logo logo
AI Search

کیا دانت ٹوٹے جانور کی قربانی جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جانور کا ایک دانت ٹوٹ جائے، تو قربانی کا حکم؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک جانور قربانی کے لیے خریدا گیا، عمر بھی پوری ہے، لیکن کسی چیز کے ساتھ منہ ٹکرانے کی وجہ سے اُس کا ایک دانت ٹوٹ گیا ہے (جانور چارہ کھا سکتا ہے)، تو اُس کی قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اُس جانور کی قربانی کرنا، جائز ہے، کیونکہ اگر کسی جانور کے کچھ دانت نہ ہوں، لیکن اتنے دانت سلامت ہوں کہ جن سے وہ خود چارہ چر سکے، تو اُس جانور کی قربانی جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ دوسرا بے عیب جانور لیں کہ چھوٹے عیب سے بھی سالم جانور مستحب ہے۔

ہدایہ شریف میں ہے: ’’ان بقی ما یمکن الاعتلاف بہ اجزأہ لحصول المقصود‘‘ ترجمہ: اگر اتنے دانت باقی ہیں، جن کے ساتھ وہ چارہ کھا سکتا ہے، تو مقصود کے حاصل ہونے کی وجہ سے اُس جانور کی قربانی جائز ہے۔ (ھدایہ، ج 4، ص 448، مطبوعہ لاھور)

فتاوی قاضی خان میں ہے: ’’ان بقی لھا من الاسنان قدر ما تعتلف جاز و الا فلا‘‘ ترجمہ: اگر اتنے دانت ہوں، جن سے چارہ کھا سکے، تو اُس کی قربانی جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔ (فتاوی قاضی خان، ج 3، ص 240، مطبوعہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-5758
تاریخ اجراء: 01 ذو الحجۃ الحرام 1439ھ / 13 اگست 2018ء