انسانی خون کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
انسانی خون کی خرید و فروخت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ انسانی خون کی خرید و فروخت کرنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب
انسانی خون کی خرید و فروخت کرنا شرعا جائز نہیں، البتہ جس مسلمان کو ضرورت یا حاجت درپیش ہے اور بغیر قیمت لئے کوئی خون نہیں دیتا تو اسے قیمت دے کر خون لینا درست ہے لیکن اس کی قیمت لینا، لینے والے کے حق میں جائز نہیں۔
صحیح بخاری کی حدیث پاک ہے ”إن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم نهى عن ثمن الدم“ ترجمہ: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خون کے ثمن سے منع کیا ہے۔ (صحیح البخاری، كتاب البيوع، باب ثمن الكلب، جلد 2، صفحہ 780، دار ابن کثیر دمشق)
اس حدیث کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ”في شرح السنة: بيع الدم لا يجوز لأنه نجس“ ترجمہ: شرح السنہ میں ہے کہ خون کی بیع ناجائز ہے کیونکہ یہ نجس ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب البيوع، باب الكسب و طلب الحلال، جلد 5، صفحہ 1895، دار الفكر، بيروت)
ہدایہ میں ہے: ”بیع المیتۃ و الدم و الحر باطل لانھا لیست اموالا فلاتکون محلا للبیع“ یعنی: مردار، خون اور آزاد کی خرید و فروخت باطل ہے کیونکہ یہ چیزیں مال نہیں ہیں، اس لئے یہ بیع کا محل نہیں۔ (ہدایہ، جلد 3، صفحہ 43، دار احياء التراث العربي، بيروت لبنان)
خون دینے کے حوالے سے صحیفہ ٔ مجلس شرعی جلددوم میں ہے: مریض کو جب خون چڑھانے کی ضرورت یا حاجت ہو تو اس کے لیے خون چڑھانا جائز ہو جاتا ہے۔ لیکن کوئی شخص اگر اسے خون دیتا ہے تو دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر دینا جائز ہو تو دینے والے کے حق میں ضرورت یا حاجت کیا ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہا گیا کہ فتاوی رضویہ جلد 10، صفحہ 200، میں ہے کہ دوسرے مسلم کی ضرورت کا بھی اعتبار ہے، جیسے ڈوبتے کو بچانے کے لیے نماز پڑھنے والے کو نماز توڑنا واجب ہوجاتا ہے اس لیے جب کسی مسلم کو ضرورت یا حاجت درپیش ہے تو دوسرے شخص کے لیے جائز ہے کہ اپنا خون اسے بچانے کے لیے دے دے، جزء انسان سے وقت ضرورت و حاجت انتفاع کا جواز ہوجاتا ہے۔
مزید اگلے صفحہ پر ہے: مریض کو حاجت و ضرورت کی حالت میں خون اگر بلا عوض نہیں ملتا تو بعوض خریدنا جائز ہے مگر بائع کے لیے خون کا ثمن طیب نہیں۔ (صحیفۂ مجلس شرعی، جلد 2، صفحہ۔ 49. 48، دار النعمان، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0089
تاریخ اجراء: 16 ذو الحجۃ الحرام 1442ھ / 26 جولائی 2021ء