logo logo
AI Search

غیر مسلم والدین کا چہرہ دیکھنے پر حج کا ثواب ملتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غیر مسلم والدین کا چہرہ دیکھنے سے حج کا ثواب ملے گا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر والدین غیر مسلم یعنی عیسائی ہوں، تو کیا ان کا چہرہ دیکھنے سے بھی مقبول حج کا ثواب ملے گا؟

جواب

مختلف کتبِ احادیث میں یہ روایت موجود ہے کہ جو شخص اپنے والدین کے چہرے کی طرف محبت و رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے، تو اللہ عزوجل اس کے لیے مقبول حج کا ثواب لکھتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہاں والدین سے مراد مسلم والدین ہیں، لہٰذا غیر مسلم، مثلاً عیسائی والدین کی طرف دیکھنے سے مقبول حج کا ثواب حاصل نہیں ہوگا۔

ضروری تنبیہ: والدین اگرچہ غیر مسلم ہوں، پھر بھی شریعتِ مطہرہ نے ان کے ساتھ حسنِ سلوک، اچھا برتاؤ، ان کی خدمت اور ان کی جانب سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے اور اس حکمِ شرعی پر عمل کی وجہ سے اولاد کو ان شاء اللہ ثواب بھی ملے گا۔ ہاں! اگر وہ شرک یا کسی ایسے کام کا حکم دیں، جو شریعت کے خلاف ہو، تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔

والدین کی طرف نظر رحمت سے دیکھنے والے لیے مقبول حج کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ چنانچہ اما م ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 458ھ) لکھتے ہیں: عن ابن عباس أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: ما من ولد بار ينظر نظرة رحمة إلا كتب اللہ بكل نظرة حجة مبرورة، قالوا و إن نظر كل يوم مائة مرة؟ قال: نعم اللہ اكبر و أطيب" ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جو نیک بچہ (اپنے والدین کو) رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے، تو اللہ عزوجل ہر نظر کے بدلے اس کے لیے مقبول حج کا ثواب لکھتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگر چہ ہر دن سو مرتبہ دیکھے؟ تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ہاں! اللہ عزوجل بہت بڑا اور پاک ہے۔ (شعب الایمان، جلد 6، صفحہ 186، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اسی طرح علامہ علاء الدین علی المتقی الہندی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 975ھ) لکھتے ہیں: ما من رجل ينظر إلى وجه والديه نظرة رحمة إلا كتب له بها حجة مقبولة مبرورة" ترجمہ: جو شخص اپنے والدین کے چہرے کی طرف رحمت کی نظر دیکھتا ہے، تو اللہ عزوجل اس کے لیے حجِ مبرور و مقبول کا ثوب لکھتا ہے۔ (کنز العمال، جلد 16، صفحہ 469، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ عبدالرؤوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1031ھ) لکھتے ہیں: (ما من رجل) أي انسان (ينظر الى وجه والديه) أي اصليه المسلمين (نظر رحمة الا كتب اللہ) أي قدر أو أمر الملائكة ان تكتب (له بها حجة مقبولة مبرورة) أي ثوابا مثل ثوابها" ترجمہ: جو شخص اپنے مسلمان والدین کے چہرے کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے، تو اللہ عزوجل اس کے لیے لکھتا ہے یعنی اس کے لیے مقدر فرمادیتا ہے یا فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کے لیے حج مقبول مبرور کے ثواب کی مثل ثواب لکھا جائے۔ (التیسیر بشرح جامع الصغیر، جلد 2، صفحہ 362، مطبوعہ الریاض)

اسی طرح علامہ عزیزی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1070ھ) لکھتے ہیں: (ما من رجل ينظر إلى وجه والديه) أي أصليه المسلمين" ترجمہ: جو شخص اپنے والدین کے چہرے کی طرف دیکھے یعنی اپنے مسلمان والدین (کے چہرے کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھے، تو اس کو مقبول حج کا ثواب ملتا ہے)۔ (السراج المنیر، جلد 3، صفحہ 285، مطبوعہ دار النوادر)

والدین کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ- فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘- وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ- ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور اگر وہ دونوں تجھ پر کوشش کریں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرائے، جس کا تجھے علم نہیں، تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے اور میری طرف رجوع کرنے والے آدمی کے راستے پر چل، پھر میری ہی طرف تمہیں پھر کر آنا ہے، تو میں تمہیں بتادوں گا جو تم کرتے تھے۔ (القرآن، پارہ 21، سورۂ لقمٰن، آیت: 15)

والدین اگر کفر وشرک کا حکم دیں، تو ان کی اطاعت نہ کی جائے گی، البتہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم ہے۔ چنانچہ مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: والدین کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے، لیکن اگر وہ وہ شرک یا گناہ کرنے کا حکم دیں، توان کی اطاعت نہ کر، کیونکہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ دین اسلام میں والدین کی خدمت کرنے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کو ایک خاص اہمیت دی گئی ہے اور اس سے متعلق مسلمانوں کو خصوصی احکامات دئیے گئے ہیں، حتی کہ کافر والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے، ان کی خدمت کرنے، ان کی طرف سے پہنچنے والی سختیوں اور نازیبا باتوں پر برداشت کا مظاہرہ کرنے اور ان پر احسان کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ (صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 491، 492، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: GUJ-0138
تاریخ اجراء: 04 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 21مئی 2026ء