آن لائن مرغی انویسٹمنٹ کا کاروبار کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آن لائن مرغی انویسٹمنٹ کا کاروبار کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
آج کل "ڈیجیٹل پولٹری فارمنگ"(Digital Poultry Farming) یا "آن لائن مرغی انویسٹمنٹ" کے نام سے ایک کاروبار کیا جارہا ہے، یہ پچھلے کچھ عرصے سے سوشل میڈیا اور مختلف ایپس کے ذریعے کافی پھیل رہا ہے۔
عام طور پر یہ کاروبار درج ذیل طریقے سے چلایا جاتا ہے:
کمپنی یا فارم والے آپ کو یہ پیشکش کرتے ہیں کہ آپ ان کے فارم میں موجود مرغیوں میں سے ایک یا زائد مرغیاں "خرید" لیں۔ آپ مرغی کی قیمت (مثلاً 1000 یا 1500 روپے) انہیں ادا کر دیتے ہیں، لیکن یہ مرغی آپ کو گھر لے جانے کے لیے نہیں ملتی، بلکہ فارم ہی میں رہتی ہے۔ وہ آپ کے ساتھ ایک وقت طے کرتے ہیں، مثلا چھ ماہ (6 Months)، اس مدت کے دوران وہ مرغی آپ کے نام پر "فکس" کر دی جاتی ہے۔ فارم والے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مرغی روزانہ جو انڈا دے گی، ہم اس انڈے کو مارکیٹ میں بیچ کر اس کے پیسے (مثلاً 20 سے 30 روپے روزانہ) آپ کے بینک اکاؤنٹ یا ایزی پیسہ/جیزکیش میں بھیجتے رہیں گے، یوں آپ کو گھر بیٹھے بغیر کچھ کیے روزانہ پیسے ملتے رہتے ہیں۔
جب معاہدے کی مدت (جیسے 6 ماہ) پوری ہو جاتی ہے، تو وہ مرغی آپ کے لیے "ختم" تصور کی جاتی ہے، اب نہ تو آپ کو وہ مرغی ملتی ہے، نہ اس کا گوشت ملتا ہے، اور نہ ہی آپ کو وہ رقم واپس ملتی ہے، جو آپ نے شروع میں مرغی خریدنے کے لیے دی تھی۔ یعنی آپ کا اس مرغی اور رقم سے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔
جواب
سوال میں درج تفصیل کے مطابق جو عقد (ایگریمنٹ) کیا جا رہا ہے، وہ شرعا درست نہیں ہے، اگر کسی نے یہ عقد کر لیا ہے، تو اس عقد کو ختم کرنا، ضروری ہے، اور اس عقد کے نتیجے میں اگر کچھ پرافٹ بھی لیا ہے، تو صرف اپنی دی ہوئی رقم پوری کی جائے، اور بقیہ واپس کر دی جائے ۔
اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
(الف) اول تویہ ذہن نشین رہے کہ! اس طرح کی ڈیجیٹل اور آئن لائن فرمز عام طور پر کوئی حقیقی پولٹری فارم نہیں رکھتیں، بلکہ ان کا مقصد خرید و فروخت وغیرہ کسی عقد شرعی کے نام پر لوگوں کا مال اکٹھا کرنا ہوتا ہے، اور لوگوں کو جو پرافٹ مل رہا ہوتا ہے، وہ بھی ایک دوسرے کی رقم ہی، ان کے درمیان گھوم رہی ہوتی، بعد والوں کی رقم سے پہلے والوں کو کچھ نفع دے دیا جاتا ہے، یوں لوگ مطمئن ہو کر مزید اپنی رقم جمع کرواتے جاتے ہیں، اور دوسروں کو شامل کرواتے جاتے ہیں، اور پھر جب بہت سارا پیسہ اس طرح کی فرمز کے پاس جمع ہو جاتا ہے، تو وہ اکاؤنٹ وغیرہ سب کچھ بلاک کر کے فرار ہو جاتے ہیں، اور لوگوں کا پیسہ ڈوب جاتا ہے۔
