معاہدہ ہونے کے بعد قیمت کم کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایگریمنٹ مکمل ہو جانے کے بعد قیمت میں کمی کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص کسی دکان پر جا کر اس سے کسی چیز کا ریٹ پوچھتا ہے، تو وہ دو سو روپے بتاتا ہے، اور خریدار اس پر عقد کر لیتا ہے، پھر وہ دکاندار کو رعایت کرنے کا بولتا ہے، تو دکاندار اس کو وہ چیز ایک سو پچاس روپے میں دے دیتا ہے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
ایگریمنٹ مکمل ہوجانے کے بعد، بیچنے والا اپنی مرضی سے قیمت میں کچھ کمی کردے، تو شرعاً ا س میں کوئی مضائقہ نہیں۔ چنانچہ علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ / 1196ء) لکھتے ہیں: و يجوز للبائع ان يزيد للمشتری فی المبيع، و يجوز ان يحط عن الثمن“ ترجمہ: بائع کا مشتری کیلئے مبیع میں اضافہ کرنااور ثمن میں کمی کرنا، جائز ہے۔ (الھدایۃ مع البنایۃ، کتاب البیوع، جلد 7، صفحہ 320، مطبوعہ: کوئٹہ)
عنایہ شرح ہدایہ میں ہے "باع عينا بمائة ثم زاد على المبيع شيئا أو حط بعض الثمن جاز" ترجمہ: بائع نے کوئی چیز سو میں بیچی پھر مبیع میں کچھ اضافہ کردیا یا کچھ ثمن کم کر دیا تو یہ جائز ہے۔ (عنایہ شرح ہدایہ، جلد 6، صفحہ 520، دار الفکر، بیروت)
امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) ایک سوال (اگر ایک جائیداد بیع کی جائے اور اسی مجلس خواہ دوسری مجلس میں بائع کل ثمن مشتری کو معاف کردے تو جائز ہے یا نہیں؟) کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: بیشک جائز ہے کہ بائع کوئی چیز بیچے اور اس مجلس خواہ دوسری میں کل ثمن یا بعض مشتری کو معاف کردے اور اس معافی کے سبب وہ عقد، عقد بیع ہی رہے گا اور اسی کے احکام اس پر جاری ہوں گے۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 246، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5086
تاریخ اجراء: 22 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 08 جون 2026ء