امام کی نماز واجب الاعادہ ہو جائے تو مسبوق کیا کرے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
امام کی نماز واجب الاعادہ ہوجائے تو مسبوق کے لیے کیا حکم ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں وہ مسبوق مقتدی اپنی بقیہ نماز کو مکمل کرے اور مکمل کرنے کے بعد نماز کا اعادہ کرے۔ تفصیل یہ ہے کہ امام کی نماز واجب الاعادہ ہونے کی وجہ سے مقتدیوں کی نماز بھی واجب الاعادہ ہوگئی، لیکن نماز واجب الاعادہ ہونے کی صورت میں فرض باطل نہیں ہوتے بلکہ فرض ادا ہوجاتے ہیں، اس لیے نماز کے دوران اگر کسی غلطی (مثلاً قصداً ترکِ واجب) کی وجہ سے نماز کا اعادہ واجب ہوجائے ، تو حکمِ شرعی یہ ہے کہ پہلے اس (واجب الاعادہ )نماز کومکمل کرے، پھر بعد میں اس نماز کا اعادہ کرے۔ اسی تفصیل کے مطابق پوچھی گئی صورت میں نماز واجب الاعادہ ہونے کے باوجود اس مسبوق مقتدی کے فرض باطل نہیں ہوئے، لہٰذا اس کے لیے حکم یہ ہے کہ پہلے اپنی بقیہ نماز کو مکمل کرے، پھر بعد میں اس واجب الاعادہ نماز کااعادہ کرے۔
امام کے مقتدیوں کی نماز کے ضامن ہونے کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے: عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: الإمام ضامن“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے۔ (سنن ترمذی، جلد 1، صفحہ 262، مطبوعہ دار الرسالة العالمية)
اس حدیثِ مبارک کے تحت علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں: (الإمام ضامن) أي: متكفل لصلاة المؤتمين بالإتمام“ ترجمہ: امام ضامن ہے یعنی مقتدیوں کی نماز کو مکمل کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 2، صفحہ 334، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جو حکم امام کی نماز کا ہے، وہی مقتدیوں کی نماز کا ہے، چنانچہ حلبۃ المجلی شرح منیۃ المصلی میں ہے: النقصان المتمكن في صلاة الإمام متمكن في صلاة القوم؛ لأن صلاتهم متعلقة بصلاته صحة وفساداً، ولأنهم تبع له، فما يجب عليه يجب عليهم بحكم التبعية“ ترجمہ: جو نقصان امام کی نماز میں ہے، وہی مقتدیوں کی نماز میں پایا جائے گا، کیونکہ صحت و فساد کے لحاظ سے لوگوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ متعلق ہے اور چونکہ مقتدی امام کے تابع ہیں، تو جو امام پر واجب ہوگا، وہی تابع ہونے کی وجہ سے مقتدیوں پرواجب ہوگا۔ (حلبۃ المجلی شرح منیۃ المصلی، جلد 2، صفحہ 451، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام کی نماز واجب الاعادہ ہونے کی صورت میں مقتدیوں پر بھی اعادہ واجب ہونے کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: أما لو سقط عن الإمام بسبب من الأسباب بأن تكلم أو أحدث متعمدا أو خرج من المسجد فإنه يسقط عن المقتدي بحر. والظاهر أن المقتدي تجب عليه الإعادة كالإمام۔۔۔ولأن النقصان دخل في صلاته أيضا لارتباطها بصلاة الإمام“ ترجمہ: اگر امام سے کسی وجہ سے سجدہ سہو ساقط ہوگیاکہ امام نے بات چیت کرلی یا قصداً حدث طاری کردیا یا مسجد سے باہر نکل گیا، تو مقتدی سے بھی سجدہ سہو ساقط ہوگیا اور ظاہر ہے کہ (اس صورت میں)مقتدی پر نماز کا اعادہ واجب ہوگا، جیسا کہ امام پر اعادہ واجب ہے اور چونکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز سے جُڑی ہوئی ہے، اس لیے مقتدی کی نماز میں بھی (ترکِ واجب والا) نقصان داخل ہوگیا۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 658، مطبوعہ کوئٹہ)
نماز واجب الاعادہ ہو، تو بھی فرض ادا ہوجاتے ہیں، چنانچہ علامہ شُرُنبلالی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1069ھ / 1658ء) لکھتے ہیں: و تعاد الصلاة مع كونها صحيحة لترك واجب وجوبا“ ترجمہ: ترکِ واجب کی صورت میں وجوبی طور پر نماز کا اعادہ کیا جائے گا، اگرچہ وہ نماز (فرض ادا ہوجانے کے اعتبار سے) صحیح ہوچکی۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، صفحہ 124، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
یونہی صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) عربی میں کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: ان الذی صلی الفرض مع ترک الواجب فقد ادی فرضہ لکن بترک الواجب صارت صلوتہ ناقصۃ و وجب علیہ الاعادۃ“ ترجمہ:جس نے ترکِ واجب کے ساتھ فرض نماز ادا کی،تو اس کا فرض ادا ہوگیا، لیکن ترکِ واجب کی وجہ سے اس کی نماز ناقص ہوئی اور اس پر اعادہ واجب ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 169 - 170، مطبوعہ مکتبہ رضویہ)
قصداً ترکِ واجب سے نماز کا اعادہ واجب ہونے کے متعلق تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: (و لها واجبات) لا تفسد بتركها و تعاد وجوبا في العمد“ ترجمہ: نماز کے چند واجبات ہیں، جن کے ترک کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی،البتہ عمد (یعنی جان بوجھ کر ترک کرنے) کی صورت میں نماز کو وجوبی طور پر دہرایا جائے گا۔ (تنویر الابصار مع درمختار، صفحہ 64، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
نماز واجب الاعادہ ہوجائے، تو پہلے اس نماز کو مکمل کرکے پھر اعادہ کرنے کے متعلق امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اس نے فعل کیا ترکِ واجب، جس کا حکم اس نماز کو پورا کر کے اعادہ کرنا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 275، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10053
تاریخ اجراء: 08 محرم الحرام 1448ھ / 24 جون 2026ء