نوٹ: حیرت اس بات پر ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد نام و انداز بدل بدل کر اس طرح کی کمپنیاں مارکیٹ میں آتی رہتی ہیں، اور ہر دفعہ لوگ ان کے جھانسے میں پھنس کر فراڈ کا شکار ہوتے رہتے ہیں، لیکن سبق نہیں سیکھتے۔
حکم شرعی: پس اگر یہی صورت ہے کہ ان کے پاس مرغی وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے، تو یہ کسی شرعی عقد کے تحت داخل نہیں، اور اس صورت میں یہ رقم ان کے پاس قرض ہے، اور قرض پر نفع لینا سود ہے، لہذا اس صورت میں جتنی رقم دی ہے، بس اتنی رقم واپس لی جائے، اس سے زیادہ نہ لی جائے، اور آئندہ یہ ایگریمنٹ ہر گز نہ کیا جائے۔ اس کے قرض ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ:
مالک کی طرف سے اسے استعمال کی اجازت ہے، امانت کے طور پر نہیں دی گئی، اور اس کے عوض رقم بھی ملتی ہے، تو معنی قرض موجود ہے، اگرچہ قرض کہہ کر نہیں دی گئی، کہ عقود میں الفاظ کا نہیں بلکہ معانی کا اعتبار ہوتا ہے۔ در مختار میں قرض کی تعریف میں ہے ”عقد مخصوص ای بلفظ القرض ونحوه (يردعلى دفع مال مثلی۔۔۔لآخر ليرد مثله)“ ترجمہ: قرض ایک مخصوص عقد ہے جو قرض یا اس جیسے الفاظ کے ساتھ کیا جاتا ہے، جس میں کسی کو ایسامال دینا ہوتا ہے جو مثلی ہو تاکہ وہ اس کی مثل لوٹا دے۔(در مختار، فصل فی القرض، جلد 7، صفحہ 406، مطبوعہ: کوئٹہ)
بدائع الصنائع میں ہے ”إذا لم يمكن تصحيحها مضاربة تصحح قرضا؛ لأنه أتى بمعنى القرض، والعبرة في العقود لمعانيها“ ترجمہ: جب اسے مضاربت نہیں بنا سکتے تو قرض قرار دیا جائے گا، کیونکہ یہ قرض کے معنی میں ہے اور عقود میں ان کے معانی کا اعتبار ہوتا ہے۔ (بدائع الصنائع، ج 6، ص 86، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے دیہات کے ٹھیکے والی صورت کہ جس میں عین کے بدلے اجارہ ہوتا ہے، جو کہ کسی عقد شرعی کے تحت نہیں آتا، اس کے نفعے کو قرض کے بدلے نفع اور سود والی صورت شمار فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا: "صورت مستفسرہ میں وہ منافع قطعی سود اور حرام ہیں۔ حدیث میں ہے: کل قرض جر منفعۃ فہو ربا قرض سے جو نفع حاصل کیا جائے وہ سود ہے، بلکہ اس ٹھیکے کے دو برسوں میں سات سو روپے جو منافع کے بکر کو ملے وہ بھی حرام ہیں کہ دیہات کا ٹھیکہ جس طرح رائج ہے محض حرام ہے، جتنے پر ٹھیکہ دیا گیا اگر اس قدر نشست ہوئی اور وہ مالک کو دے دی گئی، تو اس کےلئے حلال ہے کہ اس کی ملک کا نفع ہے، اور اگر اس سے کم ہوئی اور مستاجر کو وہ رقم اپنے پاس سے پوری کرنی ہوئی، تو یہ زیادت مالک کو حرام ہے، اس کا حق اسی قدر ہے، جس قدر نشست ہوئی، مثلا پندرہ سو کو ٹھیکہ، اور کسی سال ہزار ہی بیٹھے تو یہ ہزار ہی مالک کو حلال ہیں، رقم قرارداد پوری کرنے کو پانچ سو اگر اور لے گا وہ حرام ہونگے، اور اگر کسی سال دو ہزار بیٹھے اور مستاجر مالک کو صرف پندرہ سو دے گا پانسو خود لے گا، یہ پانسو اس کو حرام ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 561، 562، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
