logo logo
AI Search

بیٹھ کر امامت کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیٹھ کر نماز پڑھانے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

یہ معلوم کرنا ہے کہ ایک شخص فرض نماز پنجگانہ میں سے کسی نماز میں امامت کر رہا ہے، اور اس نے تکبیرِ تحریمہ کھڑے ہو کر کہی، اور پہلی رکعت بھی کھڑے ہو کر پڑھائی، پھر اس کے بعد دوسری رکعت بیٹھ کر پڑھا رہا ہے، تو کیا ایسے شخص کے پیچھے، ان کی نماز ہو جائے گی، جو قیام پر قادر ہیں ؟ نیز اس وقت اقتدا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو امامت کروانے کے اہل ہیں، تو ایسی کنڈیشن میں کیا حکم ہوگا؟

جواب

(1) پوچھی گئی صورت میں اگر امام نے بلا عذر بیٹھ کر نماز پڑھائی، تو امام سمیت کسی کی بھی نماز نہ ہوئی، کیونکہ فرض نماز میں قیام فرض ہے، اور فرض چھوٹنے سے نماز نہیں ہوتی۔

(2) اور اگر امام نے عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور رکوع و سجود اشارے سے نہ کیے، بلکہ رکوع میں پیٹھ جھکائی، اور سجدہ زمین پر کیا، تو اس صورت میں کھڑے ہو کر، یا بیٹھ کر پڑھنے والے تمام افراد کی نماز، اس امام کے پیچھے درست ہو گئی، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں۔

(3) لیکن اگر امام نے عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور رکوع و سجود اشارے سے کیے، تو جو افراد رکوع و سجود کرنے پر قادر ہیں، ان افراد کی نماز اِس امام کے پیچھے نہیں ہوئی، انہیں دوبارہ نماز ادا کرنا فرض ہے۔ ہاں! وہ افراد کہ جو اس کی طرح معذور ہوں، اور کھڑے ہو کر، یا کرسی پر، یا زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجود اشارے کے ساتھ ادا کرتے ہوں، ان کی نماز درست ہو گئی۔

 نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے ”(و) یفترض (القیام) وھو رکن متفق علیہ فی الفرائض و الواجبات“ ترجمہ: قیام فرض ہے اور یہ فرائض و واجبات میں متفق علیہ رکن ہے۔ (نور الايضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 128، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

بہارِ شریعت میں ہے ”فرض و وتر وعیدین و سنتِ فجر میں قیام فرض ہے کہ بلا عذرِ صحیح بیٹھ کر یہ نمازیں پڑھے گا، نہ ہوں گی۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 510، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے ”يصح اقتداء القائم بالقاعد الذي يركع ويسجد“ ترجمہ: کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کا، بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرنے والے کی اقتداء کرنا صحیح ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 85، مطبوعہ: کوئٹہ)

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے ”(لا يصلي الذي يركع ويسجد ‌خلف ‌المومئ؛ لأن حال المقتدي أقوى) من حال الامام بقدرته على الركوع والسجود دون الامام، وحاصله أن حال الراكع والساجد أقوى فلا يجوز بناؤه على الضعيف“ ترجمہ: جو شخص رکوع وسجود پر قادر ہو، وہ اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرنے والے کے پیچھے نماز ادا نہیں کرسکتا، کیونکہ مقتدی کے رکوع اور سجدہ پر قدرت ہونے کی وجہ سے اس کی حالت امام سے قوی ہے، جبکہ امام کے قادر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی حالت قوی نہیں اور حاصل کلام یہ ہے کہ چونکہ رکوع اور سجود کرنے والے کی حالت قوی ہے، لہٰذا اس کی ضعیف پر بناء کرنا جائز نہیں۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ، جلد 2، صفحہ 431، مطبوعہ: کوئٹہ)

 نہر الفائق شرح کنز الدقائق میں ہے ”(فسد اقتداء۔۔۔غير مومئ بمومئ) لقوه حال الراكع والساجد على المومئ“ ترجمہ: اشارے کے بغیر نماز ادا کرنے والے کا، اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے والے کی اقتداء کرنا، نماز کو فاسد کردیتا ہے، کیونکہ رکوع وسجود کرنے والے کی حالت اشارے کے ساتھ ادائیگی کرنے والے سے قوی ہوتی ہے۔ (النھر الفائق شرح کنز الدقائق، جلد 1، صفحہ 251، 252، مطبوعہ: کراچی)

 فتح القدیر میں ہے ”(يصلي المومئ خلف مثله) وإن كان الامام يومئ قاعدا والمأموم يومئ قائما“ ترجمہ: اشارے سے نماز ادا کرنے والا اپنے جیسے اشارے سے ادا کرنے والے کے پیچھے نماز ادا کرسکتا ہے، اگرچہ امام بیٹھ کر اشارے سے پڑھ رہا ہو اور مقتدی کھڑے ہو کر اشارے سے نماز کی ادائیگی کررہا ہو۔ (فتح القدیر، جلد 1، صفحہ 381، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5102
تاریخ اجراء: 26 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 12 جون 2026ء