عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عید الاضحٰی کی نماز کے بعد تکبیراتِ تشریق پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک امام صاحب نے بقر عید کی نماز پڑھائی، اور نماز عید کے فوراً بعد لوگوں نے تکبیر تشریق پڑھنا شروع کیا، امام صاحب نے منع کیا، اور کہا: نماز عید کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا جائز نہیں۔ لوگوں نے بولنا شروع کر دیا، اور کہا: ہم بچپن سے پڑھ رہے ہیں، کسی نے منع نہیں کیا۔ تو کیا بقر عیدکی نماز کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا جائز نہیں ہے؟ مفصّل جواب ارشاد فرمائیں۔
جواب
عید الاضحی کی نماز کے بعد تکبیر تشریق کہنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، اس کو ناجائز کہنا ہرگز درست نہیں۔ غلط مسئلہ بتانا گناہ ہے، ایسے شخص پر توبہ واجب ہے، اور جتنوں کو غلط مسئلہ بتایا ہے، حتی الامکان انہیں درست بات پہنچانا، اور غلطی کا ازالہ کرنا بھی ضَروری ہے۔
در مختار میں ہے "و لا بأس به عقب العيد لأن المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم." ترجمہ: اور عید کے نماز کے بعد پڑھنے میں حرج نہیں اس لئے کہ مسلمانوں میں توارث کے ساتھ چلا آ رہا ہے، تو ان کی اتباع واجب ہے۔ (الدر المختارمع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 75، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے نویں ذو الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ہر نماز فرض پنجگانہ کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ایک بار تکبیر بلند آواز سے کہنا واجب ہے اور تین بار افضل۔ ۔ ۔ نفل و سنت و وتر کے بعد تکبیر واجب نہیں اور جمعہ کے بعد واجب ہے اور نماز عید کے بعد بھی کہہ لے۔ ( بہار شریعت ، جلد1،حصہ 4، صفحہ 784 تا 786، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: جھوٹا (یعنی غلط) مسئلہ بیان کرنا، سخت شدید کبیرہ ہے، اگر قصداً ہے تو شریعت پر افتراء ہے اور شریعت پر افتراء اللہ عزوجل پر افتراء ہے۔ ۔ ۔ اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہل پر سخت حرام ہے کہ وہ فتوی دے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 711، 712، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5079
تاریخ اجراء: 29 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 15 جون 2026ء