(ب) پھر اگر بالفرض مرغی موجود ہو، اور خریداری بھی مقصود ہو، تب بھی مرغی کو متعین کرنا ضروری ہے، جبکہ یہاں مرغی متعین نہیں ہوتی، تو یہاں مبیع مجہول ہے، اور مبیع مجہول ہو، تو بیع فاسد ہوتی ہے، اور بیع فاسد میں مبیع پر جب تک قبضہ نہ کر لیا جائے، وہ ملکیت میں نہیں آتی، اور یہاں قبضہ ہوتا ہی نہیں، اور جب مبیع ملکیت میں نہیں، تو اس سے جو انڈے وغیرہ منافع حاصل ہوں گے، وہ بھی ملکیت میں نہیں آئیں گے، تو یوں ان کی رقم پر خریدار کا حق بھی نہیں ہوگا۔
در مختار میں ہے "(لو باع عدلا) من الثیاب (او غنما واستثنی واحدا بغیر عینہ) فسد" ترجمہ: کپڑوں کی ایک گٹھڑی خریدی یا بکریوں کا ریوڑ خریدا اور ایک غیر معین کا استثنا کیا، تو بیع فاسد ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب البیوع، ج 07، ص 71، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "بکریوں کا ایک ریوڑ خریدا اور ایک بکری غیر معین کا استثنا کیا تو بیع فاسد ہو گئی کہ معلوم نہیں وہ مستثنے کون ہے اور اس سے لازم آیا کہ مبیع مجہول ہوجائے۔" (بہار شریعت، ج 03، حصہ 11، ص 631، مکتبۃ المدینہ)
بہار شریعت میں ہے "بکریوں کے ریوڑ میں سے ایک بکری خرید سکتے ہیں اسی طرح ایک معین بکری کو مستثنے کر کے سارا ریوڑ بھی خرید سکتے ہیں اور غیر معین بکری کو نہ خرید سکتے ہیں نہ اُس کا استثنا کر سکتے ہیں۔" (بہار شریعت، ج03، حصہ 11، ص638، مکتبۃ المدینہ)
مجمع الضمانات میں ہے "والفاسد يفيد الملك عند القبض"ترجمہ:بیع فاسدمیں قبضے سے ملکیت حاصل ہوتی ہے ۔ (مجمع الضمانات، باب فی البیع، ص216، دارالکتاب الاسلامی)
المحیط الرضوی میں ہے " الفرع إنما يملك بتملك الأصل لمن يملك الأصل يجب أن يكون الفرع له"ترجمہ:فرع کی ملکیت اصل کی ملکیت کے سبب حاصل ہوتی ہے، توجواصل کامالک ہوگا، ضروری ہے کہ وہ فرع کابھی مالک ہو۔ (المحیط الرضوی، ج01، ص300)
(ج) اور اگر بالفرض یہ خرید و فروخت شرعا درست ہوتی، جس کے نتیجے میں مرغی، خریدار کی ملک ہو جاتی، اور اس سے حاصل ہونے والے انڈے بھی خریدار کی ملک ہوتے، اور یوں انڈوں کی قیمت پر خریدار ہی کا حق ہوتا، تو پھر جب تک خریدار کی ملکیت سے مرغی کے نکلنے کا کوئی سبب (بیع، تحفہ، صدقہ، اقالہ وغیرہ) نہ پایا جاتا، اس وقت تک مرغی اسی کی ملک رہتی، اور اس سے حاصل ہونے والے انڈے بھی اسی کی ملک رہتے، اور انڈے فروخت ہونے کی صورت میں ان کی رقم اسی کی ملک میں آتی، لیکن سوال میں درج تفصیل کے مطابق، مخصوص مدت کے بعد نہ مرغی ملتی ہے، نہ انڈوں کی رقم ملتی ہے، اور نہ اپنی دی گئی رقم واپس ملتی ہے، حالانکہ خریدار کی ملکیت سے مرغی کے نکلنے کا کوئی سبب (بیع، تحفہ، صدقہ اقالہ وغیرہ کچھ) بھی نہیں پایا جاتا۔ اور اگر کہیں کہ مخصوص مدت کے بعد اقالہ (بیع ختم ہو جانے والا معاملہ) ہو جاتا ہے، تو پھر قیمت خریدار کو واپس ملنی چاہیے، جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔
التحقیق الباھر میں ہے "والأصل عنده أن الزيادة في البيع البات للمشتري، تم البيع أو انفسخ" ترجمہ: امام اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیک قاعدہ یہ ہے کہ حتمی بیع کی صورت میں مبیع میں جو کچھ اضافہ ہو وہ خریدار کا ہوتا ہے، بیع تام ہوئی یا فسخ ہو گئی۔ (التحقیق الباھر، ج 02، ص 82)
رد المحتار میں ہے "زوائد المبيع للمشتري ولا يردها مع الأصل" ترجمہ: مبیع سے جو زوائد و فوائد حاصل ہوئے، وہ خریدار کے ہیں، اور (بیع فسخ ہونے کی صورت میں) اصل کے ساتھ زوائد کو نہیں لوٹائے گا۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 05، ص27، بیروت)
الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے "زوائد المبيع الحادثة في يد البائع، كثمرة ولبن وبيض، أمانة في يد البائع،" ترجمہ: مبیع کے زوائد جو بائع کے قبضہ میں پیدا ہوں جیسے پھل، دودھ اور انڈے وہ بائع کے پاس امانت شمار ہوں گے۔ (موسوعہ فقہیہ کویتیہ، ج 13، ص 277، مطبوعہ کویت)
در مختار میں اقالے کی شرائط شمار کرتے ہوئے فرمایا: "(و) الثاني (تصح بمثل الثمن الأول وبالسكوت عنه)" ترجمہ: اور اقالے کی دوسری شرط یہ ہے کہ وہ ثمن اول کی مثل کے بدلے درست ہوتا ہے، اور ثمن اول کے ذکر سے خاموشی برتی جائے، تو درست ہوتا ہے۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے "(قوله: وبالسكوت عنه) المراد أن الواجب هو الثمن الأول سواء سماه أو لا، قال في الفتح: والأصل في لزوم الثمن، أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين، وحقيقة الفسخ ليس إلا رفع الأول كأن لم يكن فيثبت الحال الأول، وثبوته برجوع عين الثمن إلى مالكه كأن لم يدخل في الوجود غيره وهذا يستلزم تعين الأول، ونفي غيره من الزيادة والنقص وخلاف الجنس اهـ." ترجمہ: مراد یہ ہے کہ اقالے کی صورت میں ثمن اول ہی واجب ہے، چاہے، اس کی صراحت کی ہو، یا نہ کی ہو۔ فتح القدیر میں فرمایا: اور ثمن کے لازم ہونے میں اصل یہ ہے کہ اقالہ عاقدین کے حق میں فسخ ہے، اور فسخ کی حقیقت یہی ہے کہ پہلے کو ختم کرنا، گویا کہ وہ ہوا ہی نہیں، تو پہلا حال ثابت ہو جائے گا، اور اس کا ثبوت اسی طرح ہوگا، کہ عین ثمن اس کے مالک کی طرف واپس جائے، گویا اس کے علاوہ کوئی اور وجود میں ہی نہیں آیا، اور یہ مستلزم ہے پہلے کے متعین ہونے کو اور اس کے علاوہ، کم، زیادہ، اور خلاف جنس کی نفی کو۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب البیوع، باب الاقالۃ، ج 05، ص 125، دار الفکر، بیروت)
العنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے "ولا يمكن أن يجتمع البدلان في ملك شخص واحد" ترجمہ: ایک ہی شخص کی ملکیت میں بدلین جمع نہیں ہو سکتے۔ (العنایۃ شرح الھدایۃ، ج 04، ص 39، دار الفکر، بیروت)
