ڈسپلے کرنے کی شرط پر سامان بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
دکاندار کو اس شرط پر سامان بیچنا کیسا کہ وہ ڈسپلے میں لگائے گا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اگر کمپنی کا نمائندہ سامان فروخت کرتے ہوئے باقاعدہ یہ شرط رکھے کہ میں تمہیں یہ مال اِسی شرط پر بیچتا ہوں کہ تم اسے ڈسپلے مثلاً فرنٹ کاؤنٹر پر نمایاں لگاؤ گے، کہیں پیچھے یا سائیڈ پر نہیں لگاؤ گے، اگر یہ شرط قبول ہے، تو سامان بیچتا ہوں، ورنہ نہیں، تو شرعاً اِس شرط کی وجہ سے یہ بیع شرطِ فاسد پر مشتمل اور ناجائز ہے۔ اِس طرح کی شرط رکھنے کی اجازت نہیں، كيونكہ ”بیع“ رضامندی کے ساتھ ثمن اور مبیع کے باہم تبادلے کا نام ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں سامان بیچنے کے علاوہ اُسے ڈسپلے پر رکھنے کی شرط لگائی جا رہی ہے۔ جس میں کمپنی کی تشہیر کا واضح فائدہ موجود ہے، حالانکہ ضابطہ شرعیہ یہ ہے کہ بیع میں ایسی شرط لگانا جو عقد کا تقاضا نہ ہو، نیز اُس میں کسی ایک فریق کا فائدہ ہو، تو اگر اُس پر تعامل نہ ہو، تو وہ شرط بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔ یہاں بھی بیع میں ایسی شرط لگائی جا رہی ہے، کہ نہ ہی وہ عقد کا مقتضیٰ ہے، نہ ہی اُس شرط پر تعامل ہے، نیز بائع کا واضح فائدہ ہے، لہذا اِس شرط کے سبب عقد فاسد ہو جائے گا۔
نیز دوسرے پہلو سے غور کیا جائے تو یہاں کمپنی کا نمائندہ چیز کی اصل قیمت کے علاوہ صرف ڈسپلے پر رکھنے کے لیے جداگانہ رقم دیتا ہے، حالانکہ یہ شرعاً رشوت ہے، کیونکہ نمائندہ یہ اضافی رقم صرف اپنا کام نکلوانے کے لیے دے رہا ہے اور وہ کام یہ ہے کہ چیز ڈسپلے پر لگے، گاہکوں کو نظر آئے اور اُسی کمپنی کی چیز کا تقاضا ہو اور بکتی رہے، الغرض پروڈکٹ کی سیل بڑھ جائے، چنانچہ الگ سے رقم دے کر ڈسپلے کروانے سے یہی مطلوب ہے اور یاد رکھیے کہ جو رقم محض اپنا کام نکلوانے کے لیے دی جائے، وہ رشوت ہوتی ہے اور رشوت کا لینا دینا ناجائز، حرام اور باعثِ لعنت ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیع اور شرط کو جمع کرنے سے منع فرمایا، چنانچہ مسند أبی حنیفۃ بروایۃ أبی نعیم میں ہے: أن النبي صلى اللہ عليه وسلم نهى عن بيع و شرط۔ ترجمہ: بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیع اور شرط کو جمع کرنے سے منع فرمایا۔ (مسند أبی حنیفۃ بروایۃ أبی نعیم، صفحہ 160، مطبوعہ مکتبۃ الکوثر)
اِس حدیث مبارک کے تحت علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 855ھ / 1451ء) نے بیع وشرط کے جواز وعدمِ جواز اور اُس کی صورتوں پر تفصیلی کلام فرمایا، چنانچہ وہ صورت کہ جو سوال کا جواب ہے، اُس کے متعلق لکھتے ہیں: البيع والشرط كلاهما فاسدان، و هو كل شرط لا يقتضيه العقد و لا يلائمه، و فيه منفعة لأحدهما أو للمعقود عليه۔ ترجمہ: خرید و فروخت اور شرط دونوں فاسد ہوں۔ اُس کی صورت یہ ہے کہ ہر ایسی شرط کہ جس کا تقاضا نہ تو عقد کرتا ہو اور نہ ہی عقد کے مناسب ہو، نیز اس شرط میں دونوں (خریدار اور بیچنے والے) میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو یا اس چیز کا فائدہ ہو جس چیز کا سودا کیا جا رہا ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد04، صفحہ 226، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)
