logo logo
AI Search

وطن اقامت سے قریبی شہر جانے پر نماز قصر ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وطن اقامت سے کسی ایسے شہر جانے پر نماز کا حکم جو شرعی مسافت سے پر ہو

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں لاہور کا رہائشی ہوں۔ چند روز قبل ایک ضروری کام کے سلسلے میں پندرہ دن کے قیام کی نیت سے فیصل آباد آیا تھا۔ فیصل آباد میں میرے قیام کو ابھی صرف سات دن ہوئے ہیں کہ ایک اور ضروری کام کے باعث مجھے تین چار دن کے لیے سمندری جانا پڑ رہا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1. سمندری میں تین چار دن کے قیام کے دوران میری نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟ کیا میں قصر نماز ادا کروں گا یا پوری؟

2. نیز سمندری سے واپس فیصل آباد آنے کے بعد میری نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟ کیا میں مقیم شمار ہو کر پوری نماز ادا کروں گا یا مسافر ہونے کی وجہ سے قصر کروں گا؟

جواب

قوانینِ شرعیہ کی رُو سےجب کوئی مسافر کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کی نیت کرلے تو وہ مقام اس کے حق میں وطنِ اقامت بن جاتا ہے اور وہاں وہ مسافر نہیں بلکہ مقیم شمار ہوتا ہے؛ لہٰذا نمازیں پوری ادا کرے گا۔ اِس کے بعد وطنِ اقامت صرف تین صورتوں میں ختم ہوتا ہے: (1) وہ اپنے وطنِ اصلی واپس لوٹ جائے۔ (2) کسی دوسرے مقام کو وطنِ اقامت بنا لے، خواہ وہ پہلے مقام سے مسافتِ شرعیہ سے کم فاصلے پر ہی کیوں نہ ہو۔ (3) وطنِ اقامت سے سفرِ شرعی کے ارادے سے روانہ ہوجائے۔

اِن تین صورتوں کے علاوہ وطنِ اقامت باطل نہیں ہوتا، بلکہ بدستور قائم رہتا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے وطنِ اقامت سے کسی ایسے مقام پر جائے جو مسافتِ شرعیہ سے کم فاصلے پر واقع ہو اور وہاں پندرہ دنوں سے کم ٹھہرنا ہو، تو وہ شرعاً مسافر شمار نہیں ہوگا، بلکہ مقیم ہی رہے گا اور پوری نماز ادا کرے گا۔

لہذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے فیصل آباد میں پندرہ دن قیام کی نیت کرلی تو فیصل آباد آپ کے حق میں وطنِ اقامت بن گیا۔ اس کے بعد چونکہ فیصل آباد سے سمندری کا فاصلہ مسافتِ شرعیہ (92 کلو میٹر) کے برابر نہیں ہے، نیز سمندری میں آپ کا قیام بھی صرف تین یا چار دن کے لیے ہے، پندرہ دن یا اس سے زائد کے لیے نہیں، اس لیے فیصل آباد کا وطنِ اقامت ہونا برقرار رہے گا اور آپ شرعاً مقیم ہی شمار ہوں گے، لہٰذا سمندری میں قیام کے دوران بھی آپ پوری نماز ادا کریں گےاور سمندری سے واپس فیصل آباد آنے کے بعد بھی پوری نماز ہی پڑھیں گے، قصر نہیں کریں گے۔

وطنِ اقامت کس صورت میں باطل ہوتا ہے، اِس متعلق تنویرالابصار و درمختار میں ہے: يبطل (وطن الاقامة بمثله و) بالوطن (الاصلي و) بإنشاء (السفر)“ ترجمہ: وطنِ اقامت اپنی مثل دوسرے وطنِ اقامت سے، وطنِ اصلی سے یا سفر شروع کرنے سے باطل ہو جاتا ہے۔ متن کے الفاظ ”بمثلہ“ کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: أی سواء کان بینھما مسیرۃ سفر أو لا“ ترجمہ: اگرچہ ان دونوں کے درمیان سفرِ شرعی کی مسافت پائی جائے یا نہیں۔ (تنویر الابصار و درمختار مع ردالمحتار، جلد 02، صفحہ 739، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: وطن اقامت دوسرے وطن اقامت کو باطل کر دیتا ہے یعنی ایک جگہ پندرہ دن کے ارادہ سے ٹھہرا پھر دوسری جگہ اتنے ہی دن کے ارادہ سے ٹھہرا تو پہلی جگہ اب وطن نہ رہی دونوں کے درمیان مسافت سفر ہو یا نہ ہو۔ یونہی وطن اقامت وطن اصلی وسفر سے باطل ہو جاتا ہے۔ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 751، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

