نماز کے بعد پیشانی سے مٹی صاف کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز کے بعد پیشانی سے مٹی صاف کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں سجدہ کرنے کے باعث بسا اوقات صف، جائے نماز یا زمین سے پیشانی اور ناک کی ہڈی پر گرد و غبار یا کچھ ذرات لگ جاتے ہیں، تو سلام پھیرنے کے بعد اِس گرد و غبار یا ذرات کو ہاتھ یا رومال وغیرہا سے صاف کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ایسا کرنے میں کوئی کراہت ہے یا یہ عمل شرعاً جائز ہے؟
جواب
نماز مکمل کرنے کے بعد پیشانی یا ناک کی ہڈی سے گرد، گھاس یا ذرات وغیرہا صاف کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلکہ نماز سے فراغت کے بعد یوں پیشانی کو صاف کرلینا مستحب عمل ہے، تاکہ چہرے پر لگی گرد و غبار بھی دور ہو جائے اور پیشانی پر عبادت کے اثرات (ذرات وغیرہا) رہنے سے دل میں ریاکاری داخل ہونے کا جو شبہ پیدا ہوسکتا ہے، وہ بھی زائل ہو جائے۔
نماز کے بعد پیشانی کو صاف کرنے کے متعلق ”المعجم الاوسط للطبرانی“ اور ”عمل الیوم واللیلۃ“ میں ہے، واللفظ للاول: ”عن أنس بن مالك قال: كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم إذا قضى صلاته مسح جبهته بيده اليمنى“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز مکمل فرمائی، تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی پیشانی پر پھیرا۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد 3، صفحہ 66، مطبوعہ دار الحرمین، القاھرہ)
مذکورہ بالا حدیثِ مبارک سے استدلال کرتے ہوئے نماز کے بعد پیشانی صاف کرنے کے متعلق علامہ طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سالِ وفات: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں: ”كره مسح جبهته من نحو تراب كحشيش أو عرق في خلالها إلا لحاجة ...وأما بعد السلام فلا يكره لما روى ابن السني في كتابه عن أنس قال كان رسول اللہ ﷺإذا قضى صلاته مسح جبهته بيده اليمنى...قال المحقق ابن أمير حاج حاصل هذه المسألة أربعة وجوه أحدها أن يمسح جبهته من العرق أو التراب بعد السلام فذلك مستحب لأنه خرج من الصلاة وفيه إزالة الأذى عن نفسه“ ترجمہ: دورانِ نماز حاجت کے علاوہ پیشانی سے مٹی، گھاس یا پسینہ صاف کرنا، مکروہ ہے اور سلام پھیرنے کے بعد (پیشانی سے مٹی وغیرہ صاف کرنا) مکروہ نہیں، جیسا کہ ابن السنی نے اپنی کتاب (عمل الیوم واللیلۃ) میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز مکمل کی، تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی پیشانی پر پھیرا۔ محقق ابن امیر حاج فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کا حاصل چار صورتیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد پیشانی سے پسینہ یا مٹی صاف کرے، تو ایسا کرنا مستحب ہے، کیونکہ وہ نماز سے نکل چکا ہے اور یوں پیشانی صاف کرنے میں اپنے آپ سے گندگی کو دور کرنا بھی ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 346، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
فتح باب العنایۃ میں ہے: ”كره (مسح جبهته من التراب فيها) أي في الصلاة. وأما بعد الفراغ منها، فلا يكره، بل يستحب كتمانا للعبادة، أو خوفا من الرياء والسمعة“ ترجمہ: نماز میں پیشانی سے مٹی صاف کرنا مکروہ ہے اور نماز سے فراغت کے بعد مکروہ نہیں، بلکہ عبادت کو چھپانے یا ریاکاری اور دکھلاوے کے خوف کی وجہ سے (پیشانی صاف کردینا) مستحب ہے۔ (فتح باب العنایۃ، جلد 1، صفحہ 308، مطبوعہ دار الارقم، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ’’پیشانی سے خاک یا گھاس چھڑانا، مکروہ ہے، جب کہ ان کی وجہ سے نماز میں تشویش نہ ہو اور تکبّر مقصود ہو، تو کراہت تحریمی ہے اور اگر تکلیف دہ ہوں یا خیال بٹتا ہو تو حرج نہیں اور نماز کے بعد چھڑانے میں تو مطلقاً مضایقہ نہیں بلکہ چاہیے، تاکہ ریا نہ آنے پائے۔‘‘ (بھار شریعت، جلد 1 ، حصہ 3، صفحہ 631، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9977
تاریخ اجراء: 19 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 07 مئی 2026 ء