logo logo
AI Search

ٹیومر کے مریض کیلئے نماز کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ٹیومر کے مریض کے لیے نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے بھائی کو کینسر کی تکلیف ہے، ان کے دماغ میں ٹیومر تھا، تو اس کا تقریباً پانچ مہینے پہلے آپریشن کروایاتھا، تواب اس کے لیے نماز کا کیا حکم ہے؟ ابھی وہ زیادہ تر بیٹھتا بھی نہیں ہے، بلکہ زیادہ تر سوتا رہتا ہے، کبھی تھوڑا سا بیٹھتا ہے، زیادہ بات بھی نہیں کرتا ہے، سر میں درد ہوتا ہے، اور وہ پانی کو تو ایسے سمجھو ہاتھ بھی نہیں لگاتا ہے، بس کبھی واش روم میں جاتا ہے، وضو کرتا ہے بس۔ اور اس کی لیفٹ سائیڈ کمزور ہے، تابان ہو گئی ہے، مطلب تھوڑی تھوڑی کام کرتی ہے، اس کو آسرا دے کر واش روم لے جانا پڑتا ہے۔

جواب

نماز ایک اہم ترین فرض ہے، اور جب تک انسان ہوش میں ہو، اور کم از کم سر کے اشارے سے نماز ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اس پر نماز فرض رہتی ہے۔ آپ کے بھائی چونکہ بیماری کی وجہ سے کمزور ہیں اور نماز پڑھنے میں دشواری ہے تو ان کے لیے نماز کے درج ذیل احکام ہیں:

  •  اگر یہ خود یا کسی (دیوار، لکڑی یا خادم کے) سہارے کے ذریعے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہیں، تو جتنی دیرقیام کرسکتے ہیں، اتنی دیر ان پر کھڑے ہوکر ہی نماز پڑھنا لازم ہے، یہاں تک کہ اگر صرف تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہہ سکتے ہیں، تو فقط تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہنا ضروری ہے، اور یہ اس صورت میں ہے جبکہ حقیقی سجدہ کرنے پر قدرت ہو، اور اگر حقیقی سجدہ کرنے پر قدرت نہ ہو، تو پھر قیام معاف ہوجاتا ہے۔
  •  اور اگر کھڑے نہیں ہوسکتے، کہ ناقابل برداشت تکلیف ہوگی، یا مرض بڑھ جائے گا، یا دیر میں اچھا ہوگا، لیکن خود، یا کسی سہارے کے ذریعے (ٹیک لگا کر) بیٹھ سکتے ہیں، تو ان پر لازم ہے کہ وہ اسی طرح بیٹھ کر نماز ادا کریں، اور اس صورت میں رکوع و سجودبیٹھ کر ادا کرسکتے ہیں، تو ادا کریں، اور اگر اتنی طاقت نہیں تو ان کے لیے سر سے اشارہ کریں، اور سجدے کے اشارے میں رکوع کے مقابلے میں زیادہ جھکیں۔
  •  اور اگر ان کے لیے سہارے کے ساتھ بیٹھنا بھی ممکن نہ ہو ، یا ناقابل برداشت تکلیف دہ ہو، یامرض بڑھ جانے، یا دیر سے اچھا ہونے کا اندیشہ ہو، تو انہیں پیٹھ کے بل اس طرح لٹا دیا جائے کہ ان کے سر کے نیچے تکیہ رکھ دیں تاکہ ان کا چہرہ قبلہ رخ ہو جائے۔ ان کی ٹانگیں قبلے کی طرف ہوں گی، اس میں اگر ممکن ہو تو وہ اپنے پاؤں سمیٹ لیں (گھٹنے کھڑے کر لیں) تاکہ قبلے کی طرف پاؤں نہ پھیلیں۔ اس حالت میں وہ سر کے اشارے کے ذریعے رکوع اور سجدہ کر کے نماز ادا کریں۔
  •  اگر وہ چاہیں تو سیدھی یا الٹی کروٹ لیٹ کر قبلے کی طرف منہ کر کے بھی اشارے سے نماز ادا کر سکتے ہیں، لیکن پیٹھ کے بل لیٹ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، اور کروٹ پرلیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت میں دائیں کروٹ پر لیٹ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔
  •  اور اگر بالفرض سر کے اشارے سے بھی نمازکی طاقت نہ رکھتے ہوں، یا کبھی ایسی کنڈیشن بن جائے کہ سرکے اشارے سے بھی نماز کی طاقت نہ رہے، تو اب جب تک یہ کنڈیشن رہے، اس وقت تک نماز کی ا دائیگی کا ان کو حکم نہیں ہے۔

