کام کی جگہ پینٹ شرٹ میں نماز پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پینٹ شرٹ پہن کر نماز پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کام پر نماز کا وقت ہو جائے تو پینٹ شرٹ وغیرہ کام والے کپڑوں میں وہیں نماز پڑھ سکتے ہیں یا پھر بعد میں گھر آکر پڑھ لیں، کیونکہ کام غیر مسلموں کی جگہ پر ہوتا ہے؟
جواب
نماز نہایت اہم عبادت ہے اور اسے اس کے مقررہ وقت پر ادا کرنا بحکم قرآنی فرض ہے، کسی بھی نماز کو بلا عذرِ شرعی قصداً اس کا وقت گزار کر پڑھنا حرام اور سخت گناہ کبیرہ ہے، لہذا اگر معلوم ہے کہ گھر جا کر نماز پڑھنے کی صورت میں نماز کا وقت نکل جائے گا تو ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ کام کی جگہ پر ہوں یا کہیں اور، لازم ہے کہ نماز کا اہتمام کر کے وقت کے اندر نماز ادا کی جائے، پینٹ شرٹ پہنے ہوئے ہونا یا غیر مسلموں کی جگہ پر کام کرنا نماز چھوڑنے کے لیے کوئی عذر نہیں۔
پینٹ شرٹ وغیرہ کام والے کپڑے پاک ہوں اور کامل ستر عورت کر رہے ہوں تو ان میں نماز درست ہے۔ کام کاج کا لباس اگر میلا قسم کا ہو تو اس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ نماز میں کراہت تنزیہی آتی ہے، لیکن اگر اچھے کپڑے میسر نہ ہوں تو یہ کراہت بھی نہیں۔ رہا غیر مسلموں کے ہاں کام کی جگہ پر نماز پڑھنا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں؛ کہ ساری زمین ہمارے لیے نماز پڑھنے کی جگہ بنائی گئی ہے، نیز جب تک کسی جگہ پر نجاست لگی ہونا یقینی طور پر معلوم نہ ہو، اسے پاک ہی سمجھا جائے گا؛ کہ نجاست کے معاملے میں محض شک اور وہم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا﴾ ترجمہ ٔکنز العرفان: بے شک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔ (پارہ 5، سورۃ النساء 4، آیت 103)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: نحن نعلم قطعا ان المولی سبحٰنہ وتعالی کما امرنا بالصلاۃ امرنا بایقاعھا فی وقتھا و حرم اخراجھا عنہ لا لعذر فالکل مقصود عینا، قال سبحنہ: ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا﴾ [النساء: 103] و قال عزوجل: ﴿حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى﴾ [البقرة: 238] وقال تعالی: ﴿فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ (۴) الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ (۵)﴾ [الماعون: 4 - 5] و ھم الذین یؤخرونھا حتی یخرج وقتھا سماھم مصلین و جعل لھم الویل لاخراجھم ایاھا عن وقتھا فکان الوقت مقصودا عینا (ہمیں قطعی طور پر معلوم ہے کہ مولی سبحٰنہ وتعالیٰ نے جس طرح ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ نماز کو اس کے مقررہ وقت کے اندر ادا کریں اور بغیر کسی عذر کے اس وقت سے باہر لانا حرام فرمایا ہے تو (یہ) سب ہی مقصود بالذات ہے۔ ارشاد ہے: بے شک نماز ایمان والوں پر وقت باندھا ہوا فریضہ ہے۔ اور ارشاد ہے: نمازوں اور بیچ والی نماز کی حفاظت کرو۔ اور فرمایا ہے: تو ویل (خرابی) ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو نماز اس حد تک مؤخر کرتے ہیں کہ اس کا وقت نکل جاتا ہے، انہیں نمازی کہا، ساتھ ہی ان کے لیے وَیل بھی قرار دیا، اس لیے کہ وہ نماز وقت سے باہر ادا کرتے ہیں، تو خود وقت بھی مقصود بالذات ہوا۔ (ت) (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 458 - 459، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: جو ایک وقت کی نماز بھی قصداً بلا عذر شرعی دیدہ و دانستہ قضا کرے، فاسق و مرتکب کبیره و مستحق جہنم ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1423ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: پینٹ کا استعمال اب بالکل عام ہو چکا ہے، ہندو و مسلم ہر کوئی اس کو استعمال کرتا ہے، کسی قوم کے ساتھ خاص نہ رہا، اس لیے اگر پینٹ ایسا ڈھیلا ہو کہ نماز ادا کرنے میں دشواری نہ ہو، تو اسے پہن کر نماز جائز ہے۔ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 179، شبیر برادرز، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: کام کاج کے کپڑوں سے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، جب کہ اس کے پاس اور کپڑے ہوں ورنہ کراہت نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 630-631، مکتبة المدینہ، کراچی)
صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: و اللفظ للبخاری: و جعلت لي الأرض مسجدا و طهورا فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة“ ترجمہ: (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:) اور میرے لیے ساری زمین کو نماز کی جگہ اور پاک کرنے والی بنایا گیا، پس میری امت کے جس کسی شخص کو جہاں نماز (کا وقت) آ پہنچے تو وہیں نماز پڑھ لے۔ (صحيح البخاري، أبواب المساجد، جلد 1، صفحہ 128، حدیث 328، دار ابن كثير، دمشق)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: نماز ہر پاک جگہ ہو سکتی ہے جہاں کوئی ممانعت شرعی نہ ہو، اگرچہ کسی کا مکان یا افتادہ زمین ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 465، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: جس جگہ کی پاکی ناپاکی تحقیق نہیں، وہ پاک ہی ہے، یہاں تک کہ اس پر نماز جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 181، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: طہارت و نجاست ظاہری میں شرع مطہر کا قاعدۂ کلیہ یہ ہے کہ احتمال سے نجاست ثابت نہیں ہوتی، جس خاص شے کی نجاست معلوم ہو وہی خاص نجس و حرام ہے و بس۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 558، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1195
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 13 مئی 2026ء