بیماری سے شفا کے لئے مرد کا چھلا پہننا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کسی مرض سے شفا یابی کے لئے مرد کا چھلا پہننا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ بواسیر، بلڈ پریشر کے مرض سے شفا یابی کے لئے کسی دھات مثلاً لوہے، تانبے وغیرہ کا دم کیا ہوا چھلا انگلی میں پہن لیتے ہیں، تو کیا مرد کو اس مقصد کے لئے چھلا پہننا جائز ہے؟ سائل: مولانا محمد وسیم مدنی (G-11، اسلام آباد)
جواب
مرد کے لئے ساڑھے چار ماشے سے کم چاندی کی، ایک نگ والی، ایک انگوٹھی پہننا، جائز ہے۔ بغیر نگ والی یا ایک سے زائد نگوں پر مشتمل انگوٹھی/ چھلا پہننا شرعاً جائز نہیں ہے، مرد انہیں پہنے گا، تو گناہ گار ہو گا، نیز شریعتِ مطہرہ کے قوانین کے مطابق کسی بھی حرام چیز کو بطورِ دوا استعمال کرنا حرام ہے، ہاں! اگر اس چیز کے علاوہ کوئی اور دوا نہ ملے اور کوئی مسلمان طبیبِ حاذق غیر فاسق نے بتایا ہو کہ اس میں شفاء ہے، تو اس خاص صورت میں اجازت کی صورت نکل سکتی ہے (لیکن اس طرح کی کسی بھی چیز کے متعلق از خود فیصلہ کرنے کی بجائے معتمد علماء سے ہی رہنمائی حاصل کی جائے)، لیکن یہاں تو ذکر کردہ دونوں باتیں متحقق نہیں، کیونکہ بواسیر اور بلڈ پریشر کا علاج نہ تو چھلا پہننے پر موقوف ہے اور نہ ہی عام طور پر کوئی شریعت کا پابند ماہر ڈاکٹر اسے پہننے کی تجویز دیتا ہے اور نہ ہی اس سے شفاء کا ظن غالب، لہذا اس مقصد کے لئے مرد کے لئے کسی بھی دھات کا چھلا پہننا جائز نہیں ہے۔
مرد کے لئے چاندی کے علاوہ کسی دھات کی انگوٹھی/چھلا پہننا، جائز نہیں ہے۔ سنن ابی داؤد میں حضرت سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں: ’’جاء الى النبي صلى اللہ عليه وسلم وعليه خاتم من شبه، فقال له: ما لي اجد منك ريح الاصنام، فطرحه، ثم جاء وعليه خاتم من حديد، فقال: ما لي ارى عليك حلية اهل النار، فطرحه، فقال: يا رسول اللہ ، من اي شيء اتخذه؟ قال: اتخذه من ورق، ولا تتمه مثقالا‘‘ ترجمہ: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیتل کی انگوٹھی پہنے ہوئے حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بو آتی ہے؟ انھوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آئے، فرمایا: کیا بات ہے کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے ہو؟ اسے بھی پھینکا اور عرض کی: یا رسول ﷲ! کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایا: چاندی کی بناؤ اور ایک مثقال پورا نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 228، مطبوعہ لاہور)
در مختار میں ہے: ’’ان التختم بالفضۃ حلال للرجال بالحدیث وبالذھب والحدید والصفر حرام علیھم بالحدیث‘‘ ترجمہ: احادیث کی رو سے چاندی کی انگوٹھی مردوں کے لئے حلال ہے اور سونے، لوہے اور پیتل کی انگوٹھی ان پر حرام ہے۔ (در مختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی اللبس، جلد 9، صفحہ 594، مطبوعہ پشاور)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ہاتھ خواہ پاؤں میں تانبے، سونے، چاندی، پیتل، لوہے کے چھلّے یا کان میں بالی یا بُندا یا سونے خواہ تانبے، پیتل، لوہے کی انگوٹھی، اگرچہ ایک تار کی ہو یا ساڑھے چار ماشے چاندی یا کئی نگ کی انگوٹھی یا کئی انگوٹھیاں، اگرچہ سب مل کر ایک ہی ماشہ کی ہوں کہ یہ سب چیزیں مردوں کو حرام و ناجائز ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 307، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک مقام پر سوال ہوا کہ لوہے یا تانبے کا چھلا بعض لوگ اس گمان سے پہنتے ہیں کہ مہاسے وغیرہ کے لئے مفید ہے، تو اس مقصد کے لئے پہننا جائز ہو گا یا نہیں؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ’’چاندی سونے کے سوا لوہے، پیتل، رانگ کا زیور عورتوں کو بھی مباح نہیں، چہ جائیکہ مردوں کے لئے اور عوام کا یہ اختراعی خیال ممانعتِ شرع کو رفع نہیں کر سکتا، (اس لئے) کہ اگر ناجائز چیز کو دوا کے لئے استعمال کرنا، جائز بھی ہو تو وہاں کہ، اس کے سوا دوا نہ ملے اور یہ امر طبیب حاذق مسلمان غیر فاسق کے اخبار سے معلوم ہوا (ہو) اور یہاں دونوں امر متحقق نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 153 تا 154، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نوٹ: فی زمانہ جید علماء نے امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں عمومِ بلوی کی وجہ سے عورتوں کے لئے سونے، چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کے زیورات پہننے کے متعلق جواز کا فتوی دیا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-6986
تاریخ اجراء: 13 ذو القعدۃ الحرام 1443ھ/13 جون 2022ء