کوئی شخص ایک شہر کو وطنِ اقامت بنا لینے کے بعد اگر پندرہ سے کم دنوں کے لیے ایسی جگہ کا سفر کرے جو شرعی مسافتِ سفر سے کم ہو تو وہ شرعی مسافر نہیں ہوگا، بلکہ پوری نماز ہی ادا کرے گا، چنانچہ اعلی امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: پندرہ رات پورے کا قیام ٹھہرا لیا اور اس کے بعد اتفاقاً چند راتوں کے لئے اور جگہ جانا ہوا جو الہٰ آباد سے تین منزل کے فاصلہ پر نہیں اگرچہ دس بیس، بلکہ چھپن میل تک ہو تو سفر نہ ہوگا اس مقام  دیگر میں بھی نماز پوری پڑھنی ہوگی اور الہٰ آباد میں بھی۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد08، صفحہ 252، 251، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)

واضح رہے کہ:

مذکورہ صورت میں فیصل آباد میں پوری نماز ادا کرنے کا حکم اُسی وقت ہوگا جب آپ نے واقعی وہاں مسلسل پندرہ دن یا اِس سے زائد قیام کی نیت کی ہو اور بعد میں اچانک یا اتفاقاً کوئی ایسا عذر پیش آجائے جس کی وجہ سے آپ کو سمندری جانا پڑے۔ لیکن اگر پہلے ہی آپ کو معلوم تھا کہ چند دن بعد کسی کام کے سلسلے میں سمندری جانا ہوگا اور وہاں کم از کم ایک رات قیام بھی کرنا پڑے گا، تو ایسی صورت میں فیصل آباد آپ کے لیے وطنِ اقامت نہیں بنے گا، اس لیے فیصل آباد اور سمندری، دونوں جگہ آپ مسافر شمار ہوں گے اور چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق وطنِ اقامت ثابت ہونے کے لیے ایک ہی مقام پر مسلسل پندرہ دن (یعنی پندرہ راتیں)  قیام کی نیت ضروری ہے اور اقامت میں اصل اعتبار راتوں کے قیام کا ہوتا ہے، لہٰذا اگر کسی دوسری جگہ ایک رات کے قیام کی نیت پہلے سے موجود ہو، تو وطنِ اقامت ثابت نہیں ہوتا اور اس صورت میں قصر نمازہی ادا کرنی ہوگی۔

ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:أن الحاج إذا دخل مكة في أيام العشر و نوى الإقامة خمسة عشر يوما ،ونوى الإقامة لا يصح؛ لأنه لا بد له من الخروج إلى عرفات فلا تتحقق نية إقامته خمسة عشر يوما فلا يصح“ترجمہ:حاجی جب (ذوالحجہ کے)دس دنوں میں مکہ میں داخل ہو اور پندرہ دن قیام کی نیت کرے، تو اس کی نیتِ اقامت درست نہیں ہوگی؛ کیونکہ اسے لازماً عرفات کی طرف نکلنا پڑتا ہے، اس لیے اس کے لیے پندرہ دن کے قیام کا تحقق نہیں ہوتا، لہٰذا اس کی نیتِ اقامت صحیح نہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد 01، صفحہ 98، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: الہٰ آباد میں پورے پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کی اور ساتھ ہی یہ معلوم تھا کہ ان میں ایک شب دوسری جگہ ٹھہرنا ہوگا، تو یہ پورے پندرہ دن کی نیت نہ ہوئی اور سفر ہی رہا۔ فی الدر المختار لودخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتہ لانہ یخرج الٰی منٰی و عرفۃ۔ درمختار میں ہے کہ اگر کوئی حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت درست نہیں، کیو نکہ اس نے منٰی او رعرفات کی طرف جانا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 08، صفحہ 252، 251، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور۔ ملتقطا)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FSD-10042
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448ھ / 22 جون 2026ء