وتر میں مقتدی تکبیر قنوت نہ کہے تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مقتدی نماز وتر میں تکبیر قنوت نہ کہے تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
تکبیر قنوت کہنا واجب ہے، مقتدی سے سہوا یعنی بھولے سے تکبیر قنوت ترک ہوجائے تو امام کی اقتداء میں ہونے کی وجہ سے نہ تو سجدہ سہو واجب ہوگا، نہ ہی نماز کے اعادہ کا حکم دیا جائے گا بلکہ امام کے ساتھ سلام پھیرتے ہی اس کی نماز مکمل ہو جائے گی۔ البتہ اگر مقتدی جان بوجھ کر تکبیر قنوت نہ کہے تو اگرچہ نماز فاسد نہیں ہوگی مگر جان بوجھ کر واجب ترک کرنے کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ یاد رہے کہ اگر مقتدی مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بر بنائے جہالت تکبیر قنوت نہ کہے مثلا: وہ اپنے گمان میں یہ سمجھتا تھا کہ مقتدی کو تکبیر قنوت نہیں کہنی، اس لیے اس نے تکبیر قنوت قصداً نہیں کہی تو یہ بھی جان بوجھ کر چھوڑنا کہلائے گا اور اس صورت میں بھی نماز واجب الاعادہ ہوگی۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں جب مقتدی نے یہ سمجھتے ہوئے تکبیر قنوت ترک کی کہ مجھ پر تکبیر قنوت کہنا واجب نہیں، تو یہ بھی قصدا تکبیر قنوت ترک کرنا ہوا لہٰذا اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہوئی۔
تکبیر قنوت واجب ہے اس کے متعلق تنویر الابصار و درمختار، واجبات نماز کے باب میں مذکور ہے: (و) قراءۃ (قنوت الوتر) و کذا تکبیر قنوتہ۔ اوروتر میں قنوت پڑھنا اور اسی طرح وتر میں قنوت کی تکبیر کہنا (واجب ہے)۔ ملخصاً (تنویر الابصارودرمختار مع ردالمحتار، ج 2، ص 200، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں واجبات نماز کے تحت مذکور ہے: وتر میں دعائے قنوت پڑھنا اور تکبیرقنوت۔(بہار شریعت، ج 01، ص 518، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مقتدی سے سہوا ترک واجب ہو تو سجدہ سہو واجب نہیں، جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے: المقتدي إذا سها في صلاته فلا سهو عليه؛ لأنه لا يمكنه السجود فسقط السجود عنه أصلا۔ ملخصا" مقتدی جب نماز میں بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہے کیونکہ اسے سجدہ کرنا ممکن نہیں ہے لہذا اس سے سجدہ ساقط ہو جائے گا۔ (بدائع الصنائع، ج 1، ص 718، مطبوعہ بیروت)
تنویر الابصار و در مختار میں ہے: (یجب لہ بعد سلام واحد سجدتان علی منفرد و مقتد بسھو امامہ ان سجد امامہ) لوجوب المتابعۃ (لا بسھوہ) أصلاً . ملخصا۔ سہو کی وجہ سے سلام کے بعد دو سجدے واجب ہوں گے منفرد پر اور مقتدی پر اس کے امام کے سہو کی وجہ سے اگر اس کا امام سجدہ کرے پیروی کے واجب ہونے کی وجہ سے، مقتدی کے اپنے سہو کی وجہ سے سجدے بالکل واجب نہیں ہوں گے۔ (تنویر الابصار ودر مختار مع رد المحتار، ج 2، ص 658 تا 651، مطبوعہ کوئٹہ)
مقتدی جان بوجھ کر کسی واجب کو ترک کرے تو اس کی نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ جیسا کہ سید ی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ "اگر مقتدی نے رکوع یاسجدہ امام کے ساتھ نہ کیا بلکہ امام کے فارغ ہونے کے بعد کیا تو نماز اس کی ہوئی یا نہیں؟ آپ علیہ رحمۃ الرحمن اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ہوگئی اگرچہ بلاضرورت ایسی تاخیر سے گنہگار ہوا اور بوجہ ترک واجب اعادہ نماز کا حکم دیا جائے تحقیق مقام یہ ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (مقتدی نے) اگر بلاضرورت فصل کیا تو قلیل فصل میں جس کے سبب امام سے جا ملنافوت نہ ہو ترک سنت اور کثیر میں جس طرح صورت سوال ہے کہ فعل امام ختم ہونے کے بعد اس نے فعل کیا ترک واجب جس کا حکم اس نماز کو پورا کر کے اعادہ کرنا۔ ملخصا (فتاوٰ ی رضویہ، ج 07، ص 274 تا 275، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی وقار الدین علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ امام کے پیچھے اگر مقتدی سے سہواً یا قصداً کوئی واجب چھوٹ گیا مثلاً تشہد نہیں پڑھا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ آپ علیہ رحمۃ الرحمن اس کے جواب میں فرماتے ہیں: کسی واجب کو قصداً (جان بوجھ کر) امام کے پیچھے چھوڑنے سے نماز دوبارہ پڑھنا ہوگی۔ اور اگر امام کے پیچھے سہواً (بھول سے) کوئی واجب چھوٹ گیا تو پھر سجدہ سہو واجب نہ ہوگا۔ (وقار الفتاوی، ج 02، ص 210، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)
کسی نے بربنائے جہالت نماز کا واجب چھوڑا تو اس صورت میں بھی نماز واجب الاعادہ ہوگی چنانچہ مسافر کے مسئلہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: جس پر شرعا قصر ہے اور اس نے جہلا پڑھی اس پر مواخذہ ہے اور اس نماز کا پھیرنا واجب۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 08، ص 270، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ زمانہ نا واقفیت میں جو نمازیں پڑھی گئیں ان میں واجب ترک ہوتا رہا۔ مثلاً قومہ نہ کرنا وغیرہ تو کیا ان نمازوں کا اعادہ واجب ہے یا نہیں؟ آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: جو نمازیں اس طرح پڑھیں کہ واجب ترک ہوا۔ ان کا اعادہ کرے۔ در مختار میں ہے "کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا" اور نہ جاننا عذر نہیں۔ ملخصا (فتاویٰ امجدیہ، ج 01، ص 271، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: 5578-Har
تاریخ اجراء: 16 شوال المکرم 1445ھ / 25 اپریل 2024ء