اللباب فی شرح الکتاب میں ہے (إذا تعذر على المريض القيام) كله بأن لا يمكنه أصلاً بحيث لو قام لسقط، و هذا التعذر حقيقي، و مثله في الحكم التعذر الحكمي المعبر عنه بالتعسر بوجود ألم شديد؛ فإنه بمنزلة التعذر الحقيقي؛ دفعاً للحرج، أما إذا لحقه نوع مشقة لم يجز له ترك القيام كما في الخانية و الفتح. قيدنا بكل القيام لأنه إذا قدر على بعضه لزمه القيام بقدره، حتى لو كان إنما يقدر على قدر التحريمة لزمه أن يحرم قائما ثم يقعد كما في الفتح، و كذا لو قدر على القيام متكأً أو معتمداً على عصا أو حائط لا يجزئه إلا كذلك كما في المجتبى (صلى قاعداً) كيف تيسر له (يركع و يسجد) إن استطاع (فإن لم يستطع الركوع والسجود) أو السجود فقط (أومأ إيماء برأسه) لأنه وسع مثله (و جعل السجود) : إي إيماءه إليه (أخفض من) إيماء (الركوع) فرقا بينهما، و لا يلزمه أن يبالغ بالإنحناء أقصى ما يمكنه، بل يكفيه أدنى الإنحناء فيهما، بعد تحقق إنخفاض السجود عن الركوع، و إلا - بأن كانا سواء - لا يصح كما في الإمداد، و حقيقة الإيماء: طأطأة الرأس كما في البحر (ولا يرفع إلى وجهه شيئاً يسجد عليه) لنهيه صلى اللہ عليه و سلم عن ذلك، كذا في المحيط، و هذا يؤذن بأن الكراهة تحريمية. نهر، فإن فعل وهو يخفض عن الركوع أجزأه لوجود الإيماء، و كره، وإلا فلا.(فإن لم يستطع القعود استلقى على ظهره و جعل رجليه إلى القبلة) ونصب ركبتيه استحبابا، إن قدر، تحامياً عن مد رجليه إلى القبلة (و أومأ) برأسه (بالركوع و السجود، فإن استقى) : أي اضطجع (على جنبه) الأيمن أو الأيسر (و وجهه إلى القبلة وأومأ) برأسه (جاز) و لكن الاستلقاء أولى من الاضطجاع، و على الشق الأيمن أولى من الأيسر (فإن لم يستطع الإيماء برأسه أخر الصلاة، و لا يومئ بعينيه و لا بقلبه و لا بحاجبيه) ۔ ۔ ۔ ۔ (فإن قدر على القيام ولم يقدر على الركوع و السجود لم يلزمه القيام)

