سنتِ غیر مؤکدہ چھوڑنے والے کی امامت کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سنت غیر مؤکدہ ادا نہ کرنے والے کا امامت کروا نا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص سنت غیر مؤکدہ ادا نہیں کرتا؛ کیا وہ امامت کروا سکتا ہے ؟
جواب
جی ہاں! ایسا شخص جس میں امامت کی شرائط تو موجود ہوں، لیکن وہ سنت غیر مؤکدہ ادا نہ کرتا ہو، تو وہ امامت کر واسکتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سنت غیر مؤکدہ کی شریعت مبارکہ میں ترغیب دلائی گئی ہے، نیز اس کے ترک کو ناپسند کہا گیا ہے، البتہ! اسے چھوڑنا یا چھوڑنے کی عادت بنا لینا گناہ نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کی امامت میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
امامت کی شرائط بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ’’امام میں چند شرطیں ضرروی ہیں۔ اولاً: قرآن عظیم ایسا غلط نہ پڑھتا ہو، جس سے نماز فاسد ہو۔۔۔دوسرے: وضو، غسل، طہارت صحیح رکھتا ہو۔سوم: سنی صحیح العقیدہ۔۔۔ ہو۔۔۔بد مذہب نہ ہو۔۔۔ چہارم: فاسق معلن نہ ہو، اسی طرح اور امورِ منافی امامت سے پاک ہو۔“ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 543، رضا فاونڈیشن، لاہور)
سنت غیر مؤکدہ کے متعلق بہار شریعت میں ہے ”سنتِ غیر موکدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں، اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادتاً ہو موجبِ عتاب نہیں۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 283، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5130
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1448ھ/20 جون 2026ء