logo logo
AI Search

فجر پڑھ کر احتلام کا نشان دیکھا تو پڑھی گئی نماز کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فجر کی نماز پڑھ کر احتلام کا داغ نظر آیا تو پڑھی گئی نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی فجر کی نماز کے لیے اٹھے تو جب وہ واش روم گیا، تو اسے شلوار کے آگے کوئی چیز لگی ہوئی نظر آئی، لیکن کپڑے رنگین ہونے کی وجہ سے صاف دکھائی نہ دی اور اس نے اسی طرح نماز پڑھ لی اور ذکر و اذکار بھی کئے، طلوع آفتاب کے بعد دن کی روشنی میں غور سے دیکھا، تو اسے احتلام کا داغ نظر آیا، تو اب اس کی نماز اور ذکر و اذکار کا کیا حکم ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اٹھنے کے بعد پڑھی گئی فرض نماز کا اعادہ لازم ہے۔

جوہرہ نیرہ میں ہے: ”ولو وجد فی ثوبہ منیا أعاد الصلاۃ من آخر نومۃ نامہا فیہ‘‘ ترجمہ: اگر کپڑے پر منی پائی، تو ان کپڑوں کے ساتھ جو آخری مرتبہ سویا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک کی تمام نمازیں لوٹائی جائیں گی۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الطھارۃ، الأغسال المسنونۃ، ج 1، ص 19، مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2421
تاریخ اجراء: 27 صفر المظفر 1447ھ / 22 اگست 2025ء