کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کرنسی ایکسچینج حلال کاروبار ہے، اس سے نفع کمانا، جائز ہے؟
جواب
کرنسی ایکسچینج کا کاروبار جس میں ایک ملک کی کرنسی کے بدلے دوسرے ملک کی کرنسی خریدی اور بیچی جاتی ہے، یہ شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ خرید و فروخت کے شرعی اصولوں کا لحاظ رکھا جائے، خصوصاً یہ کہ کرنسی کی خرید و فروخت حقیقی طور پر ہو اور یہ معاملہ طے شدہ ریٹ پر نقداً یعنی ہاتھوں ہاتھ کیا جائے؛ کیونکہ مختلف ممالک کی کرنسیاں فقہی اعتبار سے ایک ہی جنس شمار ہوتی ہیں اور ان کا باہم لین دین کمی بیشی کے ساتھ نقداً درست ہے، جبکہ ادھار ممنوع و ناجائز ہے۔ پس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار جائز طریقے پر کرتے ہوئے نفع کمانا تجارت کے قبیل سے ہے اور حلال ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔ (پارہ 3، سورۃ البقرۃ 2، آیت 275)
علامہ ابو الحسن علی بن ابی بكر الفرغانی المرغینانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 593ھ / 1197ء) لکھتے ہیں:و يجوز بيع الفلس بالفلسين بأعيانهما" ترجمہ: ایک سکے کو دو سکوں کے عوض، دونوں بدلوں کو معین کر کے بیچنا جائز ہے۔ (الهدایة شرح بدایة، کتاب البیوع، باب الربا، جلد 3، صفحہ 63، دار احیاء التراث العربي، بیروت)
امام كمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتے ہیں: لو باع فلسا بفلسين دينا فإنه لا يجوز اتفاقا لأن حرمة النساء تثبت باتحاد الجنس" ترجمہ: اگر کسی نے ایک سکے کو دو سکوں کے بدلے ادھار پر بیچا تو یہ بالاتفاق جائز نہیں؛ کیونکہ جنس کے متحد ہونے کی وجہ سے ادھار کی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ (فتح القدیر، کتاب الشركة، فصل ولا تنعقد الشركة إلا بالدراهم و الدنانير و الفلوس النافقة، جلد 6، صفحہ 168، دار الفکر، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: خود نوٹ کو نوٹ کے بدلے میں بیچنا بھی جائز ہے اور اگر دونوں معین کر لیں تو ایک نوٹ کے بدلے میں دو نوٹ بھی خرید سکتے ہیں، جس طرح ایک پیسہ سے معین دو پیسوں کو خرید سکتے ہیں۔ روپوں سے اس کو خریدا یا بیچا جائے تو جدا ہونے سے پہلے ایک پر قبضہ ہونا ضروری ہے۔ جو رقم اس پر لکھی ہوتی ہے اُس سے کم و بیش پر بھی نوٹ کا بیچنا جائز ہے، دس کا نوٹ پانچ میں بارہ میں بیع کرنا درست ہے، جس طرح ایک روپیہ کے ۶۴ کی جگہ سو پیسے یا ۵۰ پیسے بیچے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 832، مکتبة المدینہ، کراچی)
شرعی کونسل بریلی شریف کے فیصلہ جات میں ہے: ہر قسم کے کرنسی نوٹ خواہ ایک ملک کے ہوں یا مختلف ملک کے، سب ہی ثمن اصطلاحی اور مال متقوم ہیں۔ ممالک مختلفہ کے کرنسی نوٹ اگرچہ مختلف ناموں سے موسوم ہوں، نوع واحد ہیں؛ کہ ان سب کی اصل کاغذ ہے اور اغراض و مقاصد بھی متحد ہیں یعنی قوت خرید، اگرچہ کرنسی نوٹ مالیت میں مختلف ہیں اور یہ اختلاف تقوم کی قلت و کثرت کا ہے، نہ کہ نوع کا، یہ ایک ملک کے مختلف المالیۃ کرنسی نوٹ کی طرح ہیں۔ کرنسی نوٹوں کو دوسرے نوٹوں سے خواہ ایک ملک کے ہوں یا چند ممالک کے تعیین البدلین کے ساتھ ان پر لکھی ہوئی قیمتوں سے کم و بیش پر بیع کرنا، جائز ہے، البتہ ثمنیت کی وجہ سے احد البدلین پر قبضہ ضروری ہے۔ (فیصلہ جات شرعی کونسل، صفحہ 109 ملتقطاً، مرکز الدرسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا، بریلی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1247
تاریخ اجراء: 14 محرم الحرام 1448ھ / 30 جون 2026ء