logo logo
AI Search

مسجد میں وضو کا پانی گرانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسجد میں وضو کا پانی گرانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مسجد میں وضو کا پانی گرانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مسجد میں وضو کا پانی یا قطرے گرانا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ اگرچہ ناپاک نہیں ہوتے، لیکن طبعی طور پر گھن والے ہوتے ہیں، اور مسجد کے تقدس کی خاطر مسجدمیں کوئی ایسی چیزگرانا بھی جائز نہیں، جو گندی، اور گھن والی ہو، اگرچہ وہ پاک ہی ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے۔ (القرآن الکریم، پارہ 01، سورۃ البقرۃ، آیت: 125)

حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ایک حدیث میں ہے ’’امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ببناء المساجد فی الدور وان تنظف و تطیب‘‘ ترجمہ: اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے، اور انہیں پاک صاف اور معطر رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، صفحہ 86، رقم الحدیث 455،دار الكتب العلمية، بیروت)

شارح بخاری، علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمہ عمدۃ القاری میں ایک حدیثِ مبارک سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: فيه تعظیم المساجد عن اثقال البدن و عن القاذورات بالطريق الأولى. و فيه: احترام جهة القبلة. و فيه: إزالة البزاق و غيره من الأقذار من المسجد“ یعنی اس حدیث میں مساجد کو جسمانی آلائشوں اور گندگیوں سے پاک رکھنے اور ان کی تعظیم کا حکم بدرجہ اولیٰ موجود ہے۔ نیز اس میں قبلہ کی سمت کا احترام بھی ہے۔ اور اس میں مسجد سے تھوک اور دیگر نجاستوں کو دور کرنے کا بھی حکم ہے۔ (عمدۃ القاری، كتاب الصلوة، جلد 4، صفحہ 222، مطبوعہ: کوئٹہ)

بحر الرائق، فتاوٰی شامی، بدائع الصنائع وغیرہ کتبِ فقہیہ میں ہے "ان غسل المعتکف راسہ فی المسجد فلاباس بہ اذالم یلوث بالماء المستعمل فان کان بحیث یتلوث المسجد یمنع منہ لان تنظیف المسجد واجب" یعنی اگر معتکِف مسجد میں اپنے سر کو دھوئے اور استعمال شدہ پانی سے مسجد کو آلودہ بھی نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اگر سر دھونے سے مسجد آلودہ ہوتی ہو تو اُسے سر دھونے سے منع کیا جائے گا، کیونکہ مسجد کو صاف ستھرا رکھنا واجب ہے۔ (البحر الرائق، باب الاعتكاف، جلد 02، صفحہ 530، مطبوعہ: کوئٹہ)

درِ مختار میں ہے ”و الوضوء الا فيما أعد لذلك“ ترجمہ: مسجد میں بنائے گئے وضو خانے کے علاوہ، مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے۔ (قوله و الوضوء) کے تحت فتاوٰی شامی میں مذکور ہے: لأن ماءه مستقذر طبعا فيجب تنزيه المسجد عنه، كما يجب تنزيهه عن المخاط و البلغم“ ترجمہ: کیونکہ وضو کا پانی طبعاً گندہ ہے تو مسجد کا اس سے بچانا واجب ہے، جیسے رینٹھ اور بلغم سے مسجد کو بچانا واجب ہے۔ ( رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 02، صفحہ525، مطبوعہ :کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے وضو وغسل کا پانی مسجد میں گرانا ناجائز ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 1024، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5080
تاریخ اجراء: 29 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 15 جون 2026ء