ترجمہ: اگر مریض مکمل طور پر کھڑے ہونے سے عاجز ہو، اس طرح کہ کھڑا ہونے کی صورت میں گر پڑنے کا اندیشہ ہو، تو یہ حقیقی عذر ہے۔ اسی کے حکم میں وہ حکمی عذر بھی داخل ہے جسے فقہاء تعسّر سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی کھڑے ہونے سے شدید درد لاحق ہوتا ہو؛ کیونکہ مشقتِ شدیدہ کو بھی حرج کے دفعیہ کے پیشِ نظر حقیقی عذر کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اگر صرف معمولی مشقت ہو تو اس کی بنا پر قیام ترک کرنا جائز نہیں، جیسا کہ خانیہ اور فتح القدیر میں مذکور ہے۔ہم نے پورے قیام کی قید اس لیے لگائی ہے کہ اگر مریض کچھ مقدار میں کھڑے ہونے پر قادر ہو تو جتنی مقدار ممکن ہو، اتنا قیام اس پر لازم ہوگا۔ یہاں تک کہ اگر صرف تکبیرِ تحریمہ کے بقدر کھڑا ہوسکتا ہو تو لازم ہے کہ کھڑے ہوکر تکبیرِ تحریمہ کہے، پھر بیٹھ جائے، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔ اسی طرح اگر کسی سہارے، مثلاً لاٹھی یا دیوار کے ساتھ کھڑا ہوسکتا ہو تو اسی طرح کھڑا ہونا ضروری ہوگا، ورنہ نماز درست نہ ہوگی، جیسا کہ مجتبیٰ میں مذکور ہے۔ پھر اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے عاجز ہو تو بیٹھ کر نماز ادا کرے، جس طرح بھی بیٹھنا اس کے لیے آسان ہو، اور اگر رکوع و سجود پر قدرت رکھتا ہو تو انہیں ادا کرے۔ لیکن اگر رکوع و سجود دونوں، یا صرف سجدہ، ادا کرنے سے عاجز ہو تو سر کے اشارے سے نماز پڑھے؛ کیونکہ اس کی وسعت اسی قدر ہے۔ اور سجدے کے اشارے کو رکوع کے اشارے سے زیادہ پست رکھے تاکہ دونوں میں فرق ظاہر ہو۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ اشارے میں انتہائی درجے تک جھکے، بلکہ معمولی سا جھکاؤ کافی ہے، بشرطیکہ سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ نمایاں ہو۔ اگر دونوں اشارے برابر ہوں تو نماز صحیح نہ ہوگی، جیسا کہ امداد میں مذکور ہے۔ اشارے کی حقیقت سر کو جھکانا ہے، جیسا کہ بحر الرائق میں ہے۔ اور سجدہ کرنے کے لیے اپنے چہرے کی طرف کوئی چیز بلند نہ کرے کہ اس پر سجدہ کرے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ محیط میں اسی طرح مذکور ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کراہت، کراہتِ تحریمی ہے۔ البتہ اگر کسی چیز پر سجدہ کیا اور سجدے کا اشارہ رکوع سے پست رہا تو نماز ادا ہوجائے گی، کیونکہ اصل اشارہ پایا گیا، مگر یہ عمل مکروہ ہوگا، اور اگر سجدے اور رکوع کے اشارے میں فرق نہ رہا تو نماز درست نہ ہوگی۔ پھر اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو چت لیٹ کر نماز پڑھے، اس طرح کہ پاؤں قبلہ رخ ہوں، اور سر کے اشارے سے رکوع و سجود کرے۔ مستحب یہ ہے کہ گھٹنے کھڑے رکھے، اگر اس کی قدرت ہو، تاکہ قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانے سے حتی الامکان اجتناب رہے۔اور اگر پہلو کے بل لیٹ جائے، خواہ دائیں پہلو پر یا بائیں پہلو پر، اور چہرہ قبلہ رخ ہو، پھر سر کے اشارے سے نماز ادا کرے تو بھی جائز ہے۔ البتہ چت لیٹ کر نماز پڑھنا پہلو کے بل پڑھنے سے افضل ہے، اور دائیں پہلو پر لیٹنا بائیں پہلو پر لیٹنے سے بہتر ہے۔ اور اگر سر سے اشارہ کرنے کی بھی طاقت نہ رہے تو نماز مؤخر کرے، آنکھوں، دل یا بھنوؤں کے اشارے سے نماز ادا نہ کرے۔ اسی طرح اگر قیام پر قدرت ہو لیکن رکوع و سجود پر قدرت نہ ہو تو اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا لازم نہیں۔ (اللباب فی شرح الکتاب، ج 1، ص 105، 106، مطبوعہ: کراچی)

بہار شریعت میں ہے اگر عصا یا خادم یا دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو سکتا ہے، تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر پڑھے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 511، مکتبۃ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے جو شخص بوجہ بیماری کے کھڑے ہو کر نما زپڑھنے پر قادر نہیں کہ کھڑے ہو کر پڑھنے سے ضرر لاحق ہوگا یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا یا چکّر آتا ہے یا کھڑے ہو کر پڑھنے سے قطرہ آئے گا یا بہت شدید درد ناقابل برداشت پیدا ہوجائے گا تو ان سب صورتوں میں بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے۔ اگر اپنے آپ بیٹھ بھی نہیں سکتا مگر لڑکا یا غلام یا خادم یا کوئی اجنبی شخص وہاں ہے کہ بٹھا دے گا تو بیٹھ کر پڑھنا ضروری ہے اور اگر بیٹھا نہیں رہ سکتا تو تکیہ یا دیوار یا کسی شخص پر ٹیک لگا کر پڑھے یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر پڑھے اور بیٹھ کر پڑھنا ممکن ہو تو ليٹ کر نماز نہ ہوگی۔ (بہار شریعت،ج 1، حصہ 4، ص 720، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5135
تاریخ اجراء: 27 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 24 جون 2025ء