logo logo
AI Search

کمپنی سے ڈسکاؤنٹ پر مال خرید کر ادھار بیچنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کمپنی سے ڈسکاؤنٹ پر مال خرید کر دکانداروں کو ادھار پر بیچنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آئس کریم کی ایک نجی کمپنی نے یہ ہدف بنایا ہے کہ ہر ماہ ایک کروڑ کا مال نکالنا ہے، ان کے بروکر زپوری کوشش کے باوجود بیس دنوں میں صرف پچاس لاکھ کا مال نکالتے ہیں۔ اس پر کمپنی ہدف پورا کرنے کے لیے یہ آفر نکالتی ہے، کہ سات فیصد کے ڈسکاؤنٹ کے ساتھ دکانداروں کو مال دے دیا جائے، جبکہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ڈسکاؤنٹ کے بجائے ہمیں ادھار میں پوری قیمت پر مال دے دیا جائے۔ اس پر ایک بروکر اپنے دوست کا ذہن بناتا ہے کہ تم کمپنی کا یہ سارا پچاس لاکھ کا مال خرید لو اور دکانداروں کو ادھار پر پوری قیمت پر بیچ دو۔ دوست اس پر ایگری ہو جاتا ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اگر کمپنی اس بات پر ایگری ہو جائے کہ بروکر اپنے دوست کو بیچ دے اور دوست آگے دکانداروں کو پوری قیمت پر ادھار میں دے دے تو کیا یہ صورت شرعا درست ہو جائے گی ؟

نوٹ: بروکر کمپنی کا وقت کا اجیر ہے اور دوست سے اس پر کوئی کمیشن نہیں لے گا۔ ہاں دوست کو قبضہ دینے کے بعد کمپنی کی اجازت سے خود دکانداروں کو پہنچائے گا۔

جواب

پوچھی گئی صورت کے مطابق، بروکر کے دوست کا، کمپنی سے ڈسکاؤنٹ پرمال خریدنا، اور قبضہ کرنے کے بعد دوکانداروں کو زیادہ قیمت پر ادھار بیچنا اور کمپنی کی اجازت سے، بروکر کا، دوکانداروں کو پہنچانا، یہ تمام کام شرعا درست ہیں، ان میں ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں، ہاں بروکر چونکہ اجیر خاص ہے، تو جتنی دیر دکانداروں کو، مال پہنچانے میں، مصروف رہے گا، تو کمپنی سے، اتنے وقت تک کی، اجرت لینے کا، حق دار نہیں ہوگا، کیونکہ اب جو کام وہ کرے گا، تو وہ اپنے دوست کا کرے گا، نہ کہ کمپنی کا۔ اور کمپنی کے اجازت دینے سے، صرف اتنا فرق پڑے گا، کہ اب اسے گنہگار نہیں کہا جائے گا، لیکن اجرت کا وہ حق دار نہیں ہوگا، ہاں! کمپنی یہ جانتے ہوئے کہ یہ اتنے وقت کی اجرت کا حق دار نہیں ہے، احسانا دینا چاہے، تو جدا معاملہ ہے، اس کا اسے اختیار ہے۔ در مختارمیں ہے ”وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل“ ترجمہ: اور اجیر خاص، دوسرے کا، کام نہیں کر سکتا، اور اگر اس نے کیا، تو عمل کی مقدار کے مطابق، اس کی اجرت کم ہو جائے گی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الاجارۃ، ج 90، ص 118، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے ’’پھر از انجا کہ یہ شخص مشتر ی کا نوکر و اجیر خاص تھا جتنی مدت اس نے بائع کے کام میں صرف کی اتنی تنخواہ ساقط ہوگئی، مثلا دس روپے ماہوار کا نوکر تھا تین دن بائع کی طرف سے اس سعی میں گزرے تو ایک روپیہ تنخواہ کا مستحق نہ رہا، اور اگر بائع سے یہ عقد اجارہ بے اذن و اجازت مشتری ہوا، تو گناہ علاوہ کہ اجیر خاص کو بے اجازت آقا دوسرے کا کام کرنا جائز نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 454، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-10308
تاریخ اجراء: 14 جمادی الاولی 1442 ھ / 30 دسمبر 2020ء