logo logo
AI Search

جمعہ کے خطبہ میں "الحمزۃ" کا اعراب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جمعہ کے خطبہ کے الفاظ "الحمزۃ والعباس" میں "الحمزۃ" کا اعراب

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حبیب الفتاوی جلد 4، صفحہ 511 پر ایک مسئلہ لکھا ہے: ’’اگر خطیب و علی عمیہ الشریفین المکرمین بین الناس الحمزۃ والعباس جمعہ کے خطبے میں پڑھے تو خطبہ صحیح ہوا اگر چہ الف لام کا دخول حمزۃ پر صحیح نہیں، خطائے لفظی واقع ہوئی لیکن خطبہ میں اس سے کوئی خلل نہ آیا۔ملخصاً ‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی الحمزۃ پڑھ لے تو تاء پر کسرہ پڑھا جائے گا یا فتحہ؟ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں اصل یہی ہے کہ جب الحمزۃ الف لام کے دخول کے ساتھ پڑھ لیا تو اب الحمزۃ؛ تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا جائے جیسا کہ غیر منصرف پر الف لام کے داخل ہونے کا حکم ہے تاہم اگر کسی نے الحمزۃ َفتحہ کے ساتھ پڑھ لیا تو بھی درست ہے کہ اس صورت میں اعنی فعل محذوف مانا جائے گا یا پھر اسے منصوب علی المدح قرار دیا جائے گا۔

علامہ ابن عابدین شامی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ’’سمعت من بعض شیوخی انہ کان یقول: ان الخطباء یلحنون ھنا مرتین حیث یقولو ن وارض عن عمی نبیک الحمزۃ والعباس بادخال ال علی حمزۃ وابقاء منع صرفہ مع انہ لم یسمع دخول ال علیہ واذا دخلت یصرف‘‘ ترجمہ: میں نے اپنے اساتذہ میں سے ایک استاذ کو فرماتے ہوئے سنا کہ خطیب حضرات خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چچاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے دو غلطیاں کرتے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں: وارض عن عمی نبیک الحمزۃ والعباس (اے اللہ تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں چچاؤں حضرات حمزہ و عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راضی ہوجا) تو وہ حضرات حمزہ کو الف لام کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس پر منع صرف کا اعراب باقی رکھتے ہیں (یعنی حالت جری میں کسرہ نہیں پڑھتے بلکہ فتحہ پڑھتے ہیں) حالانکہ حمزہ پر الف لام کا دخول اہل عرب سے مسموع نہیں اور جب اس پر الف لام داخل کرلیا تو اب اسے منصرف یعنی کسرہ کے ساتھ پڑھا جائے گا۔ (رد المحتارعلی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 24، مطبوعہ: کوئٹہ)

مذکورہ عبارت کے تحت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ’’قلت: ویمکن الجواب عن الثانی بتقدیر اعنی و بالنصب علی المدح‘‘ ترجمہ: میں یہ کہتا ہوں کہ یہاں دوسری بات یعنی حمزہ کو الف لام کے ساتھ فتحہ پڑھنے کے متعلق یہ جواب دینا ممکن ہے کہ یہاں اعنی فعل مقدر مانا جائے یا یہ کہ اسے منصوب علی المدح قرار دیا جائے (یعنی اس سے پہلے امدح فعل محذوف مانا جائے)۔ (جد الممتار، جلد 3، صفحہ 592، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5231

تاریخ اجراء: 28 محرم الحرام 1448ھ/14 جولائی 2026ء