضیافت (مہمان نوازی) و دعوت کھلایا جائے، یہ سب صورتیں جائز ہیں ۔۔۔ عوام میں یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ اور دادا دادی، نانا نانی نہ کھائیں، یہ محض غلط ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں۔" (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 357، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وقار الفتاوی میں ہے ”عقیقہ کے گوشت کا وہی حکم ہے، جو قربانی کے گوشت کا حکم ہے۔ قربانی اور عقیقہ کی عبادت اللہ تعالی کے نام پر ذبح کر دینے سے ادا ہو جاتی ہے۔ گوشت عقیقہ اور قربانی کرنے والے کی ملکیت ہوتا ہے، اسے فروخت نہیں کر سکتا اور نہ کسی کام کے معاوضہ میں دے سکتا ہے، خود کھائے، دوسروں کو کھلائے، غریب و مالدار جس کو چاہے دے۔ فقہاء نے قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کو مستحب لکھا ہے، واجب کسی نے نہیں لکھا اور قربانی اور عقیقہ کا حکم ایک ہے، لہذا ولیمہ میں عقیقہ کا گوشت شامل کرنا اور کھلانا جائز ہے۔ " (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 138، مطبوعہ، بزم وقار الدین، کراچی)

وقار الفتاوی میں ہے "عقیقے میں صرف اللہ تعالیٰ کے نام پر جانور ذبح کردینے سے سنت ادا ہوجاتی ہے۔ گوشت عقیقہ کرنے والے کی ملکیت ہے مستحب یہ ہے کہ قربانی کی طرح اس کے بھی تین حصے کئے جائیں، ایک حصہ غرباء کو، ایک حصہ رشتہ داروں کو اور ایک حصہ خود کھانے کے لیے رکھ لیں۔ اور اگر سارا گوشت تقسیم کردیں یا سارا گوشت خود پکا کر کھا لیں جب بھی عقیقہ ہوجائے گا۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر وہ عقیقہ کے گوشت رشتہ داروں کو کھلائے تو جائز ہے۔" (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 140، مطبوعہ: بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5441

تاریخ اجراء: 08 ربیع الثانی 1448ھ/21 ستمبر 2026ء