وکیل کے ذریعے مال خرید کر وکیل کو ہی ادھار پر بیچنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وکیل کے خریدے ہوئے مال پر قبضہ کے بعد وکیل کو ہی وہ مال ادھار پر بیچنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے ماموں مجھے کچھ رقم دیتے ہیں، اور اس رقم سے مال خریدنے کے لیے مجھے اپنا وکیل مقرر کرتے ہیں، چنانچہ میں ان کی طرف سےمال خریدتا ہوں، میرے ماموں اس مال پر قبضہ کرنے کے بعد وہی مال اپنا منافع شامل کرکے ایک ماہ کے ادھار پر مجھے فروخت کر دیتے ہیں، اور میں وہ مال ان سے خرید لیتا ہوں، پھر میں آگے اپنے گاہکوں کو اپنی مرضی کے مطابق مزید منافع رکھ کر فروخت کر دیتا ہوں۔ برائے کرم رہنمائی فرمادیں کہ مذکورہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
آپ کے بیان کردہ معاملے میں خرید و فروخت جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، جبکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب آپ کے ماموں آپ کو اپنی طرف سے مال خریدنے کا وکیل بناتے ہیں، اور آپ ان کے لیے مال خرید لیتے ہیں، تو وہ مالک بن جاتے ہیں، اور پھر قبضہ کرنے کے بعد جب آپ کے ماموں اسی مال کو اپنا منافع شامل کر کے ایک قیمت متعین کر کے، ایک ماہ کے ادھار پر، آپ کو فروخت کر تے ہیں، تو یہ بھی جائز ہے، کیونکہ شریعت میں نقد اور ادھار کی قیمت میں فرق رکھنا درست ہے، تاہم! قیمت اور ادھار کی مدت وغیرہ کی تعیین کرنی ہو گی، اور آپ کے سوال سے ظاہر ہے کہ آپ ایسا ہی کرتے ہیں، پھر جب آپ شرعی تقاضوں کے مطابق وہ مال اپنے ماموں سے خرید لیتے ہیں، تو آپ مالک بن جاتے ہیں، اور قبضہ کرنے کے بعد پھر آپ کو اختیار ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی وغیرہ سے بچتے ہوئے اسے اپنے گاہکوں کو جتنے مناسب منافع کے ساتھ چاہیں فروخت کر سکتے ہیں۔ ہدایہ میں ہے ”و يجوز البيع بثمن حال و مؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى ﴿وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾“ ترجمہ: ارشاد باری تعالیٰ کہ اور "اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا"کے عموم کی وجہ سے نقد اور ادھار، دونوں طریقوں سے، خرید و فروخت کرنا جائز ہے، جبکہ مدت معلوم ہو۔ (الهدایة، جلد 3، صفحہ 21، مطبوعہ: لاہور)
فتح القدیر میں ہے ”كون الثمن على تقدير النقد ألفا و على تقدير النسيئة ألفين ليس في معنى الربا“ ترجمہ: کسی چیز کی قیمت کا نقد کی صورت میں ایک ہزار، اور ادھار کی صورت میں دو ہزار ہونا، سود کے معنی میں نہیں ہے۔ (فتح القدیر، جلد 6، صفحہ 410، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے ”غلہ تجارتی کو ادھار میں موجودہ نرخ سے زیادہ قیمت پر بیع کرنا درست ہے کہ نہیں؟ تو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: درست ہے۔ “ (فتاویٰ رضویہ، جلد 17، صفحہ 274، 276، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی امجدیہ میں ہے ”بیع میں ثمن کا معین کرنا ضروری ہے۔۔۔ اور جب ثمن معین کر دیا جائے تو بیع چاہے نقد ہو یا ادھار سب جائز ہے، ۔۔۔اور یہ بھی ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کو کم یا زیادہ، جس قیمت پر مناسب جانے بیع کرے، تھوڑا نفع لے (یا) زیادہ، شرع سے اس کی مانعت نہیں، مگر صورت مسئولہ میں یہ ضرور ہے کہ نقد یا ادھار دونوں سے ایک صورت کو معین کر کے بیع کرے اور اگر معین نہ کیا، یموہیں مجمل رکھا کہ نقد اتنے کو اور ادھار اتنے کو تو یہ بیع فاسد ہوگی اور ایسا کرنا جائز نہ ہوگا۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 181، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5190
تاریخ اجراء: 24 محرم الحرام 1448ھ/10 جولائی 2026ء