والدین کی مالی مدد کرنے کا کتنا ثواب ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
والدین کی مالی امداد کرنے پر ثواب
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
قرآن پاک میں احسان بالوالدین (یعنی ماں باپ کے ساتھ اچھاسلوک کرنے)کاحکم ارشادہواہے، اور ماں باپ کی مالی خدمت کرنا بھی احسان بالوالدین میں شامل ہے، جو کہ ضرو ر بالضرور زبردست اجرو ثواب کا کام ہے، جسے اللہ پاک نے قرآن پاک میں اپنی عبادت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ نیز مالی سلوک عام مسلمان کے ساتھ کرنا بھی صدقہ ہے اورباعث اجرو ثواب ہے، تووالدین کے ساتھ مالی سلوک کرنا بدرجہ اولی ثواب کاکام ہوگا، بلکہ اس میں دوہرا ثواب ہے، ایک تو صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
چنانچہ ارشاد ربانی ہے: ﴿وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ (پارہ 15، سورۃ الاسراء، آیت 23)
تفسیر نور العرفان میں اس آیت کے تحت ہے اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ رب کی عبادت مخلوق کی اطاعت پر مقدم ہے، خیال رہے کہ حضور کی اطاعت رب کی عبادت میں داخل ہے۔ دوسرے یہ کہ تمام رشتہ داروں میں ماں باپ کی فرماں برداری مقدم ہے کہ رب تعالیٰ نے اسے اپنی عبادت کے ساتھ فرمایا، تیسرے یہ کہ ماں باپ کافر بھی ہوں جب بھی ان کے حقوق اداکرے؛ کیونکہ رب نے والدین کو بغیر قید کے ارشاد فرمایا۔ چوتھے یہ کہ ماں باپ کی جسمانی خدمت بھی کرے اور مالی بھی؛ کیونکہ احسان بغیر کسی قید کے ذکر ہوا۔ پانچویں یہ کہ عبادت رب کے سوا کسی کی جائز نہیں اطاعت اللہ کی بھی ہوگی رسول کی بھی۔ یوں تو ہمیشہ ہی ماں باپ کی خدمت ضروری ہے مگر ضرورت کے وقت بہت ضروری مسئلہ یہ ہے کہ بلاضرورت ان کی خدمت مستحب ہے اور ضرورت کے وقت واجب ہے لہذا بیماری لاچاری، میں ان کی خدمت واجب ہے۔ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 342، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
بخاری شریف میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرمایا: إنك لن تنفق نفقة إلا أجرت عليها، حتى اللقمة ترفعها إلى في امرأتك" ترجمہ: تم جو بھی خرچ کروگے، اس پر تمہیں ضرور اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔ (صحیح بخاری، صفحہ 1224، رقم الحدیث 6733،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
صحیح البخاری میں ہے ”عن زينب امرأة عبد اللہ - بمثله سواء - قالت: كنت في المسجد، فرأيت النبي صلى اللہ عليه وسلم فقال: «تصدقن ولو من حليكن» وكانت زينب تنفق على عبد اللہ، و أيتام في حجرها، قال: فقالت لعبد اللہ: سل رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أيجزي عني أن أنفق عليك و على أيتام في حجري من الصدقة؟ فقال: سلي أنت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، فانطلقت إلى النبي صلى اللہ عليه و سلم، فوجدت امرأة من الأنصار على الباب، حاجتها مثل حاجتي، فمر علينا بلال، فقلنا: سل النبي صلى اللہ عليه و سلم أيجزي عني أن أنفق على زوجي، و أيتام لي في حجري؟ و قلنا: لا تخبر بنا، فدخل فسأله، فقال: «من هما؟» قال: زينب، قال: «أي الزيانب؟» قال: امرأة عبد اللہ، قال: «نعم، لها أجران، أجر القرابة و أجر الصدقة»
ترجمہ: حضرت زینب، جو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، سے اسی طرح کی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں تھی، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے فرمایا: صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو۔ حضرت زینب، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پر اور ان یتیموں پر خرچ کیا کرتی تھیں جو ان کی پرورش میں تھے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبداللہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ کیا میرے لیے یہ کافی ہو جائے گا کہ میں صدقہ میں سے تم پر اور ان یتیموں پر خرچ کروں جو میری پرورش میں ہیں؟ انہوں نے کہا: تم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ لو۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، تو دروازے پر ایک انصاری عورت کو پایا، اس کی حاجت بھی میری ہی حاجت جیسی تھی، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ کیا میرے لیے یہ کافی ہو جائے گا کہ میں اپنے شوہر پر اور اپنے ان یتیموں پر خرچ کروں جو میری پرورش میں ہیں؟ اور ہم نے کہا: ہمارے بارے میں آپ کو نہ بتانا۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں کون ہیں؟ عرض کیا: زینب۔ آپ نے فرمایا: کون سی زینب؟ عرض کیا: عبداللہ کی بیوی۔ آپ نے فرمایا: ہاں، اس کے لیے دو اجر ہیں: قرابت داری کا اجر اور صدقہ کا اجر۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 1466، ص 272،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5191
تاریخ اجراء: 29 محرم الحرام 1448ھ / 15 جولائی 2026ء