(د) نیز اس کو عقد اجارہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا، کہ ہم کہیں: "ایک مخصوص وقت تک کے لیے انڈوں کی صورت میں منافع لینے کے لیے مرغی کو اجارے پر لے لیا گیا ہے، "کیونکہ انڈے عین ہیں، اور اجارے میں جو منافع مقصود ہوتے ہیں، وہ عین نہیں ہوتے، اور عین کو حاصل کرنے کے لیے عقد اجارہ کرنا شرعا درست نہیں، سوائے چند مخصوص صورتوں کے، اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔
فتاوی خیریہ میں ہے ”اعلم أن الإجارة إذا وقعت على إتلاف الأعيان قصدا؛ كانت باطلة، فلا يملك المستأجر ما وجد من تلك الأعيان، بل هي على ما كانت عليه قبل الإجارة، فتؤخذ من يده إذا تناولها، ويضمنها بالاستهلاك؛ لأن الباطل لا يؤثر شيئا، فيحرم عليه التصرف فيه؛ لعدم ملكه وذلك كاستئجار بقرة ليشرب لبنها، أو بستان ليأكل ثمرته“ ترجمہ: جان لو کہ جب اجارہ قصداً اعیان کو تلف کرنے پر واقع ہو، تو وہ باطل ہوتا ہے، لہٰذا مستأجر ان اعیان میں سے جو چیز حاصل کرے، اس کا مالک نہیں بنتا، بلکہ وہ چیز اسی حالت پر رہتی ہے، جس پر اجارے سے پہلے تھی، چنانچہ جب وہ اسے لے لے، تو اس کے ہاتھ سے واپس لی جائے گی، اور اگر اسے ضائع کر دے، تو اس کا ضامن ہوگا؛ کیونکہ باطل عقد کوئی اثر پیدا نہیں کرتا، لہٰذا ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے اس میں تصرف کرنا حرام ہے، اور اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی گائے کو اس لیے اجرت پر لے کہ اس کا دودھ پئے یا باغ کو اس لیے اجرت پر لے کہ اس کا پھل کھائے۔ (فتاوی خیریہ، ج 3، ص 1165، دار انوار الازہر)
فتاوی رضویہ میں ہے "اصل کلی یہ ہے کہ جس طرح عقد بیع اعیان پر وارد ہوتا ہے یونہی اجارہ ایک عقد ہے کہ خالص منافع پر ورود پاتا ہے جس کا ثمرہ یہ ہوتا ہے کہ ذات شیئ بدستور ملک مالک پر باقی رہے اور مستاجر اس سے نفع حاصل کرے۔ جو اجارہ خاص کسی عین وذات کے استہلاک پر وارد ہو، محض باطل ہے اَللّٰہُمَّ اِلاَّ ماَ اسْتَثْنَاہُ الشَّرْعُ کَاِجَارَۃِ الظَّئر للْاِرْضاعِ (ہاں مگر وہ جس کوشرع نے مستثنٰی کردیا ہے جیسے دودھ پلانے کے لیے دائیہ کا اجارہ۔) وغیر ذلک، اسی لئے اگر باغ کو بغرض سکونت اجارہ میں لیا جائز، اور پھل کھانے کے لئے ناجائز، کہ سکونت منفعت اور ثمر عین گائے کو لادنے کے لئے اجارہ میں لیا جائز، دودھ پینے کو ناجائز، کہ لادنا منفعت ہے اور دودھ عیں حوض سنگھاڑھے رکھنے کے لئے اجارہ میں لیا جائز، مچھلیاں پکڑنے کو ناجائز، کہ سنگھاڑھے بونا منفعت ہے، مچھلیاں عین۔" (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 543، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5184
تاریخ اجراء: 20 محرم الحرام 1448ھ/06 جولائی 2026ء