logo logo
AI Search

بچپن میں چوری کی ہوئی رقم کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نابالغی میں چوری کی ہوئی رقم واپس کرنی ہوگی یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی نے نابالغی میں کسی کی رقم چوری کی اور اب بالغ ہونے کے بعد اس پر توبہ بھی کر لی، تو کیا یہ رقم بھی لوٹانی ہوگی؟

جواب

نابالغ نے اگر کسی کی رقم چوری کی ہے تو اس پر بھی وہ لوٹانا لازم ہے، اگر نہیں لوٹائی اور مالک نے معاف بھی نہیں کی تو یہ رقم ذمہ پر رہے گی اگرچہ بالغ ہوجائے، لہٰذا مالک کو تلاش کر کے اسے لوٹائے، اگر مالک کا انتقال ہوگیا ہے تو اس کے ورثاء کو دے، اور اگر تلاش کے باوجود مالک اور اس کے ورثاء کا پتہ نہیں چلتا تو یہ رقم شرعی فقیر پر صدقہ کرنا لازم ہے۔

نابالغ اگر کسی کی چیز تلف کردے تو اس سے ضمان لیا جائے گا چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ’’فعل میں حجر نہیں ہوتا یعنی ان کے افعال کو کالعدم نہیں سمجھا جائے گا بلکہ ان کا اعتبار کیا جائے گا لہٰذا نابالغ یامجنون نے کسی کی کوئی چیز تلف کر دی تو ضمان واجب ہے فی الحال تاوان وصول کیا جائے گا یہ نہیں کہ جب وہ بالغ ہو یا مجنون ہوش میں آئے اس وقت تاوان وصول کریں۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 3، صفحہ 201، مکتبۃ المدینہ کراچی)

کسی کا مال ذمہ پر ہے مگر نہ مالک کا پتا ہے نہ اس کے ورثاء کا تو اسے فقرا پر صدقہ کردے چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ’’لوگوں کے دَین یا حقوق اس کے ذمہ ہیں مگر نہ اُن کا پتا ہے نہ اُن کے ورثہ کا تو اُتنا ہی اپنے مال ميں سے فقرا پر تصدق کرے آخرت کے مؤاخدہ سے بری ہو جائے گا اور اگر قصداً غصب کیا ہے تو توبہ بھی کرے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 2، صفحہ 483-484، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2471

تاریخ اجراء:19 ربیع الاول1447ھ/13 ستمبر 2025ء