تبیین الحقائق میں اِس اصلِ شرعی کو یوں بیان کیا گیا: أن كل شرط لا يقتضيه العقد و هو غير ملائم له و لم يرد الشرع بجوازه و لم يجز التعامل فيه وفيه منفعة لأهل الاستحقاق مفسد۔ ترجمہ:ہر وہ شرط جس کا نہ تو عقد تقاضا کر رہا ہو اور وہ عقد کے مناسب بھی نہ ہو ،شرع سے اس کا جواز بھی ثابت نہ ہو اور اس پر تعامل بھی نہ ہو اور اس میں اہل استحقاق کی منفعت ہو تو ایسی شرط بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 04، صفحۃ 57، مطبوعۃ القاهرہ)
فقہائےکرام نے مثال دی کہ گھر بیچا مگر یہ شرط رکھی کہ تم اِسے آگے کرائے پر نہیں دو گے، وغیر ذلک، تو فقہائے کرام نے ایسی شروط کہ جو مقتضائے عقد کے خلاف اور متعاقدین میں سے کسی کے فائدہ پر مشتمل ہوں، اُسے بشرطِ عدمِ تعامل ممنوع قرار دیا، چنانچہ الجوھرۃ النیرۃ میں ہے: فالبيع فاسد، لأن هذا شرط لايقتضيه العقد، و فيه منفعة للمشتري و كذا إذا كان الشرط فيه منفعة للبائع مثل أن يشتري دارا بشرط أن يسكنها البائع شهرا أو أرضا بشرط أن يزرعها البائع سنة۔ ترجمہ: یہ خرید و فروخت فاسد ہے؛ کیونکہ یہ ایسی شرط ہے جس کا عقد تقاضا نہیں کرتا اور اس میں خریدار کا فائدہ بھی ہے۔ اور اسی طرح اگر شرط میں بیچنے والے کا فائدہ ہو، جیسے کہ کوئی شخص اس شرط پر گھر خریدے کہ بیچنے والا ایک مہینہ اس میں رہے گا، یا اس شرط پر زمین خریدے کہ بیچنے والا ایک سال اس میں کھیتی باڑی کرے گا، تو یہ بھی بیع فاسد ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 01، صفحہ 203، مطبوعہ المطبعة الخيرية)
رشوت لینے اور دینے والے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لعنت فرمائی، چنانچہ سنن أبي داؤد میں ہے: لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم الراشي و المرتشي۔ ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت بھیجی۔ (سنن ابی داؤد، جلد 5، صفحہ 433، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیۃ، بیروت)
جو چیز بھی اپنا کام نکلوانے یا اپنی بات پر آمادہ کرنے کے لیے دی جائے، وہ رشوت ہے، چنانچہ حاشیۃ ابن عابدین میں رشوت کی تعریف یوں ہے: ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد۔ ترجمہ: وہ چیز جو کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو اِس غرض سے دیتا ہے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے یا اسے اس کام پر آمادہ کرے، جو وہ چاہتا ہے۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد 16، کتاب القضاء، صفحہ 282، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)
اپنا کام بنانے کے لئے جو کچھ دیاجائے وہ رشوت ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340 ھ /1921ء) لکھتے ہیں: رشوت لینا مطلقاً حرام ہے۔کسی حالت میں جائز نہیں۔جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے رشوت ہے، یوہیں (یونہی) جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد23، صفحہ 597، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10043
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1448ھ / 20 جون 2026ء